🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

934. هِدَايَةُ الطَّرِيقِ مِنَ الْأَسَدِ لِسَفِينَةَ
شیر کا سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ کو راستہ بتانا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6695
وحدثنا أبو العبَّاس، حدثنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني أسامة بن زيد، أنَّ محمد بن عبد الله بن عمرو بن عثمان حدَّثه، عن محمد بن المنكدِر، أنَّ سَفينة مولى رسول الله ﷺ قال: ركبتُ البحرَ، فانكسرَت سفينتي التي كنتُ فيها، فركبتُ لوحًا من ألواحها، فطر حني اللوحُ (1) في أجَمَةٍ فيها الأسدُ، فأقبل إليَّ يُريدني، فقلتُ: يا أبا الحارث، أنا مولى رسول الله، فطأطأَ رأسَه وأقبل إليَّ فدفعني بمَنكِبِه حتى أخرجني من الأجَمَة ووَضَعَني على الطريق، وهمهَمَ، فظننتُ أنه يُودِّعني، فكان ذلك آخرَ عهدي به (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم ولم يُخرجاه. ذكر زياد بن لَبِيد الأنصاري ﵁- (3
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6550 - على شرط مسلم
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں سمندر میں سفر کر رہا تھا کہ میری کشتی ٹوٹ گئی، میں اس کے ایک تختے پر سوار ہو گیا، اس تختے نے مجھے ایک ایسی جھاڑی میں پھینک دیا جہاں شیر رہتا تھا، وہ شیر میری طرف بڑھا تو میں نے کہا: ”اے ابوالحارث (شیر کی کنیت)! میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا غلام ہوں“، تو اس نے اپنا سر جھکا لیا اور میری طرف آیا، اس نے اپنے کندھے سے مجھے دھکا دے کر جھاڑی سے باہر نکالا اور مجھے راستے پر لا کھڑا کیا، پھر وہ دھیمی آواز میں غرایا، میرا خیال ہے کہ وہ مجھے الوداع کہہ رہا تھا، یہ میرا اس کے ساتھ آخری واسطہ تھا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ (اس کے بعد) سیدنا زیاد بن لبید انصاری رضی اللہ عنہ کا ذکر ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6695]
تخریج الحدیث: «صحيح إن صحَّ سماعُ محمد بن المنكدر له من سفينة، وهو الراجح، وهذا إسناد لا بأس برجاله. وسلف الكلام عليه مفصلًا برقم (4281).» [ترقيم الرساله 6695] [ترقيم الشركة 6615] [ترقيم العلميه 6550]

الحكم على الحديث:
صحيح إن صحَّ سماعُ محمد بن المنكدر له من سفينة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں