🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

887. ذِكْرُ مَعْرِفَةِ جَمَاعَةٍ مِنَ الصَّحَابَةِ
بعض صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے حالات و مناقب کا ذکر جن کا بیان پہلے نہ ہو سکا نیز ان کی ولادت اور وفات کے اوقات کا بیان جن میں سے سیدنا حمل بن مالک بن نابغہ ہذلی رضی اللہ عنہ بھی ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6602
أخبرني أحمد بن يعقوب الثَّقفي، حدثنا موسى بن زكريا التُّستَري، حدثنا خَليفة بن خيَّاط العُصفُري قال: حَمَلُ بن مالك بن النَّابغة بن جابر بن عُبَيد ابن رَبِيعة بن كعب بن الحارث بن كَبِير بن هند بن طابِخةَ بن لِحْيان بن هذيل الهُذَلي، له دارٌ بالبصرة.
خلیفہ بن خیاط سے روایت ہے کہ حمل بن مالک بن نابغہ بن جابر بن عبید بن ربیعہ بن کعب بن حارث بن کبیر بن ہند بن طابخہ بن لحیان بن ہذیل ہذلی کا بصرہ میں ایک گھر تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6602]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 6602] [ترقيم الشركة 6523]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6603
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن علي الصَّنعاني بمكة، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عبد الرزاق، عن ابن عُيَينة، أخبرني عمرو بن دينار، عن طاووس، عن ابن عبّاس قال: قام عمرُ على المِنبَر فقال: أُذكِّرُ امْرَأً سَمِعَ رَسُولَ اللهِ ﷺ قَضَى في الجَنِينَ، فقام حَمَلُ بن مالك بن النابغة الهُذَلي فقال: يا أميرَ المؤمنين، كنت بين جارتَينِ (1) -يعني ضَرَّتَين- فجَرَحَت- أو ضربَت - إحداهما الأخرى بعمودِ ظُلَّتِها، فقتلَتْها وقتلتْ ما في بطنها، فقَضَى النبيُّ ﷺ في الجَنِين بغُرَّةٍ: عبدٍ أو أمةٍ، فقال عمر: الله أكبر، لو لم نَسمَعْ بهذا قَضَينا (2) بغيرِه (3) . ذكرُ عَقِيل بن أبي طالب ﵁- وكان من حقِّ شَرَفه ونَسَبِه أن يُقرَّبَ ذِكرُه من إخوته وعَشيرته، وإنما تأخَّر لقِلَّة روايتِه وذكره في مسانيد الأئمَّة ﵃.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ منبر پر کھڑے ہوئے اور فرمایا: میں اس شخص کو (اللہ کا واسطہ دے کر) یاد دلاتا ہوں جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جنین (پیٹ میں موجود بچے) کے بارے میں فیصلہ کرتے ہوئے سنا ہو، تو حمل بن مالک بن نابغہ ہذلی کھڑے ہوئے اور عرض کیا: اے امیر المؤمنین! میں دو عورتوں (سوکنوں) کے درمیان تھا، ان میں سے ایک نے دوسری کو اپنے خیمے کے ستون سے زخمی کر دیا -یا مارا- جس سے وہ عورت اور اس کے پیٹ میں موجود بچہ دونوں مر گئے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنین کے بارے میں ایک غُرَّہ (یعنی ایک غلام یا لونڈی بطورِ دیت) دینے کا فیصلہ فرمایا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ اکبر! اگر ہم یہ (حدیث) نہ سنتے تو ہم اس کے علاوہ کچھ اور فیصلہ کر دیتے۔
سیدنا عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا تذکرہ؛ ان کے شرف اور نسب کا تقاضا تو یہ تھا کہ ان کا ذکر ان کے بھائیوں اور قبیلے کے ساتھ ہی کیا جاتا، لیکن ان کا ذکر ائمہ کی مسانید میں مرویات کی کمی کی وجہ سے مؤخر ہو گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6603]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،إسحاق بن إبراهيم: هو الدَّبَري.» [ترقيم الرساله 6603] [ترقيم الشركة 6524]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں