🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

912. ذِكْرُ بُسْرِ بْنِ أَبِي أَرْطَاةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا بسر بن ابی ارطاة رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6648
حدَّثَناه أبو بكر إسماعيل بن محمد بن إسماعيل الفقيه بالرَّيّ، حدثنا أبو حاتم الرازي، حدثنا عبد الله بن صالح، حدثنا ابن لَهِيعة، حدثنا عثمان بن حَكيم، أخبرني خارجةُ بن زيد بن ثابت عن عمِّه يزيد بن ثابت: أنهم خَرَجُوا مع رسول الله ﷺ ذاتَ يومٍ مع جنازةٍ حتى وَرَدُوا البَقيعَ، قال:"ما هذا؟" قالوا: هذه فُلانةُ مولاةُ بني فُلانٍ، فعَرَفَها، فقال:"هلَّا آذنتُمُونِي بها" قالوا: دفنَّاها ظُهرًا وكنتَ قائلًا نائمًا، فلم نُحِبَّ أن نُؤذِنَك بها، فقام وصَفَّ الناس خلفَه وكبَّر عليها أربعًا، ثم قال:"لا يموتُ منكم ميِّتٌ إلَّا آذَنتُموني، فإنَّ صلاتي لهم رَحْمة" (3) . ذكرُ بُسْر بن أبي أَرْطاة ﵁- (1)
خارجہ بن زید بن ثابت اپنے چچا یزید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے بارے میں بیان کرتے ہیں کہ ایک دن وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک جنازہ میں شریک ہونے کے لئے نکلے، یہ لوگ جنت البقیع تک پہنچے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میت کے بارے میں دریافت کیا کہ یہ کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا کہ یہ ایک خاتون کا جنازہ ہے جو کہ بنی فلاں کی آزاد کردہ لونڈی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پہچان گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگوں نے مجھے اطلاع کیوں نہیں دی تھی؟ صحابہ کرام نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے اس کو ظہر کے بعد دفن کیا، اس وقت آپ آرام فرما ہوتے ہیں، ہمیں اچھا نہیں لگا کہ آپ کے آرام میں خلل ڈالا جائے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس خاتون کی قبر کے پاس کھڑے ہوئے، صحابہ کرام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہوئے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز جنازہ پڑھی، پھر فرمایا: کوئی بھی شخص فوت ہو، مجھے ضرور بتایا کرو، کیونکہ میں اس کا جنازہ پڑھوں گا تو یہ اس کے لئے باعث رحمت ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6648]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6649
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا إبراهيم بن إسحاق الحَرْبي، حدثنا مصعب بن عبد الله الزُّبيري قال: بُسْرُ بن أبي أَرْطأةَ -واسم أبي أَرْطاةَ عُمَيرٌ- بن عَمرو (2) بن عُوَيمِر بن عِمْران بن الحُلَيس (3) بن سيَّار بن نِزَار بن مَعِيص بن عامر بن لُؤَيٍّ.
مصعب بن عبداللہ زبیری نے ان کا نسب یوں بیان کیا ہے بسر بن ابی ارطاۃ بن عمیر بن عمرو بن عویمر بن عمران بن الحلبس بن سیار بن نزار بن معیص بن عامر بن لؤی ۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6649]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6650
أخبرني أحمد بن يعقوب الثَّقَفي، حدثنا موسى بن زكريا التُّستَري، حدثنا خَليفة بن خيّاط قال: مات بُسْر بن أبي أرْطاة في خلافة معاوية، وكان قد كَبِرَ سنُّه حتى خَرِفَ، وكان يُكنَى أبا عبد الرحمن، تُوفِّي بالمدينة، وله دارٌ بالبَصْرة (4) .
خلیفہ بن خیاط فرماتے ہیں: سیدنا بسر بن ابی ارطاۃ رضی اللہ عنہ، سیدنا معاویہ کی خلافت میں فوت ہوئے، بہت زیادہ عمر رسیدہ ہونے کی وجہ سے ان کی عقل میں کچھ خلل واقع ہو گیا تھا۔ ان کی کنیت ابوعبدالرحمن تھی مدینہ منورہ میں ان کا انتقال ہوا، ان کی اولاد امجاد بصرہ میں قیام پذیر ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6650]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں