🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

962. ذِكْرُ إِسْلَامِ خُرَيْمِ بْنِ فَاتِكٍ
سیدنا خریم بن فاتک رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6752
حدثنا أبو القاسم الحسن بن محمد السَّكُوني بالكوفة، حدثنا محمد ابن عثمان بن أبي شَيْبة، حدثنا محمد بن تَسنيم الحَضْرمي، حدثنا محمد بن خليفة الأسدي، حدثنا الحسن بن محمد بن علي، عن أبيه، قال: قال عمرُ بن الخطاب ذاتَ يومٍ لابن عبّاس: حدِّثْني بحديثٍ يُعجبني، قال: حدثني خُريم بن فاتِك الأسدي، قال: خرجتُ في إبلٍ لي فأصبتُها بأبرَقِ العزَّاف (2) فعَقَلتُها وتوسَّدتُ ذِراعَ بعيرٍ منها، وذلك حِدْثانَ خروجِ النبيِّ ﷺ، ثم قلتُ: أعوذُ بعظيمِ هذا الوادي -قال: وكذلك كانوا يصنعون في الجاهلية- فإذا هاتفٌ يَهتِفُ بي ويقول: وَيْحَكَ عُذْ بالله ذي الجَلالِ … مُنزِّلِ الحرامِ والحلالِ ووحِّدِ اللهَ ولا تُبالي … ما هَولُ ذي الحَزْم (3) من الأهوالِ إذْ يَذكرُ اللهَ على الأميالِ … وفي سُهولِ الأرضِ والجبالِ وصارَ كيدُ الجنِّ (1) في سَفَالِ … إلّا التُّقى وصالحَ الأعمالِ قال: فقلت: يا أيُّها الداعي بما تُحيلُ … رُشْدٌ تُرَى عندَك أم تضليلُ فقال: هذا رسولُ الله ذو الخَيراتِ … جاء بياسينَ وحاميماتِ وسُوَرٍ بعدُ مُفصَّلاتِ … مُحرِّماتٍ ومُحلِّلاتِ يأمُرُ بالصومِ وبالصلاةِ … ويَزجُرُ الناسَ عن الهَنَاتِ قد كُنَّ في الأنام مُنكَراتِ قال: فقلتُ: من أنت يرحمُك الله؟ قال: أنا مالكُ بن مالك (2) ، بعثني رسولُ الله ﷺ على أرض أهل نجدٍ (3) ، قال: فقلتُ: لو كان لي من يكفيني إبلي هذه لأتيتُه حتي أؤمِنَ به، فقال: أنا أكفِيكَها حتى أؤدِّيَها إلى أهلك سالمةً إن شاء الله تعالى. فاعتقلتُ بعيرًا منها، ثم أتيتُ المدينةَ فوافقتُ الناسَ يومَ الجمعة وهم في الصلاة، فقلتُ: يقضون صلاتَهم ثم أدخلُ، فإني لَرائثٌ (4) أُنيخُ راحلتي إذ خرجَ أبو ذرٍّ فقال: يقولُ لك رسولُ الله ﷺ:"ادخُلْ"، فدخلتُ فلما رآني قال:"ما فعل الشيخُ الذي ضَمِنَ لك أن يؤدِّيَ إبلَك إلى أهلِكَ سالمةً، أما إنه قد أدَّاها إلى أهلك سالمةً" قلتُ: ﵀، فقال النبيُّ ﷺ:"أجَلْ، ﵀" فقال خُريم: أشهدُ أن لا إله إلَّا الله، وحَسُنَ إسلامه (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6607 - لم يصح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک دن ان سے فرمایا: مجھے کوئی ایسی بات سناؤ جو مجھے پسند آئے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے سیدنا خریم بن فاتک اسدی رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی، وہ کہتے ہیں: میں اپنے اونٹوں کے ساتھ نکلا اور ابرق العزاف نامی جگہ پر پہنچا، وہاں میں نے اپنے اونٹوں کو باندھا اور ایک اونٹ کے بازو کا تکیہ بنا کر لیٹ گیا، یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلانِ نبوت کے ابتدائی دور کی بات ہے، پھر میں نے جاہلیت کے دستور کے مطابق کہا: میں اس وادی کے سردار (جنات کے سردار) کی پناہ مانگتا ہوں، تو اچانک ایک غیبی آواز دینے والے نے مجھے پکارا اور یہ اشعار کہے: تجھ پر افسوس! تو جاہ و جلال والے اللہ کی پناہ مانگ جو حرام اور حلال کو نازل کرنے والا ہے، تو اللہ کی وحدانیت کا اقرار کر اور ان ہولناکیوں کی ذرہ برابر پرواہ نہ کر، اللہ کا ذکر کرنے والے باہمت شخص کو ان ہولناکیوں سے کیا ڈر چاہے وہ میلوں دور ہو یا زمین کے ہموار حصوں اور پہاڑوں میں ہو، اور اب جنات کی چالیں پستی میں چلی گئی ہیں سوائے تقویٰ اور صالح اعمال کے۔ خریم کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا: اے پکارنے والے! تو جس کی طرف بلا رہا ہے وہ کیا ہے؟ کیا تیرے نزدیک یہ سراسر ہدایت ہے یا گمراہی؟ اس نے جواب دیا: یہ اللہ کے رسول ہیں جو خیر و بھلائی لے کر آئے ہیں، وہ یاسین، حامیم اور مفصل سورتیں لے کر آئے ہیں جن میں حلال اور حرام کے واضح احکام ہیں، وہ نماز اور روزے کا حکم دیتے ہیں اور لوگوں کو ان برائیوں سے روکتے ہیں جو جاہلیت کے دور میں ناپسندیدہ تھیں۔ خریم کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا: اللہ تم پر رحم فرمائے، تم کون ہو؟ اس نے کہا: میں مالک بن مالک ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے نجد کے علاقے میں (تبلیغ کے لیے) مبعوث کیا ہے۔ خریم کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اگر میرا کوئی ایسا ساتھی ہوتا جو میرے ان اونٹوں کی دیکھ بھال کرتا تو میں ضرور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر ایمان لے آتا، اس نے کہا: میں ان کی نگرانی کروں گا یہاں تک کہ اللہ نے چاہا تو انہیں تمہارے گھر والوں تک صحیح سلامت پہنچا دوں گا۔ چنانچہ میں نے ایک اونٹ باندھا اور مدینہ منورہ پہنچا، میں اس وقت پہنچا جب جمعہ کا دن تھا اور لوگ نماز میں مصروف تھے، میں نے سوچا کہ جب لوگ نماز مکمل کر لیں گے تب میں اندر داخل ہوں گا، میں ابھی اپنی سواری بٹھانے میں دیر ہی کر رہا تھا کہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ باہر تشریف لائے اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں فرما رہے ہیں کہ اندر آ جاؤ، پس میں اندر گیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا تو ارشاد فرمایا: اس بزرگ (جن) نے کیا کیا جس نے تمہارے اونٹوں کو تمہارے گھر والوں تک صحیح سلامت پہنچانے کی ذمہ داری لی تھی؟ آگاہ رہو کہ اس نے وہ اونٹ تمہارے گھر والوں تک بحفاظت پہنچا دیے ہیں۔ میں نے عرض کی: «رَحِمَهُ اللهُ» اللہ اس پر رحم فرمائے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہاں، «رَحِمَهُ اللهُ» اللہ اس پر رحم فرمائے۔ تب خریم رضی اللہ عنہ نے گواہی دی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور ان کا اسلام بہت عمدہ ثابت ہوا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6752]
تخریج الحدیث: «إسناده واهٍ مظلم، محمد بن خليفة الأسدي ومن فوقه لم نعرفهم. وقال ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 52/ 375: محمد بن أبي حيي الأذرعي حدث عن أبيه روى عنه محمد بن خليفة ابن إسحاق الأسدي، كذا وقع عنده، وسواء هذا أم ذاك فالإسناد لا يصح، وقال الذهبي في "التلخيص": لم ...» [ترقيم الرساله 6752] [ترقيم الشركة 6672] [ترقيم العلميه 6607]

الحكم على الحديث: إسناده واهٍ مظلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6753
وحدثنا أبو القاسم السَّكُوني، حدثنا أبو جعفر الحَضْرمي، حدثنا يحيى ابن إبراهيم بن محمد بن أبي عُبيدة بن مَعْن المسعودي، حدثني أبي، عن أبيه، عن جدِّه، عن الأعمش، عن شِمْر بن عطية، عن خُريم بن فاتك: أنه أتى النبيَّ ﷺ فقال: أنا خُرَيم بن فاتك، قال:"لولا خَصْلَتينِ (1) فيك، لكنتَ أنت الرَّجلَ" فقال: ما هما بأبي أنت يا رسولَ الله؟ قال:"توفيرُ شعرِك، وتسبيلُ إزارِك"، فانطلق خُريم فجزَّ شعرَه وقصَّر إزارَه (2) . ذكرُ أسامة بن عُمير الهُذَلي والد أبي المَلِيح ﵄-
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6608 - إسناده مظلم
سیدنا خریم بن فاتک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر تم میں دو خصلتیں نہ ہوتیں تو تم (کامل) انسان ہوتے۔ انہوں نے عرض کی: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں یا رسول اللہ! وہ دو خصلتیں کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے بالوں کا بہت زیادہ بڑھا ہوا ہونا اور تمہارے تہبند کا (ٹخنوں سے نیچے) لٹکنا، پس سیدنا خریم رضی اللہ عنہ وہاں سے چلے گئے، اپنے بال کٹوا دیے اور اپنا تہبند چھوٹا کر لیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6753]
تخریج الحدیث: «حسن بطرقه، وهذا إسناد ضعيف، إبراهيم بن محمد المسعودي والد يحيى لم نقف له على ترجمة، والأعمش لم يسمع من شمر بن عطية فيما نقل ابنُ أبي حاتم في "المراسيل" عن أحمد، وشمر بن عطية -وهو الأسدي- لم يدرك خريم بن فاتك. وقال الذهبي في "التلخيص": إسناده مظلم. أبو جعفر ...» [ترقيم الرساله 6753] [ترقيم الشركة 6673] [ترقيم العلميه 6608]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں