المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
933. ذِكْرُ سَفِينَةَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر جو رسول اللہ ﷺ کے غلام تھے اور ان کے نام کی وجہ
حدیث نمبر: 6692
أخبرني دَعْلَج بن أحمد السِّجْزي ببغداد، حدثنا أحمد بن علي الأبَّار، حدثنا محمد بن أبي السَّرِي العسقلاني، حدثنا الوليد بن مُسلم، حدثنا محمد بن حمزة بن يوسف بن عبد الله بن سَلَام، عن أبيه، عن جدِّه، عن عبد الله بن سَلَام قال: إِنَّ الله ﵎ لمَّا أراد هُدى زيد بن سَعْنة قال زيدُ بن سَعْنة: ما من علامات النُّبوة شيءٌ إلَّا وقد عرفتُها في وجهِ محمدٍ ﷺ حينَ نظرتُ إليه إِلَّا شيئين لم أخبُرْهما منه: هل يَسبِقُ حِلمُه جهلَه، ولا يزيدُه شدَّة الجهل عليه إلَّا حلمًا؟ فكنتُ ألطُفُ له (2) لأن أخالطَه فأعرفَ حِلمَه من جهله. قال زيدُ بن سَعْنة: فخرج رسول الله ﷺ يومًا من الحُجُرات ومعه عليُّ بن أبي طالب، فأتاه رجلٌ على راحلته كالبدويِّ، فقال يا رسولَ الله، إنَّ قريةَ بني فلان قد أسلموا ودخلوا في الإسلام، وكنتُ حدثتُهم إن أسلموا أَتاهم الرزقُ رَغَدًا، وقد أصابتهم سَنَةٌ وشِدَّة وقُحوطٌ من الغيث، فأنا أخشى يا رسولَ الله أن يخرجوا من الإسلام طَمَعًا كما دخلوا فيه طَمَعًا، فإن رأيتَ أن ترسل إليهم بشيء تعينهم به، فعلت، فنظر إلى رجلٍ إلى جانبه أُراه عليًّا (3) ، فقال: يا رسولَ الله، ما بقي منه شيءٌ. قال زيد بن سَعْنة، فدَنَوتُ إليه، فقلت: يا محمد، هل لك أن تبيعني تمرًا معلومًا من حائطِ بني فلانٍ إلى أجلِ كذا وكذا؟ فقال:"لا يا يهوديُّ، ولكن أبيعك تمرًا معلومًا إلى أجلِ كذا وكذا، ولا أسمِّي حائطَ فلان" فقلتُ: نعم، فبايَعَني، فأطلقتُ هِمْياني فأعطيتُه ثمانين مِثقالًا من ذهبٍ في تمر معلوم إلى أجلِ كذا وكذا، فأعطاها الرجلَ، فقال:"اعجَلْ (1) عليهم وأعِنْهم بها". قال زيد بن سَعْنة: فلما كان قبلَ مَحَلِّ الأجل بيومين أو ثلاثةٍ أتيتُه، فأخذتُ بمَجامعِ قميصِه وردائِه، ونظرتُ إليه بوجهٍ غليظ، فقلتُ له: ألا تقضِيني يا محمدُ حقِّي، فوالله ما عَلِمتُكم بني عبد المطلب بمُطْلٍ، ولقد كان لي بمُخالطتِكم علمٌ، ونظرتُ إلى عمر فإذا عيناه تدورانِ في وجهه كالفَلَك المُستدير، ثم رماني ببصرِه، فقال: يا عدوَّ الله، أتقولُ الرسول الله ﷺ ما أسمعُ، وتصنعُ به ما أرى؟! فوالذي بعثَه بالحقِّ لولا ما أُحاذِرُ فَوْتَه لضربتُ بسيفي رأسك، ورسول الله ﷺ ينظرُ إلى عمر في سكون وتُوَّدَةٍ وتبسُّم، ثم قال:"يا عمرُ، أنا وهو كُنَّا أحوج إلى غير هذا؛ أن تأمرَني بحُسن الأداءِ، وتأمره بحُسن التِّباعة، اذهَبْ به يا عمرُ فأَعطِه حقَّه، وزِدْه عشرينَ صاعًا من تمر". فقلتُ: ما هذه الزيادةُ يا عمر؟ قال: أمرني رسولُ الله ﷺ أن أزيدَك مكانَ ما رُعْتُكَ، قلت: وتعرفُني يا عمرُ؟ قال: لا، من أنت؟ قلتُ: زيدُ بن سَعْنة، قال: الحَبْر، قلت: الحَبْرُ، قال: فما دعاك أن فعلتَ برسولِ الله ﷺ ما فعلتَ وقلتَ له ما قلتَ؟ قلتُ له: يا عمرُ، لم يكن من علاماتِ النبوة شيءٌ إِلَّا وقد عرفتُه في وجهِ رسولِ الله ﷺ حينِ نظرتُ إليه إلَّا اثنتين لم أخبُرْهما منه: هل يَسبِقُ حِلمُه جهله، ولا تزيدُه (2) شِدَّة الجهلِ عليه إلَّا حِلمًا فقد اختبرتُهما، فأُشهدك يا عمرُ أني قد رضيت بالله ربًا، وبالإسلام دينًا، وبمحمد ﷺ نبيًّا، وأُشهدك أن شَطْر مالي -فإنِّي أكثرُها (3) مالًا- صدقةٌ على أمة محمِّد ﷺ، فقال عمر: أو على بعضهم، فإنَّك لا تَسَعُهم، قلتُ: أو على بعضهم، فرجع زيدٌ إلى رسولِ الله ﷺ، فقال زيدٌ: أشهد أن لا إله إلَّا الله، وأشهد أنَّ محمدًا عبده (4) ورسوله، وآمنَ به وصدَّقه وبايعه، وشَهِدَ معه مشاهدَ كثيرة، ثم تُوفِّي زيدٌ في غزوة تبوك مُقبلًا غيرَ مُدبِر، ورحم الله زيدًا (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد ولم يُخرجاه، وهو من غُرَرِ الحديث، ومحمد بن أبي السَّرِي العسقلاني ثقة. ذكرُ سَفِينةَ مولى رسول الله ﷺ
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6547 - ما أنكره وأركه
هذا حديث صحيح الإسناد ولم يُخرجاه، وهو من غُرَرِ الحديث، ومحمد بن أبي السَّرِي العسقلاني ثقة. ذكرُ سَفِينةَ مولى رسول الله ﷺ
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6547 - ما أنكره وأركه
سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب اللہ تعالیٰ نے سیدنا زید بن سعنہ رضی اللہ عنہ کو ہدایت دینے کا ارادہ فرمایا تو سیدنا زید بن سعنہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر نبوت کی تمام نشانیاں دیکھ لیں، البتہ دو باتیں رہ گئی تھیں، وہ میں آزما نہیں سکا تھا، ایک تو یہ کہ کیا ان کی بردباری ان کی لاعلمی پر غالب ہے؟ اور شدت جہل ان کے حلم میں اضافہ کرتی ہے؟ چنانچہ میں اس ٹوہ میں رہنے لگا کہ کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہونے کا موقع ملا تو ان کا حلم اور جہل آزماؤں گا۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک دیہاتی آدمی اپنی سواری پر سوار ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور کہنے لگا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فلاں قبیلے کے لوگ اسلام لا چکے ہیں اور میں نے ان سے وعدہ کیا تھا کہ اگر وہ لوگ اسلام قبول کر لیں گے تو ان کے رزق میں اضافہ ہو جائے گا، لیکن وہ تو بہت زیادہ قحط میں مبتلا ہو گئے ہیں، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے خدشہ ہے کہ اگر ان کی یہی حالت رہی تو ان لوگوں نے جیسے کھانے کے لالچ میں اسلام قبول کیا تھا اسی طرح کھانے کی لالچ میں اسلام کو چھوڑ بھی دیں گے۔ اگر آپ کسی طرح ان کی امداد فرما سکتے ہوں تو مہربانی فرمائیے، ایک آدمی نے میری جانب دیکھا، میرا خیال ہے کہ وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے۔ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب کچھ تو ختم ہو چکا ہے، سیدنا زید بن سعنہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہوا اور عرض کی: اے محمد! کیا آپ مجھے فلاں شخص کے باغ کی کھجوریں فلاں تاریخ تک کے ادھار پر دلوا سکتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: نہیں، اے یہودی! میں تجھے کھجوریں دلوا سکتا ہوں البتہ تم کسی مخصوص باغ کی شرط مت لگاؤ، میں نے کہا: ٹھیک ہے جی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کھجوریں دلوا دیں، میں نے اپنا تھیلا کھولا اور اس میں سے 80 مثقال سونا ان کھجوروں کے زر ضمانت کے طور پر ایک مقررہ تاریخ تک کے لئے رکھوا دیا، اس آدمی نے وہ کھجوریں دیں اور ساتھ ہی ساتھ کہا: ان پر انصاف کرنا اور ان کھجوروں کے ساتھ ان کی مدد کرنا۔ سیدنا زید بن سعنہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: کھجوروں کی معیاد ختم ہونے میں جب صرف دو تین دن باقی رہ گئے تھے، تب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، میں نے آپ کے دامن اور چادر کو زور سے پکڑا اور بہت غصیلے انداز میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب دیکھا اور کہا: آپ مجھے میری رقم واپس نہیں کریں گے؟ خدا کی قسم! عبدالمطلب کی ساری اولاد ہی ایسی ہے، یہ وقت پر کبھی بھی ادائیگی نہیں کرتے، ہمیشہ ٹال مٹول سے کام لیتے ہیں، مجھے پتا تھا کہ تمہارا لین دین ایسا ہی ہوتا ہے۔ یہ کہتے ہوئے میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی جانب دیکھا، آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کی جانب گول آسمان کی طرح نظریں گھما رہے تھے، اس کے بعد انہوں نے میری جانب دیکھا اور فرمایا: اے اللہ کے دشمن! تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ باتیں کہہ رہے ہو جو میں نے تمہاری زبان سے ابھی سنی ہیں، اور تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وہ سلوک کر رہا ہے جو ابھی میری نگاہیں دیکھ رہی ہیں؟ خدا کی قسم! اگر مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت کی حفاظت کا فکر نہ ہوتا تو میں اپنی تلوار کے ساتھ تیرا سر قلم کر دیتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بڑے اطمینان کے ساتھ سیدنا عمر کی جانب دیکھ کر مسکرا رہے تھے، پھر فرمایا: اے عمر میں اور وہ شخص دوسرے سلوک کے مستحق تھے۔ چاہیے یہ تھا کہ تم مجھے اچھے انداز میں ادائیگی کا کہتے اور اس کو اچھے انداز میں مطالبہ کرنے کا کہتے۔ اے عمر! اس کو ساتھ لے جاؤ، اور اس کو اس کا حق ادا کر دو، اور 20 صاع کھجوریں اس کو اضافی بھی دینا۔ (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق جب اضافی کھجوریں بھی مجھے دے دیں تو) میں نے کہا: اے عمر! یہ اضافی کھجوریں مجھے کیوں دی جا رہی ہیں؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے کہ میں نے جو تمہیں سخت الفاظ بولے ہیں ان کے بدلے تمہیں زیادہ کھجوریں دوں۔ میں نے کہا: اے عمر! کیا تم مجھے پہچانتے ہو؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ میں نے کہا: میں ” زید بن سعنہ “ ہوں۔ انہوں نے پوچھا: یہودی عالم؟ میں نے کہا: ہاں۔ آپ نے پوچھا: پھر تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وہ معاملہ کیوں کیا؟ اور وہ باتیں جو تم نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیں، اس کی وجہ کیا تھی؟ میں نے کہا: اے عمر! میں نے نبوت کی تمام نشانیاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ انور کی زیارت کرتے ہی دیکھ لی تھیں، البتہ دو نشانیاں رہ گئی تھیں، میں وہ نہیں دیکھ پایا تھا، ان میں سے ایک یہ کہ اس رسول کا حلم، اس کے جہل پر غالب رہے گا۔ نمبر 2، شدت جہل اس کے حلم میں اضافے کا باعث بنے گی۔ میں تو وہ نشانیاں آزما رہا تھا (اب جبکہ میں تمام نشانیاں دیکھ چکا ہوں تو) اے عمر! میں تجھے گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں اللہ تعالیٰ کے رب ہونے پر، اسلام کے دین ہونے پر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے پر راضی ہوں۔ میں تجھے اس بات پر بھی گواہ بناتا ہوں کہ کیونکہ مجھے اللہ تعالیٰ نے بہت مال سے نوازا ہے، اس لئے میرا آدھا مال، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری امت کے لئے صدقہ ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ یہ مال ساری امت پر صدقہ نہ کریں بلکہ بعض امت پر کریں، کیونکہ ساری امت تک یہ مال پہنچانا آپ کے بس کی بات نہیں ہے۔ میں نے کہا: ٹھیک ہے، میرا آدھا مال بعض امت پر صدقہ ہے۔ اس کے بعد سیدنا زید بن سعنہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور آ کر کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے بندے اور رسول ہیں۔ یوں سیدنا زید بن سعنہ رضی اللہ عنہ ایمان لائے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کی۔ آپ کی بیعت کی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ بہت سارے غزوات میں بھی شرکت کی۔ غزوہ تبوک میں بہادری کے ساتھ لڑتے ہوئے آپ نے جام شہادت نوش کیا۔ اللہ تعالیٰ سیدنا زید بن سعنہ رضی اللہ عنہ پر رحم فرمائے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا حالانکہ یہ مشہور حدیث ہے، اور اس کی سند میں جو ” محمد بن ابی سری عسقلانی “ نامی راوی ہیں، یہ ثقہ ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6692]
حدیث نمبر: 6693
أخبرنا محمد بن علي الشيباني بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم الغِفاري (ح) وحدثنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا علي بن عبد العزيز؛ قالا: حدثنا أبو نُعيم، حدثنا حَشْرج بن نُباتة، قال: [حدثني سعيد بن جُمْهان، قال] (2) : سألتُ سَفينةَ عن اسمه، فقال: أمَا إني مُخبرُك باسمي، كان اسمي قيسًا فسمَّاني رسولُ الله ﷺ سفينةَ، قلت: لِمَ سمَّاك سفينةَ؟ قال: خرج ومعه أصحابُه فثَقُل عليهم متاعُهم، فقال:"ابسُط كساءَك" فبسطتُه، فجعلَ فيه متاعَهم، ثم حمله عليَّ، فقال:"احمِلْ، ما أنت إلَّا سَفينةٌ"، فقال: لو حملتُ يومَئذ وِقْرَ بعيرٍ أو بعيرينِ أو خمسةٍ أو ستةٍ ما ثَقُل عليَّ (3) . صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6548 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6548 - صحيح
حشرج بن نباتہ فرماتے ہیں: میں نے سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ سے ان کا نام پوچھا تو انہوں نے فرمایا: میرا اصلی نام ” قیس “ تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا نام ” سفینہ “ رکھا۔ میں نے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہارا نام سفینہ کیوں رکھا؟ انہوں نے کہا: ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کے ہمراہ کسی سفر پر نکلے، ان کو ان کا سامان بھاری لگ رہا تھا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: اپنی چادر بچھاؤ، میں نے اپنی چادر بچھا دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا سارا سامان اس چادر میں ڈال کر میرے اوپر لاد دیا اور فرمایا: تم یہ اٹھا لو، تم تو سفینہ ہو۔ آپ فرماتے ہیں اس دن ایک یا دو یا پانچ یا چھ جتنے بھی اونٹوں کا بوجھ مجھ پر لاد دیا جاتا، وہ مجھے ہرگز بھاری نہ لگتا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6693]