🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

825. تَفْسِيرُ آيَةٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ایک آیت کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6440
أخبرنا أبو عبد الله الصَّفّار، حدثنا إسماعيل بن إسحاق، حدثنا سليمان ابن حَرْب، حدثنا حمّاد بن زيد، حدثنا أيوب، عن ابن أبي مُلَيكة: أنَّ عمر بن الخطّاب تلا هذه الآية: ﴿أَيَوَدُّ أَحَدُكُمْ أَنْ تَكُونَ لَهُ جَنَّةٌ مِنْ نَخِيلٍ وَأَعْنَابٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ لَهُ فِيهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرَاتِ﴾ إلى هاهنا ﴿فَأَصَابَهَا إِعْصَارٌ فِيهِ نَارٌ فَاحْتَرَقَتْ﴾ [البقرة: 266] ، فسأل عنها القومَ وقال: فيمَ تَرونَ أُنزِلَت ﴿أَيَوَدُّ أَحَدُكُمْ أَنْ تَكُونَ لَهُ جَنَّةٌ﴾ فقالوا: الله ورسوله أعلم، فغَضِبَ عمر وقال: قولوا: نعلمُ أو لا نعلمُ فقال ابن عبّاس: في نفسي شيءٌ منها يا أميرَ المؤمنين، قال: يا ابنَ أخي، قُلْ ولا تَحقِرْ نفسَك، قال ابن عبّاس: ضُرِبَت مَثلًا لعمل، فقال عمر: رجلٌ غنيٌّ يعمل الحسناتِ، ثم بَعَثَ الله له الشياطينَ يعملُ بالمعاصي حتى أَعْرَقَ أعمالَه كلَّها، وكانت له جَنّةٌ فاحتَرَقَت عند أحوَجِ ما كان إليها حين كَثُرَ الولدُ وبَلَغَ هو الكِبَرَ، قال: أيحبُّ (1) أحدكم أن يُوافيَ يومَ القيامة عند أفقرِ ما كان إلى عمله فلا يُوافىَ له شيءٌ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
ابن ابی ملیکہ سے مروی ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿أَيَوَدُّ أَحَدُكُمْ أَنْ تَكُونَ لَهُ جَنَّةٌ مِنْ نَخِيلٍ وَأَعْنَابٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ لَهُ فِيهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرَاتِ﴾ یہاں تک ﴿فَأَصَابَهَا إِعْصَارٌ فِيهِ نَارٌ فَاحْتَرَقَتْ﴾ [سورة البقرة: 266] پھر لوگوں سے اس کے متعلق دریافت کیا اور پوچھا: تمہاری کیا رائے ہے کہ یہ آیت ﴿أَيَوَدُّ أَحَدُكُمْ أَنْ تَكُونَ لَهُ جَنَّةٌ﴾ کس بارے میں نازل ہوئی؟ لوگوں نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ غصے میں آ گئے اور فرمایا: یا تو کہو کہ ہم جانتے ہیں یا کہو کہ نہیں جانتے، اس پر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے عرض کیا: اے امیر المومنین! میرے دل میں اس کے متعلق ایک بات ہے، انہوں نے فرمایا: اے میرے بھتیجے! کہو اور اپنے آپ کو حقیر نہ سمجھو، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے عرض کیا: یہ عمل کی ایک مثال بیان کی گئی ہے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے (وضاحت کرتے ہوئے) فرمایا: ایک غنی شخص جو نیک اعمال کرتا ہے، پھر اللہ اس پر شیطانوں کو مسلط کر دیتا ہے تو وہ گناہوں کے کام کرنے لگتا ہے یہاں تک کہ وہ اپنے تمام اعمال کو غرق کر دیتا ہے، اس کی مثال اس باغ جیسی ہے جو اس وقت جل کر راکھ ہو جائے جب اسے اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہو یعنی جب وہ خود بوڑھا ہو جائے اور اس کے بچے بھی زیادہ ہوں (اور کمزور ہوں)۔ پھر فرمایا: کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرے گا کہ وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے کہ وہ اپنے عمل کا سب سے زیادہ محتاج ہو اور اسے وہاں کچھ بھی نہ ملے؟
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6440]
تخریج الحدیث: «خبر صحيح، رجاله ثقات وصورته الإرسال، فإنَّ ابن أبي مليكة - وهو عبد الله بن عبيد الله - لم يدرك عمر، لكن سمعه من ابن عبّاس نفسه كما بيَّن ابن جريج في روايته عنه عند البخاري (4538)، ورواه ابن جريج أيضًا عن أبي بكر بن أبي مليكة - أخي عبد ...» [ترقيم الرساله 6440] [ترقيم الشركة 6366]

الحكم على الحديث: خبر صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں