المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
757. دُعَاءُ أَبِي هُرَيْرَةَ بِعِلْمٍ لَا يُنْسَى وَتَأْمِينُ النَّبِيِّ
ابو ہریرہ کی وہ دعا جس میں بھلایا نہ جانے والا علم مانگا گیا اور نبی کریم ﷺ کا اس پر آمین کہنا
حدیث نمبر: 6282
حَدَّثَنَا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الأصبهاني، حَدَّثَنَا الحسين بن حفص، حَدَّثَنَا حمّاد بن شعيب، عن إسماعيل بن أُمية، أنَّ محمد بن قيس بن مَخرَمة حدَّثه: أنَّ رجلًا جاء زيدَ بنَ ثابت فسأله عن شيء، فقال له زيد: عليكَ بأبي هريرة، فإنه بَيْنا أنا وأبو هريرة وفلانٌ في المسجد ذاتَ يومٍ ندعو الله تعالى ونَذكُر رَبَّنَا، خَرَجَ علينا رسولُ الله ﷺ حتَّى جَلَسَ إلينا، قال: فجلس وسكَتْنا (2) ، فقال:"عُودُوا للذي كنتُم فيه"، قال زيد: فدعوتُ أنا وصاحبِي قبلَ أبي هريرة، وجعل رسولُ الله ﷺ يُؤمِّن على دعائنا، قال: ثم دعا أبو هريرة فقال: اللهمَّ إني أسألُك مثلَ الذي سأَلك صاحبايَ هذان، وأسألُك عِلمًا لا يُنسَى، فقال رسول الله ﷺ:"آمين"، فقلنا: يا رسول الله، ونحن نسألُ الله عِلمًا لا يُنسَى، فقال:"سَبَقَكما بها الدَّوْسِيُّ" (3) . صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6158 - حماد بن شعيب ضعيف
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6158 - حماد بن شعيب ضعيف
محمد بن قیس بن مخرمہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے کسی معاملے کے بارے میں دریافت کیا، تو سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: ”تم ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ، کیونکہ ایک دن میں، ابوہریرہ اور میرا ایک اور ساتھی مسجد میں بیٹھے اللہ تعالیٰ سے دعا کر رہے تھے اور اپنے رب کا ذکر کر رہے تھے کہ اسی اثنا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور ہمارے قریب تشریف فرما ہوئے،“ انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹھتے ہی ہم (احتراماً) خاموش ہو گئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کام میں تم مصروف تھے اسے دوبارہ شروع کرو،“ سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے کہا: ”پس میں نے اور میرے ساتھی نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پہلے دعا کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری دعا پر آمین کہتے رہے، پھر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے دعا کی اور عرض کیا: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِثْلَ الَّذِي سَأَلَكَ صَاحِبَايَ هَذَانِ، وَأَسْأَلُكَ عِلْمًا لَا يُنْسَى» ”اے اللہ! میں تجھ سے ان ہی تمام چیزوں کا سوال کرتا ہوں جو میرے ان دونوں ساتھیوں نے تجھ سے مانگی ہیں، اور میں تجھ سے ایسے علم کا سوال کرتا ہوں جو کبھی فراموش نہ ہو۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آمین۔“ پھر ہم نے بھی عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم بھی اللہ سے ایسے علم کا سوال کرتے ہیں جو کبھی بھولے نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دوسی (ابوہریرہ) تم دونوں سے اس معاملے میں سبقت لے گیا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6282]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6282]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف حماد بن شعيب، وبه أعلَّه الذهبي في "التلخيص"، وقد أخطأ فيه فجعله من رواية محمد بن قيس بن مخرمة، والصواب أنه من رواية محمد بن قيس المدني القاص - وهو قاصُّ عمر بن عبد العزيز - عن أبيه قيس المدني: أنَّ رجلًا جاء زيد بن ثابت … ...» [ترقيم الرساله 6282] [ترقيم الشركة 6215] [ترقيم العلميه 6158]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف حماد بن شعيب