المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
959. ذِكْرُ ضِرَارِ بْنِ الْأَزْوَرِ الْأَسَدِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا ضرار بن ازور اسدی رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر
حدیث نمبر: 6745
وحدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا الحُسين (1) بن الفضل، حدثنا شَبَابة بن سوَّار، حدثنا المغيرة بن مُسلم، عن عبد الرحمن بن إسحاق، عن الزُّهْري، عن عبد الرحمن بن كعب بن مالك، عن عمِّه سُراقة بن مالك، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"في كلِّ كَبِدٍ حَرَّى أجرٌ" (1) . ذكرُ ضِرار بن الأَزوَر ﵁-
سیدنا سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہر گرم جگر والی چیز (یعنی ہر جاندار کو کھلانے پلانے) میں اجر ملتا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6745]
حدیث نمبر: 6746
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا إبراهيم بن إسحاق الحَرْبي، حدثنا مصعب بن عبد الله الزُّبيري، قال: ضِرارُ بن الأزوَر -واسم الأزور مالك- بن أَوس بن جَذِيمة (2) بن ربيعة (3) بن مالك بن ثعلبة بن دُوْدان بن أَسد بن خُزيمة ابن مُدرِكة بن الياس بن مُضَر، سكنَ الكوفةَ وبها تُوفِّي.
مصعب بن عبداللہ زبیری نے ان کا نسب یوں بیان کیا ہے ” ضرار بن ازور “ کا اصل نام ” مالک بن اوس بن خزیمہ بن ربیعہ بن مالک بن ثعلبہ بن دودان بن اسید بن خزیمہ بن مدرکہ بن الیاس بن مضر “ ہے۔ آپ کوفہ میں رہائش پذیر رہے اور یہیں پر آپ کا انتقال ہوا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6746]
حدیث نمبر: 6747
حدثنا عبد الباقي بن قانع الحافظ، حدثنا هشام بن علي السَّدوسي ومحمد ابن محمد التَّمّار، قالا: حدثنا محمد بن سعيد الأثرَم، حدثنا سلَّام أبو المنذر القارئ، حدثنا عاصم بن بَهْدلة، عن أبي وائل، عن ضِرار بن الأزور قال: أتيتُ النبيَّ ﷺ فقلتُ له: امدُدْ يدَك أُبايِعْك على الإسلام، فبايعتُه، ثم قلتُ: تركتُ القِداحَ وعَزْفَ القِيا … نِ والخمرَ تَصْليةً وابتهالا وكَرَّ المُحبَّرِ في غَمْرةٍ … وحَمْلي على المسلمينَ القتالا فيا ربِّ لا أُغبَنَنْ بَيْعتي … وقد بِعتُ أهلي ومالي ابتِدالا فقال النبيُّ ﷺ:"ما غُبِنتَ بَيْعتَك يا ضِرارُ" (1) .
سیدنا ضرار بن ازور رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ اپنا ہاتھ آگے بڑھائیے، تاکہ میں اسلام پر آپ کی بیعت کروں۔ (حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ بڑھایا) میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی پھر میں نے درج ذیل اشعار پڑھے۔ * میں نے جوئے کے تیر، گانے باجے کے آلات اور شراب نوشی وغیرہ عاجزی کی بناء پر برکت حاصل کرنے کے لئے چھوڑ دیئے ہیں۔ * نشے کے عالم میں کرایہ پر دینے والا گھوڑا اور مسلمانوں کے خلاف جنگ سب چھوڑ دیئے ہیں۔ * اور جمیلہ نے کہا: تو نے ہمیں دور کر دیا اور اپنے اہل و عیال کو مختلف مقامات پر بکھیر دیا ہے۔ * اے میرے رب میرے سودے میں مجھے نقصان نہ ہو، کیونکہ میں نے اپنا گھر بار، دھن دولت سب تیری رضا کے لئے چھوڑ دیئے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ضرار تیرے سودے میں تجھے دھوکا نہیں ہوا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6747]