🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

943. وَصِيَّةُ قَيْسِ بْنِ عَاصِمٍ
سیدنا قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ کی وصیت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6710
حدثنا أبو جعفر أحمد بن عُبيد بن إبراهيم الأسَدي الحافظ بهَمَذان، حدثنا محمد بن زكريا الغَلَابي، حدثنا العلاء بن الفضل بن عبد الملك بن أبي سَوِيَّة المِنْقري، حدثني أبي الفضلُ بن عبد الملك، عن أبيه عبد الملك بن أبي سويَّة المِنْقري، قال: شهدتُ قيسَ بن عاصم وهو يُوصِي، فجمع بنيه وهم اثنانِ وثلاثون ذكرًا، فقال: يا بنيَّ، إذا أنا مِتُّ فسوِّدوا أكبرَكم تَخلُفوا آباءَكم، ولا تُسوِّدوا أصغرَكم فيُزرِيَ بكم ذاك عند أكفائِكم، ولا تُقيموا عليَّ نائحةً، فإني سمعتُ رسولَ الله ﷺ نَهَى عن النِّياحة، وعليكم بإصلاحِ المال؛ فإنه مَنْبَهةٌ للكريم (1) ، ويُستغنى به عن اللَّئيم، ولا تُعطوا رِقابَ الإبل في غير حقِّها، ولا تمنعوها من حقِّها، وإياكم وكلَّ عِرقِ سُوءٍ، فمهما يسرَّكم يومًا فما يسوءَكم أكثرُ، واحذروا أبناءَ أعدائِكم، فإنهم لكم أعداءٌ على منهاج آبائِهم، وإذا أنا مِتُّ فادفِنوني في موضع لا يَطَّلع عليَّ هذا الحيُّ من بكر بن وائل، فإنها كانت بيني وبينهم خُماشاتٌ في الجاهلية، فأخاف أن يَنبِشُوني من قبري، فتُفسِدوا عليهم دنياهم ويُفسِدوا عليكم آخرتَكم. ثم دعا بكنِانتِه فأمر ابنَه الأكبرَ، وكان يُسمّى عليًّا، فقال: أخرِجْ سهمًا من كِنانتي، فأخرجه، فقال: اكسِرْه، فكسرَه، ثم قال: أخرِجْ سهمين، فأخرجهما، فقال: اكسِرْهما، فكسرهما، ثم قال: أخرِجْ ثلاثةَ أسهُمٍ، فأخرج ثلاثةَ أسهُمٍ، فقال: اكسِرْها، فكسرها، ثم قال: أخرِجْ ثلاثين سهمًا، فأخرجها، فقال: اعصِبْها بوَتَر، فعَصَبها، ثم قال: اكسِرْها، فلم يستطع كسرَها، فقال: يا بَنِيَّ، هكذا أنتم في الاجتماع، وكذاك أنتم في الفُرقة، ثم أنشأَ يقول: إنما المجدُ ما بَنَى والد الصِّدْ … قِ وأحيا فِعالَهُ المولودُ وكَفَى المجد والشَّجاعة والحِلْـ … ـمُ إذا زانَه عَفافٌ وجُودُ وثلاثونَ يا بَنِيَّ إذا ما … عَقَدَتْهُمْ (1) للنائباتِ (2) العُهودُ كثلاثينَ مِن قِداحٍ إذا ما … شدَّها للزَّمانِ عَقدٌ شديدُ لم تَبَدَّدْ وإن تَقطَّعَتِ الأَسـ … ـهُمُ أَودَى بجَمعِها التبديدُ وذوو السِّنِّ والمُروءَةِ أَولى … إن يَكُنْ منكمُ لهمْ تسويدُ وعليهمْ حِفظُ الأصاغرِ حتى … يَبْلُغَ الحِنْتَ الأصغرُ المجهودُ (3)
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6565 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
عبدالملک بن ابی سویہ منقری سے روایت ہے کہ میں سیدنا قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ کی وفات کے وقت ان کی وصیت کے موقع پر موجود تھا، انہوں نے اپنے بیٹوں کو جمع کیا جو کہ بتیس (32) مرد تھے، پھر فرمایا: اے میرے بیٹوں! جب میں مر جاؤں تو اپنے میں سے سب سے بڑے کو اپنا سردار بنانا تاکہ تم اپنے آباؤ اجداد کے نقشِ قدم پر رہو، اور اپنے میں سے سب سے چھوٹے کو سردار نہ بنانا کیونکہ اس سے تمہارے ہم پلہ لوگوں میں تمہاری سبکی ہوگی، اور مجھ پر بین کرنے والی عورتیں (نوحہ گر) نہ بٹھانا کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نوحہ کرنے سے منع فرماتے ہوئے سنا ہے، اور تم پر لازم ہے کہ اپنے مال کی اصلاح (بہتری) کرو کیونکہ یہ معزز آدمی کی قدر بڑھانے کا ذریعہ ہے اور اس سے کم ظرف لوگوں سے بے نیازی حاصل ہوتی ہے، اور اپنے اونٹوں کو ان کے حق (صدقہ و زکوٰۃ وغیرہ) کے علاوہ کسی کو نہ دو اور نہ ہی ان کا حق دینے سے منع کرو، اور تم ہر برے خاندان و حسب نسب سے بچو کیونکہ جو چیز تمہیں ایک دن خوش کرے گی وہ تمہیں اس سے زیادہ غمگین کرے گی، اور اپنے دشمنوں کے بیٹوں سے ہوشیار رہو کیونکہ وہ اپنے باپ دادا کے نقشِ قدم پر تمہارے دشمن ہیں، اور جب میں مر جاؤں تو مجھے ایسی جگہ دفن کرنا جہاں بکر بن وائل کے اس قبیلے کو پتہ نہ چلے کیونکہ جاہلیت میں میرے اور ان کے درمیان خونریزیاں (دشمنیاں) رہی ہیں، پس مجھے خوف ہے کہ وہ میری قبر اکھاڑ دیں گے جس سے تم ان کی دنیا برباد کر دو گے اور وہ تمہاری آخرت خراب کر دیں گے۔ پھر انہوں نے اپنا ترکش منگوایا اور اپنے سب سے بڑے بیٹے کو، جس کا نام علی تھا، حکم دیا کہ میرے ترکش سے ایک تیر نکالے، اس نے نکالا تو فرمایا: اسے توڑ دو، اس نے اسے توڑ دیا، پھر فرمایا: دو تیر نکالو، اس نے نکالے تو فرمایا: انہیں توڑ دو، اس نے انہیں بھی توڑ دیا، پھر فرمایا: تین تیر نکالو، اس نے نکالے تو فرمایا: انہیں توڑ دو، اس نے انہیں بھی توڑ دیا، پھر فرمایا: تیس (30) تیر نکالو، اس نے نکالے تو فرمایا: انہیں تانت (وتر) سے باندھ دو، اس نے باندھ دیے، پھر فرمایا: اب انہیں توڑو، تو وہ انہیں نہ توڑ سکا، تب انہوں نے فرمایا: اے میرے بیٹوں! تم سب مل کر رہو گے تو ایسے ہی ہو اور اگر جدا ہوئے تو ویسے (کمزور) ہو، پھر انہوں نے یہ اشعار پڑھے: عظمت تو وہی ہے جسے سچے باپ نے بنایا ہو اور اولاد نے اس کے کارناموں کو زندہ رکھا ہو، اور عظمت، بہادری اور بردباری کافی ہے بشرطیکہ اسے پاکدامنی اور سخاوت زینت دے دے، اے میرے بیٹو! جب تیس (مرد) حوادثِ زمانہ کے لیے باہمی عہد و پیمان سے بندھ جائیں تو وہ ان تیس تیروں کی مانند ہوتے ہیں جنہیں زمانے کی سختیوں کے لیے مضبوطی سے باندھ دیا گیا ہو، وہ کبھی بکھرتے نہیں لیکن اگر تیر الگ الگ ہو جائیں تو ان کا بکھراؤ پورے گروہ کو تباہ کر دیتا ہے، اور بڑی عمر اور مروت والے لوگ ہی تمہاری سرداری کے زیادہ حقدار ہیں، اور ان پر لازم ہے کہ چھوٹوں کی حفاظت کریں یہاں تک کہ ان میں سے چھوٹا بھی اپنی پوری کوشش سے شعور (جوانی) کی عمر کو پہنچ جائے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6710]
تخریج الحدیث: «خبر حسن، وهذا إسناد تالف، محمد بن زكريا الغلابي متهم، والعلاء بن الفضل ضعيف، وأبوه وجده لم نجد لهما ترجمة. وللحديث طريق آخر عند المصنف يأتي بعده.» [ترقيم الرساله 6710] [ترقيم الشركة 6630] [ترقيم العلميه 6565]

الحكم على الحديث: خبر حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6711
حدثنا علي بن حمشاذ العَدْل، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا محمد بن يزيد الواسطي، حدثنا زياد الجصَّاص، عن الحسن، حدثني قيس بن عاصم المِنْقري، قال: قدمتُ على رسول الله ﷺ فلما رآني سمعتُه يقول:"هذا سيِّد أهل الوَبَرِ"، فلما نزلتُ أتيتُه، فجعلت أحدِّثُه، فقلتُ: يا رسولَ الله، ما المالُ الذي لا يكون عليَّ فيه تَبِعةٌ من ضيفٍ ضافَني وعيالٍ كَثُروا؟ فقال:"نِعْمَ المالُ الأربعون، والأكثر ستونَ، وويلٌ لأصحابِ المِئين (1) إِلَّا من أعطى في رِسْلِها ونَجْدِتها، وأفقر ظَهْرَها، وأطعمَ القائعَ والمُعتَرَّ". قلت: يا نبي الله ما أكرمَ هذه الأخلاقَ وأحسنَها! يا نبي الله، لا يُحَلُّ بالوادي الذي أنا فيه لكثرة (2) إبلي، قال:"فكيف تصنعُ؟" قلتُ: تَغدُو الإبل ويغدو الناسُ، فمَن شَاءَ أخذَ برأسِ بعيرٍ فذهبَ به، فقال:"فما تصنعُ بإفقار ظَهرِها؟" قلتُ: إني لا أُفقِرُ الصغيرَ، ولا النابَ المُديرة، قال:"فمالك أحبُّ إليك أم مال مواليك؟" قلتُ: مالي أحبُّ إليَّ من مال موالِيَّ، قال:"فإنَّ لك من مالك ما أكلتَ فأفنَيتَ، أو لبستَ فأبليتَ، أو أعطيتَ فأمضيتَ، وإلَّا فلمواليك" فقلتُ: واللهِ لو بقيتُ لأفنينَّ عَدَدَها. قال الحسنُ (3) : ففعَلَ واللهِ، فلمّا حَضَرَت قيسًا الوفاةُ أَوصَى بنيه، فقال: إياكم والمسألةَ؛ فإنها أَخِرُ كَسْبِ المرءِ، إنّ أحدًا لم يسأل إلَّا تَرَك كَسْبَه (4) ذكرُ عَمرو بن الأهتَم المِنقَري ﵁-
سیدنا قیس بن عاصم منقری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: یہ دیہاتیوں (خیمہ نشینوں) کے سردار ہیں، جب میں اپنی سواری سے اترا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو شروع کی اور عرض کی: یا رسول اللہ! وہ کون سا مال ہے جس پر مہمانوں اور کثیر اہل و عیال کی وجہ سے مجھ پر کوئی وبال یا گرفت نہیں ہوگی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: چالیس اونٹ بہترین مال ہے، اور زیادہ سے زیادہ ساٹھ، اور سینکڑوں اونٹ رکھنے والوں کے لیے ہلاکت ہے سوائے اس شخص کے جو ان کا دودھ (صدقہ کے طور پر) پلائے، مشکل وقت میں ان کے ذریعے مدد کرے، ان کی پیٹھ سواری کے لیے عاریتاً دے، اور قائع (قناعت پسند ضرورت مند) و معتر (سامنے آنے والے سائل) کو کھانا کھلائے۔ میں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! یہ کتنے ہی معزز اور خوبصورت اخلاق ہیں! اے اللہ کے نبی! جس وادی میں میں مقیم ہوں وہاں میرے اونٹوں کی کثرت کی وجہ سے (کسی دوسرے کے اترنے کی) جگہ نہیں بچتی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: پھر تم کیا کرتے ہو؟ میں نے عرض کی: میرے اونٹ چرنے جاتے ہیں اور لوگ بھی وہاں پہنچ جاتے ہیں، جو چاہتا ہے وہ کسی اونٹ کا سر پکڑ کر اسے لے جاتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تم ان کی پیٹھ عاریتاً دینے کے بارے میں کیا کرتے ہو؟ میں نے عرض کی: میں چھوٹے بچے اور بوڑھی اونٹنی کو سواری کے لیے نہیں دیتا (تاکہ ان پر بوجھ نہ پڑے)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: تمہیں اپنا مال زیادہ محبوب ہے یا اپنے وارثوں کا مال؟ میں نے عرض کی: مجھے اپنا مال اپنے وارثوں کے مال سے زیادہ محبوب ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہارے مال میں سے تمہارا حصہ صرف وہی ہے جو تم نے کھا کر ختم کر دیا، یا پہن کر پرانا کر دیا، یا اللہ کی راہ میں دے کر (آخرت کے لیے) محفوظ کر لیا، اس کے علاوہ جو کچھ ہے وہ تمہارے وارثوں کا ہے۔ میں نے عرض کی: اللہ کی قسم! اگر میں زندہ رہا تو میں ان اونٹوں کی تعداد کو (اللہ کی راہ میں خرچ کر کے) ختم کر دوں گا۔ امام حسن بصری کہتے ہیں: اللہ کی قسم! انہوں نے ایسا ہی کیا، پھر جب قیس کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے اپنے بیٹوں کو وصیت کرتے ہوئے فرمایا: لوگوں سے مانگنے (سوال کرنے) سے بچنا، کیونکہ یہ انسان کی بدترین کمائی ہے، اور جو بھی سوال کا راستہ اختیار کرتا ہے وہ اپنی محنت کی کمائی چھوڑ بیٹھتا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6711]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف زياد الجصاص -وهو ابن أبي زياد- وقد توبع، والحسن -وهو البصري- مع أنه صرَّح بسماعه من قيس، إلَّا أنَّ علي بن المديني قال: لم يسمع منه شيئًا، فيما رواه ابن أبي حاتم في "المراسيل" (143).» [ترقيم الرساله 6711] [ترقيم الشركة 6631]

الحكم على الحديث: حديث حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں