المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
875. رِوَايَةُ الْحَدِيثِ بِالْمَعْنَى
حدیث کو مفہوم کے ساتھ روایت کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 6563
فحدَّثَنا أبو إسحاق إبراهيم بن فِراس الفقيه بمكة حرسها الله تعالى، حدثنا بكر بن سهل الدِّمْياطي، حدثنا عبد الله بن صالح، حدثني معاوية بن صالح، عن العلاء بن الحارث، عن مَكحُول قال: دخلتُ على وائلةَ بن الأسقَع فقلت: يا أبا الأَسقَع، حدِّثنا حديثًا سمعتَه من رسول الله ﷺ، ليس فيه وَهُمٌ ولا تَزيُّدٌ ولا نِسيانٌ، فقال: هل قرأ أحدٌ منكم الليلةَ من القرآن شيئًا؟ فقلنا: نعم، وما نحن له بالحافظِين، قال: فهذا القرآنُ مكتوبٌ بين أظُهرِكم لا تَأْلُونَ حِفظهَ، وأنتم تَزعُمون أنكم تَزِيدون وتَنقُصون، فكيف بأحاديثَ سمعناها من رسول الله ﷺ عسى أن لا نكونَ سمعناها إلَّا مرةً واحدةً؟ حَسْبُكم إذا جئناكم بالحديث على مَعْناه (2) . وقد قيل: كُنيته أبو قِرْصافة (1) :
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6421 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6421 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
مکحول سے روایت ہے کہ میں واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے ابواسقع! ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی کوئی ایسی حدیث سنائیں جس میں نہ تو کسی قسم کا وہم ہو، نہ کوئی زیادتی اور نہ ہی بھول چوک کا امکان ہو، انہوں نے دریافت فرمایا: کیا تم میں سے کسی نے آج رات قرآن مجید کی تلاوت کی ہے؟ ہم نے عرض کیا: جی ہاں، لیکن ہم نے اسے (حرف بہ حرف) ویسے یاد نہیں رکھا (جیسے وہ نازل ہوا)، انہوں نے فرمایا: یہ قرآن تمہارے درمیان لکھا ہوا موجود ہے اور تم اس کی حفاظت میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے، اس کے باوجود تمہارا یہ خیال ہے کہ تم اس میں کمی یا زیادتی کر دیتے ہو، تو پھر ان احادیث کا کیا حال ہوگا جو ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہیں اور ہو سکتا ہے کہ ہم نے انہیں صرف ایک ہی مرتبہ سنا ہو؟ تمہارے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ جب ہم تمہارے سامنے کوئی حدیث بیان کریں تو اس کا مفہوم (درست طور پر) بیان کر دیں۔ ان کی ایک کنیت ابوقرصافہ بھی بتائی گئی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6563]
تخریج الحدیث: «خبر حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف بكر بن سهل، وقد توبع، وعبد الله بن صالح. وهو المصري كاتب الليث» [ترقيم الرساله 6563] [ترقيم الشركة 6485] [ترقيم العلميه 6421]
الحكم على الحديث: خبر حسن