🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

761. مَنْ تَبِعَ جَنَازَةً فَلَهُ قِيرَاطٌ
جو شخص جنازے کے ساتھ چلے اسے ایک قیراط ثواب ملتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6291
أخبرنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن عيسى بن السَّكَن، حَدَّثَنَا عمرو بن عَوْن، حَدَّثَنَا هُشَيم، عن يعلى بن عطاء، عن الوليد بن عبد الرحمن الجُرَشي، عن ابن عمر: أنه مرَّ بأبي هريرة وهو يُحدَّث عن النَّبِيّ ﷺ:"مَن تَبِعَ جِنازةً فله قِيراطٌ، فإن شَهِدَ دفنَها فله قيراطانِ، القيراطُ أعظمُ من أُحدٍ". فقال ابن عمر: يا أبا هِرٍّ، انظرْ ما تحدِّثُ عن رسول الله ﷺ، فقام إليه أبو هريرة حتَّى انطَلَقَ إلى عائشة، فقال لها: يا أمَّ المؤمنين، أَنشُدُكِ الله، أسمعتِ رسولَ الله ﷺ يقول:"مَن تَبِعَ جنازةً فصلَّى عليها فله قيراطٌ، وإن شهدَ دفنَها فله قيراطانِ"؟ فقالت: اللهمَّ نعم، فقال أبو هريرة: إنه لم يكن يَشغَلُنا عن رسول الله ﷺ غَرْسٌ، ولا صَفْقٌ بالأسواق، إنما كنت أطلُبُ من رسول الله ﷺ كلمةً يُعلِّمُنِيها أو أُكْلةً يُطعِمُنِيها، فقال ابن عمر: يا أبا هريرة، كنتَ أَلزمَنا لرسول الله ﷺ وأعلمَنا بحديثِه (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6167 - صحيح
ولید بن عبدالرحمن جُرشی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ وہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے جبکہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بیان کر رہے تھے: ”جو جنازے کے پیچھے چلے اسے ایک قیراط ملے گا، اور اگر وہ اس کے دفن میں بھی شریک ہو تو اسے دو قیراط ملیں گے، اور ایک قیراط احد پہاڑ سے بھی بڑا ہے۔“ تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: ”اے ابوہریرہ! دیکھ لو کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا بیان کر رہے ہو،“ پس سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اٹھے اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو ساتھ لے کر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور ان سے کہا: ”اے ام المؤمنین! میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں، کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو جنازے کے پیچھے چلے اور اس کی نمازِ جنازہ پڑھے تو اسے ایک قیراط ملے گا، اور اگر وہ اس کے دفن میں شریک ہو تو اسے دو قیراط ملیں گے؟“ تو انہوں نے جواب دیا: ”اے اللہ! ہاں (میں نے سنا ہے)۔“ اس پر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (احادیث حاصل کرنے سے) پودے لگانے کے کاموں نے مشغول رکھا اور نہ ہی بازاروں کی خرید و فروخت نے، بلکہ میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی بات کا طالب رہتا تھا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے سکھا دیں یا ایسے لقمے کا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کھلا دیں۔“ تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”اے ابوہریرہ! آپ ہم سب سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہنے والے اور ان کی احادیث کو سب سے زیادہ جاننے والے تھے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6291]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد رجاله ثقات إلّا أنَّ رواية الوليد بن عبد الرحمن الجرشي له عن ابن عمر وأبي هريرة على وجه الإرسال، فإنه لا يصح له عن أحد من الصحابة سماع كما قال ابن حبان في "مشاهير علماء الأنصار" (1462).» [ترقيم الرساله 6291] [ترقيم الشركة 6224] [ترقيم العلميه 6167]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں