🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

943. وَصِيَّةُ قَيْسِ بْنِ عَاصِمٍ
سیدنا قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ کی وصیت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6709
أخبرنا أبو محمد المُزَني، حدثنا أبو خليفة القاضي، حدثنا محمد بن سلَّام الجُمَحي، حدثنا أبو عُبيدة قال: قيسُ بن عاصم بن سِنان (1) بن خالد بن مِنْقَر ابن عُبيد بن مُقاعِس بن عمرو بن كعب بن سعد بن زيد مَنَاة بن تَميم، وقد ترأّسَ، وَفَدَ على النبي ﷺ، فقال:"هذا سيِّدُ أهل الوَبَر" (2) .
ابوعبیدہ نے ان کا نسب یوں بیان کیا ہے قیس بن عاصم بن سنان بن خالد بن منقر بن عبید بن مقاعس بن عمرو بن کعب بن سعد بن زید مناۃ بن تمیم یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں فرمایا: یہ دیہاتیوں کا سردار ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6709]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6710
حدثنا أبو جعفر أحمد بن عُبيد بن إبراهيم الأسَدي الحافظ بهَمَذان، حدثنا محمد بن زكريا الغَلَابي، حدثنا العلاء بن الفضل بن عبد الملك بن أبي سَوِيَّة المِنْقري، حدثني أبي الفضلُ بن عبد الملك، عن أبيه عبد الملك بن أبي سويَّة المِنْقري، قال: شهدتُ قيسَ بن عاصم وهو يُوصِي، فجمع بنيه وهم اثنانِ وثلاثون ذكرًا، فقال: يا بنيَّ، إذا أنا مِتُّ فسوِّدوا أكبرَكم تَخلُفوا آباءَكم، ولا تُسوِّدوا أصغرَكم فيُزرِيَ بكم ذاك عند أكفائِكم، ولا تُقيموا عليَّ نائحةً، فإني سمعتُ رسولَ الله ﷺ نَهَى عن النِّياحة، وعليكم بإصلاحِ المال؛ فإنه مَنْبَهةٌ للكريم (1) ، ويُستغنى به عن اللَّئيم، ولا تُعطوا رِقابَ الإبل في غير حقِّها، ولا تمنعوها من حقِّها، وإياكم وكلَّ عِرقِ سُوءٍ، فمهما يسرَّكم يومًا فما يسوءَكم أكثرُ، واحذروا أبناءَ أعدائِكم، فإنهم لكم أعداءٌ على منهاج آبائِهم، وإذا أنا مِتُّ فادفِنوني في موضع لا يَطَّلع عليَّ هذا الحيُّ من بكر بن وائل، فإنها كانت بيني وبينهم خُماشاتٌ في الجاهلية، فأخاف أن يَنبِشُوني من قبري، فتُفسِدوا عليهم دنياهم ويُفسِدوا عليكم آخرتَكم. ثم دعا بكنِانتِه فأمر ابنَه الأكبرَ، وكان يُسمّى عليًّا، فقال: أخرِجْ سهمًا من كِنانتي، فأخرجه، فقال: اكسِرْه، فكسرَه، ثم قال: أخرِجْ سهمين، فأخرجهما، فقال: اكسِرْهما، فكسرهما، ثم قال: أخرِجْ ثلاثةَ أسهُمٍ، فأخرج ثلاثةَ أسهُمٍ، فقال: اكسِرْها، فكسرها، ثم قال: أخرِجْ ثلاثين سهمًا، فأخرجها، فقال: اعصِبْها بوَتَر، فعَصَبها، ثم قال: اكسِرْها، فلم يستطع كسرَها، فقال: يا بَنِيَّ، هكذا أنتم في الاجتماع، وكذاك أنتم في الفُرقة، ثم أنشأَ يقول: إنما المجدُ ما بَنَى والد الصِّدْ … قِ وأحيا فِعالَهُ المولودُ وكَفَى المجد والشَّجاعة والحِلْـ … ـمُ إذا زانَه عَفافٌ وجُودُ وثلاثونَ يا بَنِيَّ إذا ما … عَقَدَتْهُمْ (1) للنائباتِ (2) العُهودُ كثلاثينَ مِن قِداحٍ إذا ما … شدَّها للزَّمانِ عَقدٌ شديدُ لم تَبَدَّدْ وإن تَقطَّعَتِ الأَسـ … ـهُمُ أَودَى بجَمعِها التبديدُ وذوو السِّنِّ والمُروءَةِ أَولى … إن يَكُنْ منكمُ لهمْ تسويدُ وعليهمْ حِفظُ الأصاغرِ حتى … يَبْلُغَ الحِنْتَ الأصغرُ المجهودُ (3)
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6565 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
عبدالملک بن ابی سویہ المنقری بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ کی وفات کے وقت ان کے پاس گیا، اس وقت وہ اپنے 32 بیٹوں کو اپنے پاس بٹھا کر انہیں وصیت کر رہے تھے، وہ کہہ رہے تھے: اے میرے بیٹو! میرے مرنے کے بعد اپنے سب سے بڑے بھائی کو سردار بنانا، اور اسی کو اپنے باپ دادا کا قائم مقام بنانا، کسی کمسن کو سردار نہ بنا لینا، کہ وہ تمہارے لئے بدنامی کا باعث بنے گا۔ میری میت پر رونے والیوں کو مت بلانا، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نوحہ سے منع کرتے ہوئے سنا ہے، مال کا خاص خیال رکھنا، کیونکہ یہ سخی کے لئے ذریعہ یادداشت ہے اور اس کے ذریعے کمینوں سے بچا جا سکتا ہے، اونٹوں کی ذمہ داری کسی نااہل کو مت دینا اور ان کا حق ان کو دینا، برے دوستوں کی صحبت سے بچنا، کیونکہ اگر وہ ایک دن تمہیں خوشی دے گا تو اگلے دن اس سے زیادہ پریشانی دے گا۔ اپنے دشمنوں کی اولادوں سے بھی بچ کر رہنا، کیونکہ اپنے آباؤ اجداد کی طرح وہ بھی تمہارے دشمن ہی ہوں گے۔ جب میری روح نکل جائے تو مجھے کسی ایسے مقام پر دفن کرنا جہاں سے بکر بن وائل کے اس قبیلے کو اطلاع نہ ہو، کیونکہ زمانہ جاہلیت میں میرے اور ان کے درمیان بہت شدید دشمنی چلتی رہی ہے، مجھے خدشہ ہے کہ وہ میری قبر کھود ڈالیں گے، جس کے نتیجے میں تم ان پر ان کی دنیا تنگ کر دو گے اور وہ لوگ تمہاری آخرت برباد کرنے کا سبب بن جائیں گے۔ پھر انہوں نے اپنا ترکش منگوایا، اور اپنے سب سے بڑے بیٹے علی کو کہا: میرے ترکش میں سے ایک تیر نکالو، اس نے تیر نکالا، انہوں نے کہا: اس کو توڑ دو، اس نے توڑ دیا، پھر انہوں نے کہا: اب 2 تیر نکالو، اس نے 2 تیر نکالے، انہوں نے کہا: ان کو توڑ دو، اس نے توڑنا چاہے، لیکن نہ توڑ سکا، انہوں نے کہا: اے میرے بیٹو! اگر تم اتفاق سے رہو گے تو تمہارے اندر اس طرح طاقت ہو گی، اور اگر الگ الگ ہو گئے تو اس (اکیلے تیر کی طرح) کمزور ہو جاؤ گے۔ اس کے بعد انہوں نے درج ذیل اشعار پڑھے: إِنَّمَا الْمَجْدُ مَا بَنَي وَالِدِ الصِّدْ ... قِ وَأَحْيَا فِعَالَهُ الْمَوْلُودُ وَكَفَى الْمَجْدَ وَالشَّجَاعَةَ وَالْحِلْمَ ... إِذَا زَانَهُ عَفَافٌ وَجُودٌ وَثَلَاثُونَ يَا بَنِيَّ إِذَا مَا ... عَقَدْتُمْ لِنَائِبَاتِ الْعُهُودِ كَثَلَاثِينَ مِنْ قِدَاحٍ إِذَا مَا ... شَدَّهَا لِلزَّمَانِ عَقْدٌ شَدِيدُ لَمْ تُكْسَرْ وَإِنْ تَقَطَّعَتِ الْأَسْهُمِ ... أَوْدَى بِجَمْعِهَا التَّبْدِيدُ وَذُوو السِّنِّ وَالْمَرْوَةِ أَوْلَى ... وَإِنْ يَكُنْ مِنْكُمْ لَهُمْ تَسْوِيدُ وَعَلَيْكُمْ حَفِظَ الْأَصَاغِرِ حَتَّى ... يَبْلُغَ الْحِنْثَ الْأَصْغَرَ الْمَجْهُودُ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6710]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں