🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

936. ذِكْرُ سَعْدِ الْقَرَظِ الْمُؤَذِّنِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ذكر أذان بلال رضي الله عنه
سیدنا سعد القرظ مؤذن رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے اذان کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6698
أخبرنا موسى بن إسماعيل بن القاضي، حدثنا أبي، حدثنا إبراهيم بن حمزة الزُّبيري، حدثنا إسماعيل بن قيس، عن أبيه، عن خارجةَ بن زيد بن ثابت، عن أمِّ سعد بنت سعد بن الربيع: أنها دخلت على أبي بكر الصِّدِّيق، فألقى لها ثوبَه حتى جلست عليه، فدخلَ عليه عمرُ بن الخطاب فقال: يا خليفةَ رسولِ الله، مَن هذه؟ قال: هذه بنتُ مَن هو خيرٌ منِّي ومنك، قال: ومَن هو خيرٌ منِّي ومنك إِلَّا رسولَ الله ﷺ؟ قال أبو بكر: رجلٌ قُبِضَ على عهِد رسول الله ﷺ تبوَّأ مَقعدَه من الجنة، وبقيتُ أنا وأنت (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ذكر سعد القَرَظِ المُوذِّن ﵁-
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6553 - بل إسماعيل ضعفوه
ام سد بنت سعد بن ربیع فرماتی ہیں: وہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس گئیں، آپ نے اپنا کپڑا ان پر ڈال دیا، میں ان کے پاس بیٹھ گئی، پھر ان کے پاس سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ آ گئے، انہوں نے میرے بارے میں پوچھا: اے خلیفۃ المسلمین! یہ کون ہے؟ انہوں نے فرمایا: یہ اس شخص کی بیٹی ہے جو مجھ سے بھی بہتر ہے اور تجھ سے بھی بہتر ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ اور کون ہو سکتا ہے جو تجھ سے بھی بہتر ہو اور مجھ سے بھی بہتر ہو۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ایک ایسا آدمی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں وفات پا گیا، وہ تو اپنا ٹھکانا جنت میں بنا چکا، جبکہ تو اور میں ابھی اس دنیا میں موجود ہیں۔ (تو بہتر وہی ہوا، جو جنت میں جا چکا ہے) ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6698]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6699
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الإمام وعلي بن حَمْشَاذَ العَدْل، قالا: حدثنا بِشر بن موسى الأسدي، حدثنا عبد الله بن الزُّبير الحُمَيدي، حدثنا عبد الرحمن بن عمَّار بن سعدِ القَرَظِ مؤذِّنُ رسولِ الله ﷺ، حدثني أبي، عن جدِّي: أَنَّ رسولَ الله ﷺ أمرَ بلالًا أن يُدخِلَ إصبَعَه في أُذنه، وقال:"إنه أرفعُ لصوتِك"، وأنَّ أذانَ بلال (2) كان مَثْنَى مَثْنى، وإقامتَه مفردةٌ، وقد قامت الصلاةُ مرةً مرةً واحدة. وأنَّه كان يُؤذِّن يومَ الجمعة على رسول الله إذا كان الفيءُ مثلَ الشِّراك. وأنَّ رسولَ الله ﷺ كان إذا خرجَ إلى العيدين سَلَكَ على دار سعد بن أبي وقّاص، ثم على أصحاب الفَساطِيط، ثم بدأ بالصلاةِ قبلَ الخطبة، ثم كبَّر في الأولى سبعًا قبلَ القراءة، وفي الآخرة خمسًا قبل القراءة، ثم خَطَب الناسَ، ثم انصرف من الطريق الآخر من طريق بني زريق، فذَبَح أُضحيَّتَه عند طرف الزُّقاق بيده بشَفْرةٍ، ثم خرج إلى دار عمار بن ياسر ودار أبي هريرة بالبَلاطَ، وكان يخرُجُ إلى العيدين ماشيًا، ويرجعُ ماشيًا، وكان يُكبِّر بين أضعاف الخُطبة، ويُكثِر التكبيرَ في الخطبة للعِيدين، وكان إذا خَطَب في الحرب خطب على قوس، وإذا خطب في الجمعة خطب على عَصًا. وأنَّ بلالًا كان إذا كبَّر بالأذان استقبلَ القبلةَ، ثم يقول: الله أكبرُ الله أكبرُ، أشهدُ أنْ لا إلهَ إِلَّا الله، مرَّتينِ، أشهدُ أنَّ محمدًا رسول الله، مرَّتين، ويستقبلُ القبلةَ ثم ينحرِفُ عن القبلة، فيقول: حيَّ على الصلاة مرَّتين، ثم ينحرف عن يسار القبلة، فيقول: حيَّ على الفلاح، مرَّتين، ثم يستقبلُ القبلةَ فيقول: الله أكبرُ الله أكبرُ، لا إله إلَّا اللهُ (1)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے موذن، عبدالرحمن بن عمار بن سعد القرظ اپنے والد کے حوالے سے ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ اذان دیتے ہوئے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ڈال لیا کریں کیونکہ اس سے آواز زیادہ بلند ہوتی ہے۔ سیدنا بلال کی اذان میں تمام جملے دو دو مرتبہ ہوتے تھے اور اقامت کے الفاظ ایک ایک فقرہ ہوتا تھا، قد قامت الصلاۃ ایک ایک مرتبہ کہتے تھے، آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جمعہ کی اذان اس وقت کہتے تھے جب سایہ ایک تسمے کے برابر ہو جاتا تھا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب عیدین کے لئے نکلتے تو سیدنا سعد بن ابی وقاص کے گھر کی طرف سے ہوتے ہوئے خیمہ والوں کے پاس سے گزر کر عید گاہ میں تشریف لے جاتے، وہاں خطبہ سے پہلے نماز پڑھاتے، پھر پہلی رکعت میں قراءت سے پہلے سات تکبیریں کہتے اور دوسری رکعت میں قراءت سے پہلے 5 تکبیریں کہتے، پھر خطبہ دیتے، (خطبہ کے بعد دعا وغیرہ سے فارغ ہو کر جب واپس نکلتے تو بنی زریق کا راستہ اختیار کرتے، پھر صحرا کی جانب اپنے ہاتھ سے قربانی کرتے، پھر سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے گھر کی جانب سے ہوتے ہوئے ہموار زمین میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے گھر کی طرف سے آتے، آپ عیدین میں پیدل ہی عید گاہ کی جانب تشریف لے جاتے اور پیدل ہی واپس تشریف لاتے، آپ دونوں خطبوں کے درمیان اللہ اکبر کہتے، اور خطبہ کے دوران کثرت سے تکبیر کہتے، آپ عصا مبارک ہاتھ میں لئے خطبہ دیا کرتے تھے۔ اور سیدنا بلال جب اذان دیتے تو چہرہ قبلہ کی جانب کرتے، پھر اللہ اکبر اللہ اکبر دو مرتبہ کہتے، اشھد ان لا الہ الا اللہ دو مرتبہ کہتے، اشھد ان محمدا رسول اللہ دو مرتبہ کہتے، یہ کہتے ہوئے آپ کا رخ قبلہ کی جانب ہی ہوتا، پھر قبلہ سے منہ پھیر کر (اپنا چہرہ دائیں جانب کرتے اور) دو مرتبہ حی علی الصلوٰۃ کہتے، پھر اپنے بائیں جانب گھوم جاتے اور دو مرتبہ حی علی الفلاح کہتے، پھر چہرہ قبلہ کی جانب کر لیتے اور اللہ اکبر اللہ اکبر اور لا الہ الا اللہ کہتے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6699]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں