🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
780. كان آخر موتا من الجان الذين سمعوا القرآن عمرو بن جابر
جنات میں سے قرآن سننے والوں میں سب سے آخر میں وفات پانے والا عمرو بن جابر تھا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6332
أخبرنا أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه ببغداد، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا إسماعيل بن أبي أُوَيس، حدثني أبي، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن عائشة قالت: وقَعَدَ صفوانُ بن المعطَّل لحسّانَ بن ثابت فضربه، وقال صفوانُ حين ضربه: تلقَّ ذُباب السيفِ منّي فإِنَّني … غلامٌ إذا هُو جِيتُ لستُ بشاعرِ ولكنَّني أَحْمي حِمايَ وأَشتَفي (2) … من الباهتِ الرامي البِراءِ الطَّواهرِ قالت عائشة: وفرَّ صفوانُ وجاء حسّانُ يَستَعدي عند رسول الله ﷺ، فسأله رسول الله ﷺ أن يَهَبَ منه ضربةَ صفوانَ، إياه، فوَهَبها لرسول الله ﷺ، فعوَّضَه رسول الله ﷺ حائطًا من نخلٍ عظيم وجاريةً روميّةً تُدعَى سِيرِين، فباع حسانُ الحائطَ من معاوية بن أبي سفيان في ولايته بمالٍ عظيم (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6206 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ سیدنا صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے، سیدنا حسان نے ان کو مارا، جب سیدنا حسان نے ان کو مارا تو سیدنا صفوان نے کچھ اشعار کہے جن کا ترجمہ یہ ہے۔ * تلوار کی دھار مجھے لگی ہے، بے شک میں بچہ تھا، جب میں ان کے پاس جاتا تھا، اور میں شاعر نہیں ہوں۔ * لیکن میں نے اپنی حمیٰ کی حفاظت کی ہے اور پاکدامن، باعزت خواتین پر جھوٹی تہمت لگانے والے سے میں نے شفا حاصل کی۔ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: صفوان چلا گیا، اور سیدنا حسن بن ثابت رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں مدد طلب کرنے کے لئے آئے (یعنی ان کی شکایت لے کر آئے تاکہ ان کو سزا دی جائے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حسان سے کہا کہ وہ صفوان نے جو کچھ بھی ان کو کہا ہے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا کے لئے ان کو معاف کر دیں۔ سیدنا حسان نے معاف کر دیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے عوض میں سیدنا حسان رضی اللہ عنہ کو کھجوروں کا ایک بہت بڑا باغ دیا اور ایک رومی لونڈی دی جس کا نام سیرین تھا۔ سیدنا حسان رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی حکومت میں، یہ باغ ان کو بہت بھاری رقم کے عوض بیچ دیا تھا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6332]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6332 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) هكذا في (ب)، وهو كذلك في "أسد الغابة" لابن الأثير 3/ 30، ومعنى "أشتفي": أنتقم، وجاءت بهذا اللفظ "أنتقم" في "المعجم الكبير" للطبراني 23/ (151)، و "معرفة الصحابة" لأبي نعيم (3815)، وغيرهما، وفي (ز) و (م) و (ص): أتقي، وهي كذلك في "تاريخ دمشق" لابن عساكر 4/ 308، والغالب أنه تحريف، والصحيح: أشتفي، أو أنتقم.
🔍 فنی نکتہ / علّت: نسخہ (ب) اور "اسد الغابہ" (3/ 30) کے مطابق لفظ 'أشتفی' ہے جس کا معنی ہے 'میں بدلہ لوں گا'۔ طبرانی اور ابو نعیم کے ہاں صراحتاً 'انتقم' کا لفظ آیا ہے۔ دیگر نسخوں میں 'أتقی' ہے جو غالباً تحریف ہے؛ درست 'أشتفی' یا 'أنتقم' ہی ہے۔
(1) إسناده محتمل للتحسين إن شاء الله من أجل إسماعيل بن أبي أويس وأبيه - وهو عبد الله ابن عبد الله بن أويس - ففيهما لين.
⚖️ درجۂ حدیث: اسماعیل بن ابی اویس اور ان کے والد عبد اللہ میں معمولی کمزوری (لین) کی وجہ سے یہ سند 'تحسین' (حسن قرار دینے) کا احتمال رکھتی ہے۔
وأخرجه البيهقي في "السنن الكبرى" 8/ 56 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد. إلَّا أنه لم يذكر فيه بيتي الشعر.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام بیہقی نے "السنن الکبریٰ" (8/ 56) میں امام حاکم کی سند سے روایت کیا ہے، مگر اس میں دو اشعار کا ذکر نہیں ہے۔
وأخرجه أبو نعيم في "معرفة الصحابة" (3815) عن أبي بكر بن خلاد، عن إسماعيل بن إسحاق القاضي، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابو نعیم نے 'معرفۃ الصحابہ' میں اسماعیل بن اسحاق القاضی کے واسطے سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه ضمن قصة الإفك الطويلة الطبراني في "الكبير" 23/ (151)، والثعلبي في "تفسيره" 7/ 76، وأبو القاسم الحنائي في "فوائده" (231)، وابن عساكر 4/ 308، وعبد الغني المقدسي في "حديث الإفك" (5) من طرق عن إسماعيل بن أبي أويس، به.
📖 حوالہ / مصدر: قصہِ افک کی طویل روایت کے ضمن میں اسے طبرانی، ثعلبی، حنائی، ابن عساکر اور عبد الغنی المقدسی نے اسماعیل بن ابی اویس کے مختلف طرق سے روایت کیا ہے۔