المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
911. صَلَاةُ النَّبِيِّ عَلَى جِنَازَةٍ كَانَتْ رَحْمَةً لَهَا
نبی کریم ﷺ کا ایک جنازے پر نماز پڑھنا جو اس کے لیے رحمت کا سبب بنی
حدیث نمبر: 6648
حدَّثَناه أبو بكر إسماعيل بن محمد بن إسماعيل الفقيه بالرَّيّ، حدثنا أبو حاتم الرازي، حدثنا عبد الله بن صالح، حدثنا ابن لَهِيعة، حدثنا عثمان بن حَكيم، أخبرني خارجةُ بن زيد بن ثابت عن عمِّه يزيد بن ثابت: أنهم خَرَجُوا مع رسول الله ﷺ ذاتَ يومٍ مع جنازةٍ حتى وَرَدُوا البَقيعَ، قال:"ما هذا؟" قالوا: هذه فُلانةُ مولاةُ بني فُلانٍ، فعَرَفَها، فقال:"هلَّا آذنتُمُونِي بها" قالوا: دفنَّاها ظُهرًا وكنتَ قائلًا نائمًا، فلم نُحِبَّ أن نُؤذِنَك بها، فقام وصَفَّ الناس خلفَه وكبَّر عليها أربعًا، ثم قال:"لا يموتُ منكم ميِّتٌ إلَّا آذَنتُموني، فإنَّ صلاتي لهم رَحْمة" (3) . ذكرُ بُسْر بن أبي أَرْطاة ﵁- (1)
خارجہ بن زید بن ثابت اپنے چچا یزید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ: وہ لوگ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک جنازے کے لیے نکلے یہاں تک کہ بقیع پہنچے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ایک نئی قبر دیکھ کر) دریافت فرمایا: ”یہ کیا ہے؟“ لوگوں نے عرض کی: یہ فلاں قبیلے کی فلاں آزاد کردہ لونڈی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پہچان لیا اور فرمایا: ”تم نے مجھے اس کے متعلق اطلاع کیوں نہ دی؟“ انہوں نے عرض کی: ہم نے اسے ظہر کے وقت دفن کیا تھا اور آپ اس وقت قیلولہ (آرام) فرما رہے تھے، اس لیے ہم نے آپ کو زحمت دینا پسند نہ کیا۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور لوگوں نے آپ کے پیچھے صفیں بنائیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر چار تکبیریں کہیں، پھر فرمایا: ”تم میں سے جب بھی کسی کا انتقال ہو تو مجھے ضرور اطلاع دیا کرو، کیونکہ میری نماز ان کے لیے رحمت ہے۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6648]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، عبد الله بن صالح وعبد الله بن لَهِيعة فيهما مقال من جهة حفظهما، لكنهما متابعان، وباقي رجال الإسناد ثقات إلّا أنه منقطع بين خارجة وعمه يزيد كما سبق.» [ترقيم الرساله 6648] [ترقيم الشركة 6569]
الحكم على الحديث: صحيح لغيره