🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

826. تَفْسِيرُ الْكَوْثَرِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سورۂ کوثر کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6440
أخبرنا أبو عبد الله الصَّفّار، حدثنا إسماعيل بن إسحاق، حدثنا سليمان ابن حَرْب، حدثنا حمّاد بن زيد، حدثنا أيوب، عن ابن أبي مُلَيكة: أنَّ عمر بن الخطّاب تلا هذه الآية: ﴿أَيَوَدُّ أَحَدُكُمْ أَنْ تَكُونَ لَهُ جَنَّةٌ مِنْ نَخِيلٍ وَأَعْنَابٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ لَهُ فِيهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرَاتِ﴾ إلى هاهنا ﴿فَأَصَابَهَا إِعْصَارٌ فِيهِ نَارٌ فَاحْتَرَقَتْ﴾ [البقرة: 266] ، فسأل عنها القومَ وقال: فيمَ تَرونَ أُنزِلَت ﴿أَيَوَدُّ أَحَدُكُمْ أَنْ تَكُونَ لَهُ جَنَّةٌ﴾ فقالوا: الله ورسوله أعلم، فغَضِبَ عمر وقال: قولوا: نعلمُ أو لا نعلمُ فقال ابن عبّاس: في نفسي شيءٌ منها يا أميرَ المؤمنين، قال: يا ابنَ أخي، قُلْ ولا تَحقِرْ نفسَك، قال ابن عبّاس: ضُرِبَت مَثلًا لعمل، فقال عمر: رجلٌ غنيٌّ يعمل الحسناتِ، ثم بَعَثَ الله له الشياطينَ يعملُ بالمعاصي حتى أَعْرَقَ أعمالَه كلَّها، وكانت له جَنّةٌ فاحتَرَقَت عند أحوَجِ ما كان إليها حين كَثُرَ الولدُ وبَلَغَ هو الكِبَرَ، قال: أيحبُّ (1) أحدكم أن يُوافيَ يومَ القيامة عند أفقرِ ما كان إلى عمله فلا يُوافىَ له شيءٌ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
ابن ابی ملیکہ فرماتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے یہ آیات پڑھیں: کیا کوئی شخص اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کا کھجوروں اور انگوروں کا باغ ہو جس کے نیچے بہتی ہوں اس میں اس شخص کے (مختلف قسم کے) پھل ہوں۔ یہ آیت یہاں تک ہے: فَأَصَابَهَا إِعْصَارٌ فِيهِ نَارٌ فَاحْتَرَقَتْ پھر لوگوں سے ان آیات کے بارے میں پوچھا: ایود احدکم والی آیت کا شان نزول کیا ہے؟ لوگوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ یہ سن کر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو غصہ آ گیا اور فرمانے لگے: (مجھے سیدھا جواب دو کہ) تمہیں پتا ہے یا نہیں؟ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: یا امیرالمومنین! میرے دل میں ایک بات ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے میرے بھتیجے! اپنے آپ کو چھوٹا مت سمجھو، تم جو کہنا چاہتے ہو، کہو۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: یہ عمل کی مثال بیان کی گئی ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ ایک مالدار شخص کی مثال ہے جو نیک اعمال کرتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ اس پر ایک شیطان مسلط کر دیتا ہے جو اس سے گناہ کرواتا ہے، حتیٰ کہ اس کے تمام اعمال گناہوں میں ڈبو دیتا ہے، اس شخص کا باغ تھا، لیکن جب اس کی اولاد بڑھی، وہ خود بوڑھا ہو گیا، مسائل میں اضافہ ہوا، جب اس کو اس باغ کی زیادہ ضرورت پڑی، اس وقت وہ جل کر خاکستر ہو گیا۔ کیا تم میں سے کوئی شخص یہ پسند کرتا ہے کہ قیامت کے دن وہ شخص اپنے اعمال کا اجر پورا وصول کرنا چاہتا ہو، اور اس کو پورا عمل نہ دیا جائے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6440]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں