المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
758. كان أبو هريرة وعاء العلم
ابو ہریرہ علم کا خزانہ تھے
حدیث نمبر: 6282
حَدَّثَنَا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الأصبهاني، حَدَّثَنَا الحسين بن حفص، حَدَّثَنَا حمّاد بن شعيب، عن إسماعيل بن أُمية، أنَّ محمد بن قيس بن مَخرَمة حدَّثه: أنَّ رجلًا جاء زيدَ بنَ ثابت فسأله عن شيء، فقال له زيد: عليكَ بأبي هريرة، فإنه بَيْنا أنا وأبو هريرة وفلانٌ في المسجد ذاتَ يومٍ ندعو الله تعالى ونَذكُر رَبَّنَا، خَرَجَ علينا رسولُ الله ﷺ حتَّى جَلَسَ إلينا، قال: فجلس وسكَتْنا (2) ، فقال:"عُودُوا للذي كنتُم فيه"، قال زيد: فدعوتُ أنا وصاحبِي قبلَ أبي هريرة، وجعل رسولُ الله ﷺ يُؤمِّن على دعائنا، قال: ثم دعا أبو هريرة فقال: اللهمَّ إني أسألُك مثلَ الذي سأَلك صاحبايَ هذان، وأسألُك عِلمًا لا يُنسَى، فقال رسول الله ﷺ:"آمين"، فقلنا: يا رسول الله، ونحن نسألُ الله عِلمًا لا يُنسَى، فقال:"سَبَقَكما بها الدَّوْسِيُّ" (3) . صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6158 - حماد بن شعيب ضعيف
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6158 - حماد بن شعيب ضعيف
محمد بن قیس بن مخرمہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے کوئی مسئلہ پوچھا۔ سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: تمہیں ابوہریرہ سے مسائل پوچھنے چاہئیں، کیونکہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ میں، ابوہریرہ اور فلاں شخص مسجد میں بیٹھے ہوئے ذکر الہی اور دعا میں مشغول تھے، اسی اثناء میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے اور آ کر ہمارے پاس بیٹھ گئے، آپ جونہی ہمارے پاس بیٹھے، ہم خاموش ہو گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنا عمل جاری رکھو، سیدنا زید فرماتے ہیں: میں نے اور میرے دوسرے ساتھی نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پہلے دعا مانگی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری دعا پر آمین کہتے رہے۔ ہماری دعا کے بعد سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یوں دعا مانگی ” اے اللہ! میں تجھ سے وہی مانگتا ہوں جو میرے ساتھیوں نے مانگا، اور میں تجھ سے ایسا علم مانگتا ہوں جو بھولے نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آمین کہا۔ ہم نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم بھی اللہ تعالیٰ سے ایسا علم مانگتے ہیں جو نہ بھولے۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ دعا مانگنے میں دوسی (یعنی ابوہریرہ) تم سے آگے نکل گیا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6282]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6282 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) في نسخنا الخطية: وسكت، والصواب ما أثبتنا كما وقع عند النسائي والطبراني.
🔍 فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں "وسکت" لکھا ہے، مگر درست وہی ہے جو نسائی اور طبرانی کے ہاں مروی ہے۔
(3) إسناده ضعيف لضعف حماد بن شعيب، وبه أعلَّه الذهبي في "التلخيص"، وقد أخطأ فيه فجعله من رواية محمد بن قيس بن مخرمة، والصواب أنه من رواية محمد بن قيس المدني القاص - وهو قاصُّ عمر بن عبد العزيز - عن أبيه قيس المدني: أنَّ رجلًا جاء زيد بن ثابت … هكذا رواه الفضل بن العلاء عن إسماعيل بن أمية فيما أخرجه النسائي (5839) والطبراني في "الأوسط" (1228). والفضل هذا صدوق حسن الحديث، وإسماعيل بن أمية ومحمد بن قيس القاص ثقتان، وأما قيس فمجهول لم يرو عنه غير ابنه محمد، ولم يؤثر فيه جرح أو تعديل.
⚖️ درجۂ حدیث: حماد بن شعیب کے ضعف کی وجہ سے یہ سند ضعیف ہے؛ علامہ ذہبی نے بھی اسے واہی قرار دیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: راوی نے غلطی سے اسے محمد بن قیس بن مخرمہ کی روایت قرار دیا، جبکہ یہ محمد بن قیس المدنی القاص (عمر بن عبد العزیز کے قصہ گو) عن ابیہ کی روایت ہے۔ ⚖️ درجۂ حدیث: اس سند میں قیس 'مجہول' ہیں کیونکہ ان سے صرف ان کے بیٹے محمد نے ہی روایت کی ہے۔