🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

826. تَفْسِيرُ الْكَوْثَرِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سورۂ کوثر کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6441
حدثنا أبو الحسن محمد بن علي بن بكر المعدَّلُ حَفَدَةُ إبراهيم بن هانئ، حدثنا الحُسين (3) بن الفضل البَجَلي، حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا حمّاد ابن زيد، عن عطاء بن السائب قال: قال لي مُحارِب بن دِثَار: هل سمعتَ سعيدَ بن جُبير يَذكُر عن ابن عبّاس في الكَوثَر شيئًا؟ قلت: نعم، قال: هو الخيرُ الكثير، قال: سبحان الله، قلَّ ما يَسقُطُ لابن عبّاس، يقول: سمعتُ ابنَ عمر (4) يقول: لما نزلت ﴿إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ﴾، قال رسول الله ﷺ:"هو نهرٌ في الجنة، حافَتَاه من ذهبٍ يَجْري على الدُّرِّ والياقُوت، شرابه أشدُّ بياضًا من اللَّبَن، وأَحلى من العَسَل"، فقال: صَدَقَ واللهِ ابنُ عبّاس، هذا والله الخيرُ الكثير (5) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ذكرُ وفاة عبد الله بن عبّاس ﵄
محارب بن دثار نے عطاء بن سائب سے پوچھا کہ کیا تم نے سعید بن جبیر کو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے کوثر کے متعلق کچھ بیان کرتے سنا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، انہوں نے بتایا کہ اس سے مراد ”خیرِ کثیر“ یعنی بہت زیادہ بھلائی ہے، اس پر انہوں نے کہا: سبحان اللہ، ابن عباس کی کوئی بات شاذ و نادر ہی خطا ہوتی ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ کہتے سنا کہ جب آیت ﴿إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ﴾ [سورة الكوثر: 1] نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ جنت میں ایک نہر ہے جس کے دونوں کنارے سونے کے ہیں، وہ موتیوں اور یاقوت کے اوپر بہتی ہے، اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے۔“ تب انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! ابن عباس نے سچ کہا، یہی تو اصل میں ”خیرِ کثیر“ ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6441]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،وأخرجه أحمد 10/ (5913) عن مؤمل بن إسماعيل، عن حماد بن زيد بهذا الإسناد.» [ترقيم الرساله 6441] [ترقيم الشركة 6367]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں