المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
916. ذِكْرُ ابْنِهِ بَصْرَةَ بْنِ أَبِي بَصْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
ان کے بیٹے سیدنا بصرة بن ابی بصرة رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر
حدیث نمبر: 6657
أخبرني أحمد بن يعقوب الثَّقَفي، حدثنا موسى بن زكريا التُّستَري، حدثنا شَبَاب قال: أبو بَصْرة حُمَيل بن بَصْرة (2) من بني حَرَام بن غِفَارِ، تُوفِّي في عهد عمر بن الخطَّابِ. قد روى عن أبي بَصْرةَ جماعةٌ من أصحاب رسول الله ﷺ.
کئی صحابہ کرام نے سیدنا ابوبصرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمہارے لئے ایک اور نماز کا اضافہ کیا ہے، تم وہ نماز عشاء اور فجر کے درمیان پڑھا کرو، اور وہ نماز ہے ” وتر “۔ سیدنا ابوبصرہ ” غفاری “ ہیں۔ ابوتمیم کہتے ہیں: میں اور ابوذر رضی اللہ عنہ دونوں بیٹھے ہوئے تھے، سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے ابوبصرہ رضی اللہ عنہ کے پاس لے گئے، دار عمرو کے قریب دروازے پر ہی ہماری ان کے ساتھ ملاقات ہو گئی۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اے ابوبصرہ رضی اللہ عنہ کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ” اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمہارے لئے ایک اور نماز کا اضافہ کیا ہے، اس کو تم عشاء اور فجر کی نماز کے درمیان (کسی بھی وقت) پڑھ لیا کرو “ سیدنا ابوبصرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: جی ہاں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6657]
حدیث نمبر: 6658
حدثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حدثنا الرَّبيع بن سليمان، حدثنا أَسدُ بن موسى، حدثنا ابن لَهِيعة، حدثنا أبو هُبَيرة، أَنَّ أَبا تَمِيمٍ الجَيْشاني عبدَ الله ابنَ مالك أخبره، أنه سمع عمرَو بنَ العاص يقول: أخبرني رجلٌ من أصحاب رسول الله ﷺ أنه سمع رسول الله ﷺ يقول:"إنَّ الله ﵎ قد زادكم صلاةً، فصلُّوها فيما بينَ صلاةِ العِشاء إلى صلاةِ الصُّبح، وهي الوِترُ". وإنَّه أبو بَصْرة الغِفاري. قال أبو تَميمٍ: فكنت أنا وأبو ذرٍّ قاعدَينِ، فأخَذ بيدي أبو ذرٍّ فانطلقنا إلى أبي بَصْرة، فوجدناه عندَ الباب الذي عندَ دارِ عَمرو، فقال له أبو ذر يا أبا بَصْرة، أنت سمعتَ رسول الله ﷺ يقول:"إنَّ الله ﵎ زادكم صلاةً، فَصَلُّوها فيما بينَ صلاةِ العشاءِ إلى صلاةِ الصُّبح؛ الوِترُ الوِترُ"؟ قال: نعم (1) . ذكرُ ابنه بَصْرة بن أبي بَصْرة ﵁-
6658 - سیدنا عمرو بن العاص (رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی (ابوبصرہ غفاری رضی اللہ عنہ) نے خبر دی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”بے شک اللہ عزوجل نے تمہاری نمازوں میں ایک نماز کا اضافہ فرما دیا ہے، پس تم اسے عشاء اور صبح کی نماز کے درمیان پڑھا کرو، اور وہ 'وتر' ہے“۔ ابوتمیم کہتے ہیں کہ میں اور سیدنا ابوذر (رضی اللہ عنہ) بیٹھے ہوئے تھے، تو ابوذر نے میرا ہاتھ پکڑا اور ہم ابوبصرہ کے پاس گئے، انہیں عمرو بن العاص کے گھر کے پاس والے دروازے پر پایا۔ سیدنا ابوذر نے ان سے پوچھا: ”اے ابوبصرہ! کیا آپ نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ اللہ عزوجل نے تمہاری نمازوں میں ایک نماز کا اضافہ کیا ہے، اسے عشاء اور صبح کی نماز کے درمیان پڑھو ؛ وتر، وتر؟“ انہوں نے جواب دیا ”جی ہاں“۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6658]