المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
887. ذِكْرُ مَعْرِفَةِ جَمَاعَةٍ مِنَ الصَّحَابَةِ
بعض صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے حالات و مناقب کا ذکر جن کا بیان پہلے نہ ہو سکا نیز ان کی ولادت اور وفات کے اوقات کا بیان جن میں سے سیدنا حمل بن مالک بن نابغہ ہذلی رضی اللہ عنہ بھی ہیں
حدیث نمبر: 6601
حدثنا محمد بن صالح، حدثنا السَّرِيّ بن خُزَيمة، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا حجَّاج، أخبرنا حُمَيد: أنَّ أنس بن مالك حدَّثَ بحديثٍ عن رسول الله ﷺ فقال رجل: أنت سمعتَه من رسول الله ﷺ؟ فغَضِبَ غضبًا شديدًا وقال: واللهِ ما كلُّ ما نحدِّثكم به سَمِعناه من رسول الله ﷺ، ولكن كان يُحدِّثُ بعضُنا بعضًا، ولا يَتَّهِمُ بعضُنا بعضًا (2) . ذكرُ معرفة جماعة من الصحابة وما انتَهى إلينا من مَناقبِهم تأخَّر ذِكرُهم عن المذكورِين ومعرفةِ ولادتِهم وأَوقاتِ وفاتهم ﵃ فمنهم: حَمَل بن مالك بن النَّابغة الهُذَلي
حمید کہتے ہیں: سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کر رہے تھے: ایک آدمی نے کہا: کیا آپ نے یہ بات خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے؟ اس بات پر سیدنا انس رضی اللہ عنہ شدید غضبناک ہوئے، اور فرمایا: خدا کی قسم! ہر وہ بات جو ہم تمہیں سنائیں، ضروری نہیں ہے کہ ہم نے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہی سنی ہو، بلکہ بسا اوقات یوں بھی ہوتا تھا کہ ہم ایک دوسرے کو حدیث سنایا کرتے تھے۔ اور ہم میں سے کوئی شخص بھی دوسرے پر کوئی تہمت نہیں لگاتا تھا۔ ان صحابہ کرام کا تذکرہ جن کے فضائل و مناقب، اور ان کی ولادت و وفات کا تذکرہ ہم تک دیر سے پہنچا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6601]
حدیث نمبر: 6602
أخبرني أحمد بن يعقوب الثَّقفي، حدثنا موسى بن زكريا التُّستَري، حدثنا خَليفة بن خيَّاط العُصفُري قال: حَمَلُ بن مالك بن النَّابغة بن جابر بن عُبَيد ابن رَبِيعة بن كعب بن الحارث بن كَبِير بن هند بن طابِخةَ بن لِحْيان بن هذيل الهُذَلي، له دارٌ بالبصرة.
خلیفہ بن خیاط عصفری نے ان کا نسب یوں بیان کیا ہے ” حمل بن مالک بن بابغہ بن جابر بن عبید بن ربیعہ بن کعب بن حارث بن کثیر بن ہند بن طابخہ بن لحیان بن ہزیل ہذلی “۔ بصرہ میں ان کا مکان تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6602]