🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

722. اضْطِرَابُ حَسَّانَ وَقْتَ نُزُولِ سُورَةِ الشُّعَرَاءِ وَتَسَلِّي النَّبِيِّ لَهُ
سورۂ شعراء کے نزول کے وقت سیدنا حسان رضی اللہ عنہ کی گھبراہٹ اور نبی کریم ﷺ کا انہیں تسلی دینا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6178
أخبرني محمد بن إبراهيم بن الفضل المزكِّي، حَدَّثَنَا أحمد بن سَلَمة، حَدَّثَنَا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عَبْدة بن سليمان، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن عائشة قالت: استأذَنَ حسانُ بن ثابتٍ رسولَ الله ﷺ في هِجاء المشركين، فقال رسول الله ﷺ:"فكيف بنَسَبي فيهم؟" فقال حسان: لأَسُلَّنَّك منهم كما تُسَلُّ الشَّعرةُ من العَجين. قال هشام: قال أَبي: وذهبتُ أسبُّ حسانَ عند عائشة، فقالت: لا تسبَّ حسانَ، فإنه كان ينافحُ عن رسول الله ﷺ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه هكذا! إنما أخرجه مسلم (1) بطوله من حديث الليث عن خالد بن يزيد، وذكر فيه القصيدةَ بطولها: هَجَوتَ محمدًا وأجبتُ عنهُ … وعندَ اللهِ في ذاكَ الجزاءُ
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6063 - على شرط البخاري ومسلم
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کی ہجو کرنے کی اجازت مانگی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ان کی ہجو کیسے کرو گے؟ کیونکہ خود میرا نسب بھی تو انہیں میں ملتا ہے؟ تو سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے عرض کی: حضور صلی اللہ علیہ وسلم میں آپ کو اس ہجو سے یوں نکال لوں گا جیسے مکھن سے بال نکالا جاتا ہے۔ ہشام کہتے ہیں: میں ام المومنین کے پاس حسان کی برائی کرنے لگا تو ام المومنین نے مجھے ان کی برائی کرنے سے منع کر دیا اور فرمایا: وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع کیا کرتا تھا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اس حدیث کو اس طرح نقل نہیں کیا۔ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے لیث کی خالد بن یزید کی سند کے ہمراہ مفصل حدیث بیان کی ہے اور اس میں مفصل قصیدہ بھی موجود ہے۔ جس قصیدے کا ایک شعر یہ بھی ہے۔ تو نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی برائی کی ہے، میں نے اس کا جواب دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس کا بہترین اجر ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6178]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6179
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا الحسن بن علي بن عفّان، حَدَّثَنَا أبو أسامة، عن الوليد بن كَثير، عن يزيد بن عبد الله بن قُسَيط، عن أبي الحسن مولى بني نَوفَل: أنَّ عبد الله بن رَوَاحة وحسّانَ بن ثابت أتَيا رسولَ الله ﷺ حين نزلت ﴿طسم﴾ الشعراء يبكيان، وهو يقرأُ عليهم: ﴿وَالشُّعَرَاءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوُونَ﴾ حتَّى بلغ ﴿وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ﴾ قال:"أنتم" ﴿وَذَكَرُوا الله كَثِيرًا﴾ قال:"أنتم" ﴿وَانتَصَرُوا مِنْ بَعْدِ مَا ظُلِمُوا﴾ قال:"أنتم" (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6064 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
بنی نوفل کے آزاد کردہ غلام ابوالحسن فرماتے ہیں کہ جب سورۃ شعراء نازل ہوئی تو سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں روتے ہوئے حاضر ہوئے، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ آیات تلاوت کر رہے تھے: وَالشُّعَرَاءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوُونَ أَلَمْ تَرَ أَنَّهُمْ فِي كُلِّ وَادٍ يَهِيمُونَ وَأَنَّهُمْ يَقُولُونَ مَا لَا يَفْعَلُونَ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَذَكَرُوا اللَّهَ كَثِيرًا وَانْتَصَرُوا مِنْ بَعْدِ مَا ظُلِمُوا وَسَيَعْلَمُ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَيَّ مُنْقَلَبٍ يَنْقَلِبُونَ (الشعراء 24 تا 27) جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آیت میں وعملوا الصالحات کے الفاظ پر پہنچے تو فرمایا: (اس سے مراد) تم لوگ (ہو)۔ اور جب و ذکرو اللہ کثیرا کے الفاظ پر پہنچے تو پھر فرمایا (اس سے مراد) تم لوگ (ہو) پھر جب وانتصروا من بعد ما ظلموا پر پہنچے تو پھر فرمایا: (اس سے مراد) تم لوگ (ہو)۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6179]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں