🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

779. سُؤَالُ صَفْوَانَ عَنِ الْأَوْقَاتِ الْمَكْرُوهَةِ لِلصَّلَاةِ
نماز کے مکروہ اوقات کے بارے میں صفوان کا سوال
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6330
حدثنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا يوسف بن يعقوب القاضي، حدثنا محمد بن أبي بكر المُقدَّمي، حدثنا حميد بن الأسود، حدثنا الضحّاك بن عثمان، عن سعيد المَقبُري، عن صفوان بن المعطَّل السُّلَمي، أنه سأَل رسول الله ﷺ، فقال: يا نبيَّ الله، إني سائلُكَ عن أمرٍ أنت به عالمٌ وأنا به جاهل، قال:"ما هوَ؟" قال: هل من ساعاتِ الليل والنهار من ساعةٍ تُكرَه فيها الصلاة؟ قال:"إذا صلَّيتَ الصبحَ فَدَعِ الصلاةَ حتى تَطلُعَ الشمسُ، فإنها تَطلُع لقَرْنَي شيطانٍ، ثم صلِّ، فالصلاةُ متقبَّلةٌ، حتى تستويَ الشمس على رأسك كالرُّمْح، فإذا كانت على رأسِك كالرُّمح فدَعِ الصلاةَ، فإنها الساعةُ التي تُسجَرُ فيها جهنَّمُ، وتُفتَحُ فيها أبوابُها حتى تَزِيعَ (1) الشمس، فإذا زاغت فالصلاةُ محضورةٌ متقبَّلةٌ حتى تصلِّيَ العصر، ثم دَعِ الصلاةَ حتى تَعْرُبَ الشمس" (2) . صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6204 - صحيح
سیدنا صفوان بن معطل سلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: اے اللہ کے نبی! میں آپ سے ایک ایسے معاملے کے بارے میں پوچھتا ہوں جس کا علم آپ کو ہے اور میں اس سے ناواقف ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: وہ کیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا: کیا دن اور رات کے اوقات میں کوئی ایسی گھڑی ہے جس میں نماز پڑھنا ناپسندیدہ ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم صبح کی نماز پڑھ لو تو سورج طلوع ہونے تک نماز سے رکے رہو، کیونکہ وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے، پھر (طلوع کے بعد) نماز پڑھو کیونکہ وہ نماز مقبول ہے یہاں تک کہ سورج تمہارے سر پر نیزے کی طرح سیدھا ہو جائے، پس جب وہ نیزے کی طرح سر پر ہو تو نماز چھوڑ دو، کیونکہ یہ وہ وقت ہے جب جہنم دہکائی جاتی ہے اور اس کے دروازے کھولے جاتے ہیں یہاں تک کہ سورج ڈھل جائے، پھر جب سورج ڈھل جائے تو نماز فرشتوں کی حاضری کا وقت اور مقبول ہے یہاں تک کہ تم عصر کی نماز پڑھ لو، پھر سورج غروب ہونے تک نماز سے رکے رہو۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6330]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد لا بأس برجاله إلّا أنه منقطع، سعيد بن أبي سعيد المقبري لم يدرك صفوان بن المعطّل، بينهما فيه أبو هريرة كما سيأتي.» [ترقيم الرساله 6330] [ترقيم الشركة 6263] [ترقيم العلميه 6204]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6331
حدثنا عمرو بن محمد بن منصور العَدْل، حدثنا عمر بن حفص السَّدُوسي، حدثنا سعيد بن سليمان الواسطي، حدثنا إسماعيل بن عيّاش، حدثنا أبو وَهْب، عن مَكحُول، عن صفوان بن المعطَّل، قال: بَعَثَني رسول الله ﷺ أُنادي أن:"لا تَنتبِذوا في الجَرَّة" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6205 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ منادی کرنے کے لیے بھیجا کہ: مٹی کے گھڑے میں نبیذ تیار نہ کرو۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6331]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، مكحول الشامي لم يدرك صفوان بن المعطل.» [ترقيم الرساله 6331] [ترقيم الشركة 6264] [ترقيم العلميه 6205]

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6332
أخبرنا أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه ببغداد، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا إسماعيل بن أبي أُوَيس، حدثني أبي، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن عائشة قالت: وقَعَدَ صفوانُ بن المعطَّل لحسّانَ بن ثابت فضربه، وقال صفوانُ حين ضربه: تلقَّ ذُباب السيفِ منّي فإِنَّني … غلامٌ إذا هُو جِيتُ لستُ بشاعرِ ولكنَّني أَحْمي حِمايَ وأَشتَفي (2) … من الباهتِ الرامي البِراءِ الطَّواهرِ قالت عائشة: وفرَّ صفوانُ وجاء حسّانُ يَستَعدي عند رسول الله ﷺ، فسأله رسول الله ﷺ أن يَهَبَ منه ضربةَ صفوانَ، إياه، فوَهَبها لرسول الله ﷺ، فعوَّضَه رسول الله ﷺ حائطًا من نخلٍ عظيم وجاريةً روميّةً تُدعَى سِيرِين، فباع حسانُ الحائطَ من معاوية بن أبي سفيان في ولايته بمالٍ عظيم (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6206 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ سیدنا صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ نے سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ پر حملہ کر کے انہیں تلوار ماری، اور مارتے وقت یہ اشعار پڑھے: میری تلوار کی دھار کا مزہ چکھو کیونکہ میں ایسا نوجوان ہوں جو اگرچہ شاعر نہیں ہے لیکن جب مجھ پر (بہتان) لگایا جائے تو میں اپنی عزت کا دفاع کرنا جانتا ہوں، اور میں اس بہتان تراش سے اپنا بدلہ لیتا ہوں جو پاک دامن اور بے گناہ لوگوں پر تہمت لگاتا ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ صفوان وہاں سے بھاگ نکلے اور حسان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں فریاد لے کر آئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے خواہش کی کہ وہ صفوان کی اس ضرب کو معاف کر دیں، چنانچہ انہوں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر بخش دیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے عوض انہیں کھجوروں کا ایک بہت بڑا باغ اور ایک رومی لونڈی عطا فرمائی جن کا نام سیرین تھا، بعد ازاں حسان نے وہ باغ سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے دورِ حکومت میں ان کے ہاتھ بھاری قیمت پر فروخت کر دیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6332]
تخریج الحدیث: «إسناده محتمل للتحسين إن شاء الله من أجل إسماعيل بن أبي أويس وأبيه» [ترقيم الرساله 6332] [ترقيم الشركة 6265] [ترقيم العلميه 6206]

الحكم على الحديث: إسناده محتم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں