🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

788. إِخْبَاءُ رَسُولِ اللَّهِ قَبَاءً لِمَخْرَمَةَ بْنِ نَوْفَلٍ
رسول اللہ ﷺ نے مخرمہ بن نوفل کے لیے ایک چادر محفوظ رکھی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6357
أخبرنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا علي بن عبد العزيز، حدثنا مسلم بن إبراهيم، حدثنا حاتم بن وَرْدانَ، حدثنا أيوب، عن ابن أبي مُلَيكةَ، عن المِسوَر ابن مَخرَمة قال: قَدِمَت على النبيِّ ﷺ أَقبيَةٌ فَقَسَمَها بين أصحابه، فقال لي أَبي: انطلِقْ بنا إليه، فإنه أتَتْه أقبيَةٌ، فتكلَّم أَبي على الباب فعَرَفَ رسولُ الله ﷺ صوتُه، فخرج ومعه قَبَاءٌ، فجعل يقول:"خَبَأْتُ هذا لك، خَبَأْتُ هذا لك" (3) . هذا الحديث، مخرَّجٌ في كتاب مسلم (4) ، وإنما أعدتُه ليُعلَمَ أنه كان يأتي مع أبيه النبيَّ ﷺ، وكان يَبَرُّه ويُطْعِمُه النبيُّ ﷺ (1) . وقد حَفِظَ المسورُ خُطَبَ النبي ﷺ:
سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ قبائیں (لباس) آئیں جنہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ میں تقسیم کر دیا، تو میرے والد نے مجھ سے کہا: ”ہمارے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں چلو کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قبائیں آئی ہیں،“ میرے والد نے دروازے پر گفتگو کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آواز پہچان لی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک قبا لے کر باہر تشریف لائے اور فرمانے لگے: ”میں نے یہ تمہارے لیے چھپا کر رکھی تھی، میں نے یہ تمہارے لیے چھپا کر رکھی تھی۔“
یہ حدیث صحیح مسلم میں مروی ہے، میں نے اسے یہاں اس لیے دوبارہ ذکر کیا تاکہ معلوم ہو سکے کہ وہ اپنے والد کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ حسنِ سلوک فرماتے اور انہیں کھانا کھلاتے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6357]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،وهو مكرر (6189).» [ترقيم الرساله 6357] [ترقيم الشركة 6287]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6358
كما حدَّثَناه علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا العبّاس بن الفضل الأَسْفاطي، حدثنا عبد الرحمن بن [المبارك العَيْشي] (2) حدثنا عبد الوارث بن سعيد، عن ابن جُرَيج عن محمد بن قيس، عن المِسوَر بن مَحْرَمة قال: خَطَبَنا رسولُ الله ﷺ بعَرَفاتٍ فَحَمِدَ الله وأثنى عليه، ثم قال:"أمّا بعد فإنَّ أهلَ الشِّرك والأوثانِ كانوا يَدفَعون من هذا الموضع إذا كانت الشمسُ على رؤُوس الجبال كأنها عمائمُ الرِّجال في وُجوهها، وإنَّا نَدفَعُ بعد أن تَغِيبَ، وكانوا يَدفَعون من المَشعَر الحرامِ إذا كانت الشمسُ مُنبسِطةً" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. قد صحَّ وثَبَتَ بما ذكرتُه سماعُ المِسوَر بن مَخرمَة من رسول الله ﷺ، لا كما يتوهَّمُه رَعَاعُ أصحابِنا أنه ممَّن له رؤية (4) بلا سماع. ذكرُ الضحّاك بن قيس الأكبر ﵁-
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6229 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عرفات کے مقام پر خطبہ دیا، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور پھر فرمایا: ”حمد و ثنا کے بعد! مشرکین اور بت پرست اس مقام سے اس وقت روانہ ہوتے تھے جب سورج پہاڑوں کی چوٹیوں پر مردوں کے عماموں کی طرح (زردی مائل) ہوتا تھا، جبکہ ہم سورج غروب ہونے کے بعد روانہ ہوں گے، اور وہ مشعرِ حرام سے اس وقت روانہ ہوتے تھے جب سورج (طلوع ہو کر) پھیل جاتا تھا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ میرے ذکر کردہ دلائل سے یہ بات پایہِ ثبوت کو پہنچ گئی ہے کہ سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ کا سماع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے، نہ کہ جیسا کہ ہمارے بعض عام ساتھیوں کا گمان ہے کہ انہوں نے صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی تھی اور کچھ سنا نہیں تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6358]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف كما سلف بيانه برقم (3134).» [ترقيم الرساله 6358] [ترقيم الشركة 6288] [ترقيم العلميه 6229]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں