المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
762. فَضِيلَةُ طَالِبِ الْعِلْمِ
طالب علم کی فضیلت
حدیث نمبر: 6291
أخبرنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن عيسى بن السَّكَن، حَدَّثَنَا عمرو بن عَوْن، حَدَّثَنَا هُشَيم، عن يعلى بن عطاء، عن الوليد بن عبد الرحمن الجُرَشي، عن ابن عمر: أنه مرَّ بأبي هريرة وهو يُحدَّث عن النَّبِيّ ﷺ:"مَن تَبِعَ جِنازةً فله قِيراطٌ، فإن شَهِدَ دفنَها فله قيراطانِ، القيراطُ أعظمُ من أُحدٍ". فقال ابن عمر: يا أبا هِرٍّ، انظرْ ما تحدِّثُ عن رسول الله ﷺ، فقام إليه أبو هريرة حتَّى انطَلَقَ إلى عائشة، فقال لها: يا أمَّ المؤمنين، أَنشُدُكِ الله، أسمعتِ رسولَ الله ﷺ يقول:"مَن تَبِعَ جنازةً فصلَّى عليها فله قيراطٌ، وإن شهدَ دفنَها فله قيراطانِ"؟ فقالت: اللهمَّ نعم، فقال أبو هريرة: إنه لم يكن يَشغَلُنا عن رسول الله ﷺ غَرْسٌ، ولا صَفْقٌ بالأسواق، إنما كنت أطلُبُ من رسول الله ﷺ كلمةً يُعلِّمُنِيها أو أُكْلةً يُطعِمُنِيها، فقال ابن عمر: يا أبا هريرة، كنتَ أَلزمَنا لرسول الله ﷺ وأعلمَنا بحديثِه (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6167 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6167 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں مروی ہے کہ وہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے۔ اس وقت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث بیان کر رہے تھے ” جو جنازے کے ساتھ چلا، اس کے لئے ایک قیراط (ثواب) ہے، اور اگر وہ اس کی تدفین میں بھی شریک ہوا تو اس کے لئے دو قیراط (ثواب) ہے۔ جو کہ احد پہاڑ سے بھی بڑا ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: اے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ غور تو کرو تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کیا بیان کر رہے ہو؟ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اٹھے اور ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس چلے آئے اور عرض کی: اے ام المومنین! میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے ” جو شخص جنازہ کے ساتھ چلا اس کے لئے ایک قیراط ہے، اور اگر وہ اس کی تدفین میں بھی شریک ہوا تو اس کے لئے دو قیراط ہے۔ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: جی ہاں۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کسی شادی یا بازار کے کام کی وجہ سے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ سے کبھی غیر حاضر نہیں ہوا۔ میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک ایک کلمہ سیکھنے اور ایک ایک لقمہ کھانے کا طلبگار ہوا کرتا تھا۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: اے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہم سب سے زیادہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہتے تھے، اور تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کو ہم سے زیادہ جانتے ہو۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6291]
حدیث نمبر: 6292
حدثني أبو زُرْعةَ الرازي، حَدَّثَنَا بكر بن أحمد بن حَفْص، حَدَّثَنَا محمد بن العبّاس الصَّيدَلاني، حَدَّثَنَا أبو مروان عبدُ الملك بن صالح القُرَشي، حَدَّثَنَا صالح بن قُدَامة، عن أبيه، عن أبي هريرة قال: المِدادُ في ثوب طالبِ العِلْم مثلُ الخَلُوق في صدر الجارية البِكْر (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6168 - سنده واه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6168 - سنده واه
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: طالب علم کے کپڑے پر سیاہی کا دھبہ ایسے ہی ہے جیسے کنواری لڑکی کے کپڑوں پر خوشبو لگی ہو۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6292]
حدیث نمبر: 6293
حَدَّثَنَا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني ابن لَهِيعة، عن عُبيد الله بن أبي جعفر، عن الفضل بن الحسن بن عمرو بن أُمَيَّة الضَّمْري، عن أبيه قال: حدَّثتُ عن أبي هريرة بحديث فأنكَرَه، فقلت: إني قد سمعتُه منك، قال: إن كنتَ سمعتَه مني فإنه مكتوبٌ عندي، فأَخذ بيدي إلى بيته، فأَراني كتبًا من كُتبِه من حديث رسول الله ﷺ، فَوَجَدَ ذلك الحديث، فقال: قد أخبرتُك إني إن كنت حدَّثتُك به فهو مكتوبٌ عندي (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6169 - هذا منكر لم يصح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6169 - هذا منكر لم يصح
فضل بن حسن بن عمرو بن امیہ ضمری اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں (وہ فرماتے ہیں) میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ایک حدیث بیان کی، لیکن انہوں نے اس کا انکار کر دیا، میں نے کہا: میں نے یہ حدیث آپ ہی سے تو سنی ہے۔ انہوں نے کہا: اگر تم نے یہ حدیث مجھ سے سنی ہے تو یقیناً یہ میرے پاس لکھی ہوئی ہو گی، وہ میرا ہاتھ پکڑ کر اپنے گھر لے گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث والی کتاب مجھے دکھائی، اس میں ان کو وہ حدیث مل گئی۔ پھر انہوں نے کہا: میں نے تمہیں کہا تھا نا کہ اگر تم نے یہ حدیث مجھ سے سنی ہے تو یہ میرے پاس لکھی ہوئی ہو گی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6293]