🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

962. ذِكْرُ إِسْلَامِ خُرَيْمِ بْنِ فَاتِكٍ
سیدنا خریم بن فاتک رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6751
أخبرني أحمد بن يعقوب، حدثنا موسى بن زكريا، حدثنا شَبَابٌ قال: خُريم بن فاتِك بن الأخرَم بن شدَّاد بن عمرو الأسدي.
شباب نے ان کا نسب یوں بیان کیا ہے خریم بن فاتک بن اخرم بن شداد بن عمرو اسدی ۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6751]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6752
حدثنا أبو القاسم الحسن بن محمد السَّكُوني بالكوفة، حدثنا محمد ابن عثمان بن أبي شَيْبة، حدثنا محمد بن تَسنيم الحَضْرمي، حدثنا محمد بن خليفة الأسدي، حدثنا الحسن بن محمد بن علي، عن أبيه، قال: قال عمرُ بن الخطاب ذاتَ يومٍ لابن عبّاس: حدِّثْني بحديثٍ يُعجبني، قال: حدثني خُريم بن فاتِك الأسدي، قال: خرجتُ في إبلٍ لي فأصبتُها بأبرَقِ العزَّاف (2) فعَقَلتُها وتوسَّدتُ ذِراعَ بعيرٍ منها، وذلك حِدْثانَ خروجِ النبيِّ ﷺ، ثم قلتُ: أعوذُ بعظيمِ هذا الوادي -قال: وكذلك كانوا يصنعون في الجاهلية- فإذا هاتفٌ يَهتِفُ بي ويقول: وَيْحَكَ عُذْ بالله ذي الجَلالِ … مُنزِّلِ الحرامِ والحلالِ ووحِّدِ اللهَ ولا تُبالي … ما هَولُ ذي الحَزْم (3) من الأهوالِ إذْ يَذكرُ اللهَ على الأميالِ … وفي سُهولِ الأرضِ والجبالِ وصارَ كيدُ الجنِّ (1) في سَفَالِ … إلّا التُّقى وصالحَ الأعمالِ قال: فقلت: يا أيُّها الداعي بما تُحيلُ … رُشْدٌ تُرَى عندَك أم تضليلُ فقال: هذا رسولُ الله ذو الخَيراتِ … جاء بياسينَ وحاميماتِ وسُوَرٍ بعدُ مُفصَّلاتِ … مُحرِّماتٍ ومُحلِّلاتِ يأمُرُ بالصومِ وبالصلاةِ … ويَزجُرُ الناسَ عن الهَنَاتِ قد كُنَّ في الأنام مُنكَراتِ قال: فقلتُ: من أنت يرحمُك الله؟ قال: أنا مالكُ بن مالك (2) ، بعثني رسولُ الله ﷺ على أرض أهل نجدٍ (3) ، قال: فقلتُ: لو كان لي من يكفيني إبلي هذه لأتيتُه حتي أؤمِنَ به، فقال: أنا أكفِيكَها حتى أؤدِّيَها إلى أهلك سالمةً إن شاء الله تعالى. فاعتقلتُ بعيرًا منها، ثم أتيتُ المدينةَ فوافقتُ الناسَ يومَ الجمعة وهم في الصلاة، فقلتُ: يقضون صلاتَهم ثم أدخلُ، فإني لَرائثٌ (4) أُنيخُ راحلتي إذ خرجَ أبو ذرٍّ فقال: يقولُ لك رسولُ الله ﷺ:"ادخُلْ"، فدخلتُ فلما رآني قال:"ما فعل الشيخُ الذي ضَمِنَ لك أن يؤدِّيَ إبلَك إلى أهلِكَ سالمةً، أما إنه قد أدَّاها إلى أهلك سالمةً" قلتُ: ﵀، فقال النبيُّ ﷺ:"أجَلْ، ﵀" فقال خُريم: أشهدُ أن لا إله إلَّا الله، وحَسُنَ إسلامه (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6607 - لم يصح
حسن بن محمد بن علی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ ایک دن سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: آپ مجھے کوئی ایسی حدیث سنائیں جو مجھے حیران کر دے۔ انہوں نے کہا: مجھے خریم بن فاتک اسدی رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ میں ایک مرتبہ اپنے اونٹوں کو لے کر نکلا، تیز بارش میں میرے اونٹ پر آسمانی بجلی گری، اور اونٹ گر گیا، میں نے اس کی ایک ٹانگ کے ساتھ ٹیک لگائی، یہ وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ظاہر ہونے کا تھا، پھر میں نے کہا: اعوذ بعظیم ہذا الوادی (یعنی میں اس عظیم وادی کی پناہ مانگتا ہوں) لوگ زمانہ جاہلیت میں ایسے ہی کیا کرتے تھے۔ (میں نے یہ کہا تو) ہاتف غیبی نے آواز دی اور درج ذیل اشعار پڑھے۔ * تو ہلاک ہو جائے، تو جلال والے اللہ کی پناہ مانگ جو کہ حرام و حلال کو نازل کرنے والا ہے۔ * اللہ تعالیٰ کو وحدہ لا شریک تسلیم کر اور پہاڑوں کے برابر آنے والی پریشانیوں کی پرواہ نہ کر۔ * کیونکہ وہ دور دراز علاقوں میں، زمین کی گہرائیوں اور پہاڑوں کی چوٹیوں پر اللہ کا ذکر کرتے ہیں۔ * پستیوں میں حق کا وکیل صرف تقویٰ اور اعمال صالحہ ہوتے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں: اس کے جواب میں، میں نے کہا: * اے وہ شخص جو نہ ممکن باتیں کرنے والا ہے! تم جس کی طرف بلا رہے ہو وہ تمہارے نزدیک ہدایت ہے یا گمراہی؟ اس نے جواباً کہا: * یہ اللہ کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے، بھلائیوں والا ہے، یاسین اور بعض سورتوں کے شروع میں حٰمٓ کے الفاظ لایا ہے۔ * ان سورتوں میں مفصلات بھی ہیں، حلال چیزوں کے احکام بیان کرنے والی بھی ہیں اور حرام چیزوں کے احکام بیان کرنے والی بھی۔ * وہ نماز اور روزے کا حکم دیتا ہے اور لوگوں کو ان گناہ کے کاموں سے روکتا ہے جو زمانہ جاہلیت میں عام تھے۔ میں نے کہا: اللہ تعالیٰ تجھ پر رحم کرے، تم کون ہو؟ اس نے کہا: میں مالک بن مالک ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اہل نجدہ کی سرزمین سے بھیجا ہے، آپ فرماتے ہیں: پھر میں نے کہا: اگر کوئی شخص مجھے ایسا مل جاتا جو میرے اونٹوں کی رکھوالی کرتا تو میں اس کے پاس جاتا اور اس پر ایمان لاتا، اس نے کہا: تیرے ان اونٹوں کو میں اپنی ذمہ داری پر تیرے گھر والوں تک پہنچا دوں گا، ان شاء اللہ تعالیٰ۔ چنانچہ میں ان میں سے ایک اونٹ پر سوار ہوا اور مدینہ منورہ پہنچ گیا۔ میں جمعہ کے دن وہاں پہنچا، اس وقت لوگ نماز جمعہ ادا کر رہے تھے، میں نے سوچا کہ یہ لوگ نماز پوری کر لیں، میں بعد میں اندر جاؤں گا۔ میں اپنا اونٹ بٹھانے کے لئے چلا گیا، اس دوران سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ باہر نکلے اور مجھے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ سے فرما رہے ہیں کہ آپ اندر آ جائیں، میں اندر چلا گیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا تو فرمایا: اس آدمی نے کیا کیا جس نے تیرے اونٹ صحیح سلامت تیرے گھر والوں تک پہنچانے کی ذمہ داری اٹھائی تھی؟ بے شک اس نے وہ اونٹ تیرے گھر والوں تک صحیح سلامت پہنچا دیئے ہیں۔ میں نے کہا: اللہ تعالیٰ اس پر رحمت فرمائے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی، اللہ تعالیٰ اس پر رحمت فرمائے۔ سیدنا خریم نے اسی لمحے کلمہ شریف پڑھا اشھد ان لا الہ الا اللہ، اور بہت احسن انداز میں اسلام لائے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6752]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں