🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

944. ذِكْرُ عَمْرِو بْنِ الْأَهْتَمِ الْمِنْقَرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا عمرو بن الأهتم منقری رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6711
حدثنا علي بن حمشاذ العَدْل، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا محمد بن يزيد الواسطي، حدثنا زياد الجصَّاص، عن الحسن، حدثني قيس بن عاصم المِنْقري، قال: قدمتُ على رسول الله ﷺ فلما رآني سمعتُه يقول:"هذا سيِّد أهل الوَبَرِ"، فلما نزلتُ أتيتُه، فجعلت أحدِّثُه، فقلتُ: يا رسولَ الله، ما المالُ الذي لا يكون عليَّ فيه تَبِعةٌ من ضيفٍ ضافَني وعيالٍ كَثُروا؟ فقال:"نِعْمَ المالُ الأربعون، والأكثر ستونَ، وويلٌ لأصحابِ المِئين (1) إِلَّا من أعطى في رِسْلِها ونَجْدِتها، وأفقر ظَهْرَها، وأطعمَ القائعَ والمُعتَرَّ". قلت: يا نبي الله ما أكرمَ هذه الأخلاقَ وأحسنَها! يا نبي الله، لا يُحَلُّ بالوادي الذي أنا فيه لكثرة (2) إبلي، قال:"فكيف تصنعُ؟" قلتُ: تَغدُو الإبل ويغدو الناسُ، فمَن شَاءَ أخذَ برأسِ بعيرٍ فذهبَ به، فقال:"فما تصنعُ بإفقار ظَهرِها؟" قلتُ: إني لا أُفقِرُ الصغيرَ، ولا النابَ المُديرة، قال:"فمالك أحبُّ إليك أم مال مواليك؟" قلتُ: مالي أحبُّ إليَّ من مال موالِيَّ، قال:"فإنَّ لك من مالك ما أكلتَ فأفنَيتَ، أو لبستَ فأبليتَ، أو أعطيتَ فأمضيتَ، وإلَّا فلمواليك" فقلتُ: واللهِ لو بقيتُ لأفنينَّ عَدَدَها. قال الحسنُ (3) : ففعَلَ واللهِ، فلمّا حَضَرَت قيسًا الوفاةُ أَوصَى بنيه، فقال: إياكم والمسألةَ؛ فإنها أَخِرُ كَسْبِ المرءِ، إنّ أحدًا لم يسأل إلَّا تَرَك كَسْبَه (4) ذكرُ عَمرو بن الأهتَم المِنقَري ﵁-
سیدنا قیس بن عاصم المنقری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مجھے دیکھا تو فرمایا: یہ دیہاتیوں کا سردار ہے۔ میں اتر کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کرنے لگ گیا، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ کونسا مال ہے جس میں میرے اوپر کسی مہمان اور بچوں کی جانب سے تاوان نہ ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہترین مال وہ ہے جو چالیس تک ہو، ساٹھ تک ہو تو یہ زیادہ ہے، اور 100 والے ہلاکت میں ہیں، سوائے ان لوگوں کے جو آسودگی اور تنگی دونوں حالتوں میں اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔ اور خود کو مفلس بنا لیتے ہیں۔ اور ان کو بھی دیتے ہیں جو بخشش کے لئے آتے ہیں اور سوال کرتے ہیں اور ان کو بھی دیتے ہیں جو بخشش کے لئے تو آتے ہیں لیکن سوال نہیں کرتے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! یہ کتنے ہی اچھے اخلاق ہیں۔ اے اللہ کے نبی! آپ کبھی اس وادی میں بھی قدم رنجہ فرمائیں، جہاں پر میں کثیر اونٹوں کے ساتھ رہتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تو تم کیا کرو گے؟ انہوں نے کہا: اونٹ بھی گن لئے جائیں، اور لوگوں کو بھی گن لیا جائے، ان میں سے جس کا دل چاہے وہ جو اونٹ چاہے لے جا سکتا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6711]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں