المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
733. ذِكْرُ مَنَاقِبِ مَسْلَمَةَ بْنِ مَخْلَدٍ الْأَنْصَارِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -
سیدنا مسلمة بن مخلد انصاری رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان
حدیث نمبر: 6206
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حَدَّثَنَا إبراهيم بن أبي طالب، حَدَّثَنَا محمد بن المثنَّى، حَدَّثَنَا محمد بن جعفر، حَدَّثَنَا شُعبة، عن منصور، سمع مجاهدًا يحدِّث عن يزيد بن شَجَرة الرُّهاوي، وكان من أمراءِ الشام، وكان معاويةُ يستعملُه على الجيوش، فخَطَبَنا ذات يوم، فقال: أيها الناسُ، اذكُروا نِعمةَ الله عليكم، لو تَرُونَ ما أَرى من أسودَ وأحمرَ وأخضَرَ وأبيضَ، وفي الرِّحال ما فيها، إنها إذا أُقيمت الصلاةُ فُتِحَت أبوابُ السماء وأبوابُ الجنة وأبوابُ النار، وزُيِّنَ الحُورُ ويَطَّلِعنَ، فإذا أقبل أحدُهم بوجهه إلى القتال قلنَ: اللهمَّ ثبِّتْه، اللهمَّ انصُرْه، وإذا وَلَّى احتجَبْن منه، وقلنَ: اللهمَّ اغْفِرْ له، اللهمَّ ارحَمْه، فانهَكُوا وجوهَ القوم (1) فِداكم أبي وأمي، فإن أحدكم إذا أقبل كانت أولُ نفحةٍ من دمه تَحُطُّ عنه خطاياه كما يُحَطُّ ورقُ الشجر، وتَنزِلُ إليه ثنتان من الحُور العِينِ فتمسحانِ الغبارَ عن وجهه، فيقول لهما: أَنَى (2) لكما؟ وتقولان: لا، بل أَنَى لك، ويُكسَى مئةَ حُلَّة، لو جُعلَت بين إصبعيَّ هاتين - يعني السَّبابة والوسطى - لوَسِعَتاه، ليس من نَسْج بني آدم، ولكنْ من ثياب الجنة. إنكم مكتوبون عند الله بأسمائكم وسِيماكم وحُلَاكم ونَجْواكم ومجالسِكم، فإذا كان يومُ القيامة قيل: يا فلانُ هذا نورُك، ويا فلانُ لا نورَ لك، وإنَّ لجهنَّم ساحلًا كساحل البحر، فيه هَوَامُّ وحيّاتٌ كالنَّخل وعقاربُ كالبغال، فإذا استغاث أهلُ جهنّم أن يُخفَّف عنهم قيل: اخرجوا إلى الساحل، فيخرجون فتأخذ الهوامُّ بشِفاهِهم ووجوهِهم، وما شاء الله فيَكشِفُهم فيَستغيثون فِرارًا منها إلى النار، ويُسلَّطُ عليهم الجَرَبُ، فيَحُكُّ أَحدُهم جلدَه حتَّى يَبدُوَ العظمُ، فيقول أحدهم: يا فلان، هل يؤذيكَ هذا؟ فيقول: نعم، فيقول: ذلك بما كنتَ تُؤْذي المؤمنين (3) . ذكرُ مناقب مَسلَمة بن مُخلَّد الأنصاري ﵁ -
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6087 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6087 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
مجاہد، سیدنا یزید بن شجرہ رہاوی رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ وہ شام کے امراء میں سے تھے، سیدنا معاویہ انہیں کو لشکر کا سپہ سالار بنایا کرتے تھے، ایک دن انہوں نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: اے لوگو! اللہ تعالیٰ نے تم پر جو نعمتیں کی ہیں ان کو یاد کرو، کاش کہ تم بھی وہ کالے، سرخ، سبز اور سفید سب کچھ دیکھ پاؤ جو میں دیکھتا ہوں۔ اور خیموں میں جو کچھ ہے وہ بھی دیکھ پاؤ کہ جب نماز کے لئے جماعت کھڑی ہوتی ہے تو آسمان کے، جنت کے اور دوزخ کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور حوریں بن سنور کر ظاہر ہوتی ہیں۔ جب کوئی شخص جہاد کے لئے نکلتا ہے تو وہ حوریں کہتی ہیں ” یا اللہ! اس کو ثابت قدمی عطا فرما، یا اللہ اس کی مدد فرما “۔ جب وہ بندہ لوٹ کر آتا ہے تو وہ چھپ جاتی ہیں اور کہتی ہیں ” یا اللہ اس کی مغفرت فرما، یا اللہ اس پر رحم فرما “ (پھر سیدنا یزید بن شجرہ نے فرمایا: اے لوگو) میرے ماں باپ تم پر قربان ہو جائیں، تم قوم پر حملہ کرو، کیونکہ تمہارے خون کا پہلا قطرہ زمین پر گرتے ہی تمہارے گناہ اس طرح جھڑ جاتے ہیں جیسے خشک درخت کے پتے جھڑتے ہیں۔ دو حوریں اس کے پاس اس کے چہرے سے غبار صاف کرتی ہیں۔ وہ ان کو کہتا ہے: میں تمہارے لئے ہوں، وہ آگے سے کہتی ہیں: اور ہم تیرے لئے ہیں۔ اس کو ایک سو قیمتی جوڑے پہنائے جاتے ہیں (وہ جوڑے اس قدر نازک ہوتے ہیں کہ) ان سب کو اگر میں دو انگلیوں کے درمیان رکھنا چاہوں تو وہ ان میں سما جائیں گے۔ وہ انسانوں کے بنائے ہوئے کپڑے نہیں ہوں گے بلکہ وہ جنت سے لائے ہوئے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں تمہارے نام، تمہاری نشانیاں، تمہاری زیبائش، تمہاری سرگوشیاں اور تمہاری مجالس لکھی ہوئی ہیں۔ جب قیامت کا دن ہو گا، تو تمہیں یوں آواز دی جائے گی ” اے فلاں شخص! یہ تیرا نور ہے، اور اے فلاں! تیرا کوئی نور نہیں ہے، اور بیشک جہنم کا ایک ساحل ہے جیسے سمندر کا ساحل ہوتا ہے، اس کے اندر درختوں جتنے بڑے کیڑے اور سانپ ہوں گے اور خچر جتنے بڑے سانپ ہوں گے، جب جہنمی لوگ عذاب میں تخفیف کے لئے مدد مانگیں گے تو ان کو کہا جائے گا کہ ساحل کی جانب نکل جاؤ، وہ لوگ ساحل پر آئیں گے، لیکن وہ زہریلے جانور اس کو چہروں اور ہونٹوں سے نوچ لیں گے، پھر وہ اس کو چھوڑیں گے تو وہ ان سے چھوٹ کی آگ کی جانب بھاگنا چاہیں گے، پھر ان پر خارش مسلط کر دی جائے گی، جس سے ان کی جلد جھڑ جائے گی، حتیٰ کہ ان کی ہڈیاں ننگی ہو جائیں گی۔ پھر وہ لوگ ایک دوسرے سے پوچھیں گے: اے فلاں! کیا تمہیں بھی اسی طرح کی تکلیف ہو رہی ہے؟ وہ کہے گا: ہاں۔ وہ کہے گا: یہ اس لئے ہے کہ تو مسلمانوں کو تکلیف دیا کرتا تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6206]