المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
888. ذِكْرُ عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
سیدنا عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر اور یہ کہ شرف و نسب کے اعتبار سے ان کا ذکر ان کے بھائیوں کے قریب ہونا چاہیے تھا مگر روایت کی کمی کی وجہ سے مؤخر ہوا
حدیث نمبر: 6603
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن علي الصَّنعاني بمكة، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عبد الرزاق، عن ابن عُيَينة، أخبرني عمرو بن دينار، عن طاووس، عن ابن عبّاس قال: قام عمرُ على المِنبَر فقال: أُذكِّرُ امْرَأً سَمِعَ رَسُولَ اللهِ ﷺ قَضَى في الجَنِينَ، فقام حَمَلُ بن مالك بن النابغة الهُذَلي فقال: يا أميرَ المؤمنين، كنت بين جارتَينِ (1) -يعني ضَرَّتَين- فجَرَحَت- أو ضربَت - إحداهما الأخرى بعمودِ ظُلَّتِها، فقتلَتْها وقتلتْ ما في بطنها، فقَضَى النبيُّ ﷺ في الجَنِين بغُرَّةٍ: عبدٍ أو أمةٍ، فقال عمر: الله أكبر، لو لم نَسمَعْ بهذا قَضَينا (2) بغيرِه (3) . ذكرُ عَقِيل بن أبي طالب ﵁- وكان من حقِّ شَرَفه ونَسَبِه أن يُقرَّبَ ذِكرُه من إخوته وعَشيرته، وإنما تأخَّر لقِلَّة روايتِه وذكره في مسانيد الأئمَّة ﵃.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ منبر پر کھڑے ہوئے اور فرمایا: کیا کسی شخص کو یاد ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کے بارے میں کیا فیصلہ فرمایا تھا؟ سیدنا حمل بن مالک بن نابغہ ہذلی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے: اے امیرالمومنین! دو لونڈیاں حاملہ تھیں، ان میں سے ایک نے اپنی چھتری کی ڈنڈی دوسری کو ماری جس کی وجہ سے وہ عورت بھی مر گئی اور اس کے پیٹ کا بچہ بھی مر گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ حمل کے بدلے میں ایک غلام یا ایک لونڈی دی جائے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ اکبر! اگر ہم یہ نہ سنتے تو اس کے بغیر کوئی فیصلہ نہ کر سکتے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6603]