المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
962. ذكر إسلام خريم بن فاتك
سیدنا خریم بن فاتک رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کا ذکر
حدیث نمبر: 6752
حدثنا أبو القاسم الحسن بن محمد السَّكُوني بالكوفة، حدثنا محمد ابن عثمان بن أبي شَيْبة، حدثنا محمد بن تَسنيم الحَضْرمي، حدثنا محمد بن خليفة الأسدي، حدثنا الحسن بن محمد بن علي، عن أبيه، قال: قال عمرُ بن الخطاب ذاتَ يومٍ لابن عبّاس: حدِّثْني بحديثٍ يُعجبني، قال: حدثني خُريم بن فاتِك الأسدي، قال: خرجتُ في إبلٍ لي فأصبتُها بأبرَقِ العزَّاف (2) فعَقَلتُها وتوسَّدتُ ذِراعَ بعيرٍ منها، وذلك حِدْثانَ خروجِ النبيِّ ﷺ، ثم قلتُ: أعوذُ بعظيمِ هذا الوادي -قال: وكذلك كانوا يصنعون في الجاهلية- فإذا هاتفٌ يَهتِفُ بي ويقول: وَيْحَكَ عُذْ بالله ذي الجَلالِ … مُنزِّلِ الحرامِ والحلالِ ووحِّدِ اللهَ ولا تُبالي … ما هَولُ ذي الحَزْم (3) من الأهوالِ إذْ يَذكرُ اللهَ على الأميالِ … وفي سُهولِ الأرضِ والجبالِ وصارَ كيدُ الجنِّ (1) في سَفَالِ … إلّا التُّقى وصالحَ الأعمالِ قال: فقلت: يا أيُّها الداعي بما تُحيلُ … رُشْدٌ تُرَى عندَك أم تضليلُ فقال: هذا رسولُ الله ذو الخَيراتِ … جاء بياسينَ وحاميماتِ وسُوَرٍ بعدُ مُفصَّلاتِ … مُحرِّماتٍ ومُحلِّلاتِ يأمُرُ بالصومِ وبالصلاةِ … ويَزجُرُ الناسَ عن الهَنَاتِ قد كُنَّ في الأنام مُنكَراتِ قال: فقلتُ: من أنت يرحمُك الله؟ قال: أنا مالكُ بن مالك (2) ، بعثني رسولُ الله ﷺ على أرض أهل نجدٍ (3) ، قال: فقلتُ: لو كان لي من يكفيني إبلي هذه لأتيتُه حتي أؤمِنَ به، فقال: أنا أكفِيكَها حتى أؤدِّيَها إلى أهلك سالمةً إن شاء الله تعالى. فاعتقلتُ بعيرًا منها، ثم أتيتُ المدينةَ فوافقتُ الناسَ يومَ الجمعة وهم في الصلاة، فقلتُ: يقضون صلاتَهم ثم أدخلُ، فإني لَرائثٌ (4) أُنيخُ راحلتي إذ خرجَ أبو ذرٍّ فقال: يقولُ لك رسولُ الله ﷺ:"ادخُلْ"، فدخلتُ فلما رآني قال:"ما فعل الشيخُ الذي ضَمِنَ لك أن يؤدِّيَ إبلَك إلى أهلِكَ سالمةً، أما إنه قد أدَّاها إلى أهلك سالمةً" قلتُ: ﵀، فقال النبيُّ ﷺ:"أجَلْ، ﵀" فقال خُريم: أشهدُ أن لا إله إلَّا الله، وحَسُنَ إسلامه (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6607 - لم يصح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6607 - لم يصح
حسن بن محمد بن علی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ ایک دن سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: آپ مجھے کوئی ایسی حدیث سنائیں جو مجھے حیران کر دے۔ انہوں نے کہا: مجھے خریم بن فاتک اسدی رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ میں ایک مرتبہ اپنے اونٹوں کو لے کر نکلا، تیز بارش میں میرے اونٹ پر آسمانی بجلی گری، اور اونٹ گر گیا، میں نے اس کی ایک ٹانگ کے ساتھ ٹیک لگائی، یہ وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ظاہر ہونے کا تھا، پھر میں نے کہا:” اعوذ بعظیم ہذا الوادی (یعنی میں اس عظیم وادی کی پناہ مانگتا ہوں) لوگ زمانہ جاہلیت میں ایسے ہی کیا کرتے تھے۔ (میں نے یہ کہا تو) ہاتف غیبی نے آواز دی اور درج ذیل اشعار پڑھے۔ * تو ہلاک ہو جائے، تو جلال والے اللہ کی پناہ مانگ جو کہ حرام و حلال کو نازل کرنے والا ہے۔ * اللہ تعالیٰ کو وحدہ لا شریک تسلیم کر اور پہاڑوں کے برابر آنے والی پریشانیوں کی پرواہ نہ کر۔ * کیونکہ وہ دور دراز علاقوں میں، زمین کی گہرائیوں اور پہاڑوں کی چوٹیوں پر اللہ کا ذکر کرتے ہیں۔ * پستیوں میں حق کا وکیل صرف تقویٰ اور اعمال صالحہ ہوتے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں: اس کے جواب میں، میں نے کہا: * اے وہ شخص جو نہ ممکن باتیں کرنے والا ہے! تم جس کی طرف بلا رہے ہو وہ تمہارے نزدیک ہدایت ہے یا گمراہی؟ اس نے جواباً کہا: * یہ اللہ کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے، بھلائیوں والا ہے، یاسین اور بعض سورتوں کے شروع میں حٰمٓ کے الفاظ لایا ہے۔ * ان سورتوں میں مفصلات بھی ہیں، حلال چیزوں کے احکام بیان کرنے والی بھی ہیں اور حرام چیزوں کے احکام بیان کرنے والی بھی۔ * وہ نماز اور روزے کا حکم دیتا ہے اور لوگوں کو ان گناہ کے کاموں سے روکتا ہے جو زمانہ جاہلیت میں عام تھے۔ میں نے کہا: اللہ تعالیٰ تجھ پر رحم کرے، تم کون ہو؟ اس نے کہا: میں مالک بن مالک ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اہل نجدہ کی سرزمین سے بھیجا ہے، آپ فرماتے ہیں: پھر میں نے کہا: اگر کوئی شخص مجھے ایسا مل جاتا جو میرے اونٹوں کی رکھوالی کرتا تو میں اس کے پاس جاتا اور اس پر ایمان لاتا، اس نے کہا: تیرے ان اونٹوں کو میں اپنی ذمہ داری پر تیرے گھر والوں تک پہنچا دوں گا، ان شاء اللہ تعالیٰ۔ چنانچہ میں ان میں سے ایک اونٹ پر سوار ہوا اور مدینہ منورہ پہنچ گیا۔ میں جمعہ کے دن وہاں پہنچا، اس وقت لوگ نماز جمعہ ادا کر رہے تھے، میں نے سوچا کہ یہ لوگ نماز پوری کر لیں، میں بعد میں اندر جاؤں گا۔ میں اپنا اونٹ بٹھانے کے لئے چلا گیا، اس دوران سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ باہر نکلے اور مجھے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ سے فرما رہے ہیں کہ آپ اندر آ جائیں، میں اندر چلا گیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا تو فرمایا: اس آدمی نے کیا کیا جس نے تیرے اونٹ صحیح سلامت تیرے گھر والوں تک پہنچانے کی ذمہ داری اٹھائی تھی؟ بے شک اس نے وہ اونٹ تیرے گھر والوں تک صحیح سلامت پہنچا دیئے ہیں۔ میں نے کہا: اللہ تعالیٰ اس پر رحمت فرمائے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی، اللہ تعالیٰ اس پر رحمت فرمائے۔ سیدنا خریم نے اسی لمحے کلمہ شریف پڑھا اشھد ان لا الہ الا اللہ، اور بہت احسن انداز میں اسلام لائے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6752]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6752 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: برق عراقة، والمثبت من مصادر التخريج. وسلف التعريف بأبرق العزاف عند الخبر (6620).
📝 نوٹ / توضیح: نسخوں میں "برق عراقہ" کی تحریف ہے، جبکہ درست لفظ "ابرق العزاف" ہے جس کی تفصیل حدیث نمبر (6620) کے تحت گزر چکی ہے۔
(3) كذا في النسخ الخطية، وفي مصادر التخريج: الجن.
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں اسی طرح ہے، جبکہ دیگر تخریجی ذرائع میں یہاں لفظ "الجن" (جنوں) کا ذکر ہے۔
(1) تحرَّفت هذه الكلمات الثلاث في النسخ الخطية على غير وجه، والمثبت على الصواب من مصادر التخريج.
📝 نوٹ / توضیح: ان تین کلمات میں قلمی نسخوں میں مختلف طرح سے تحریف (کتابت کی غلطی) ہوئی ہے، یہاں تخریجی مصادر کی مدد سے درست الفاظ درج کیے گئے ہیں۔
(2) في (م) و (ص) و (ب): لملك بن ملك، والمثبت من النسخة المحمودية كما في طبعة الميمان. وهو الموافق لما ترجم عليه ابن حجر في "الإصابة".
📝 نوٹ / توضیح: نسخہ (م)، (ص) اور (ب) میں "لملک بن ملک" لکھا ہے، جبکہ درست متن "نسخہ محمودیہ" (طبع میمان) سے لیا گیا ہے، اور یہی حافظ ابن حجر کی "الاصابہ" میں موجود تحقیق کے مطابق ہے۔
(3) في النسخ: عن أرض أهل نجد، والمثبت من كتاب "سير السلف الصالحين" لقوام السنة الأصبهاني حيث رواه عن المصنف من كتابه، وعند الطبراني: على جن أهل نجد.
📖 حوالہ / مصدر: قلمی نسخوں میں "عن أرض أهل نجد" ہے، مگر درست عبارت قوام السنہ اصبہانی کی کتاب "سیر السلف الصالحین" سے لی گئی ہے (کیونکہ انہوں نے مصنف کی کتاب ہی سے اسے روایت کیا ہے)۔ طبرانی کے ہاں اس جگہ "علی جن اھل نجد" کے الفاظ ہیں۔
(4) أي: متبطّئ غير متعجّل.
📝 نوٹ / توضیح: اس کا مطلب ہے: سستی اور دیر کرنے والا، نہ کہ جلدی کرنے والا۔
(1) إسناده واهٍ مظلم؛ محمد بن خليفة الأسدي ومن فوقه لم نعرفهم. وقال ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 52/ 375: محمد بن أبي حيي الأذرعي حدث عن أبيه روى عنه محمد بن خليفة ابن إسحاق الأسدي؛ كذا وقع عنده، وسواء هذا أم ذاك فالإسناد لا يصح، وقال الذهبي في "التلخيص": لم يصح. وقال الهيثمي في "مجمع الزوائد" 8/ 251: فيه من لم أعرفهم.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "واہی اور مظلم" (انتہائی کمزور اور مشکوک) ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: محمد بن خلیفہ الاسدی اور ان سے اوپر کے راویوں کے حالات نامعلوم ہیں۔ ابن عساکر کے بقول یہ سند کسی صورت درست نہیں ہے۔ علامہ ذہبی نے اسے "لم یصح" (صحیح نہیں) اور علامہ ہیثمی نے "مجمع الزوائد" میں اس کے راویوں کو "نا معلوم" قرار دیا ہے۔
وأخرجه قوام السنة في "سير السلف الصالحين" ص 403 - 406 من طريق أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے قوام السنہ نے "سیر السلف الصالحین" (ص 403-406) میں امام حاکم کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه الطبراني في "المعجم الكبير" (4166) -وعنه أبو نعيم في "معرفة الصحابة" (2518) عن محمد بن عثمان بن أبي شيبة، عن محمد بن تسنيم الحضرمي، به. وقرن أبو نعيم بالطبراني محمد بن أحمد بن الحسن.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام طبرانی نے "المعجم الکبیر" (4166) میں اور ان کے واسطے سے ابو نعیم نے "معرفة الصحابة" میں محمد بن عثمان بن ابی شیبہ کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن عساكر 16/ 349 - 350 و 52/ 377 - 378 من طريق أبي علي الصواف، عن محمد بن عثمان، عن محمد بن تسنيم، عن أبي خليفة الأسدي، عن رجل من أهل أذرعات -قد سماه محمد بن تسنيم- بإسناد أجود من هذا عن خريم بن فاتك. قال ابن عساكر: وفيه اختلاف في الشعر.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن عساکر نے ابو علی الصواف کے طریق سے روایت کیا ہے، جو خریم بن فاتک رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں۔ ⚖️ درجۂ حدیث: یہ سند گزشتہ سند کے مقابلے میں "اجود" (بہتر) ہے، تاہم ابن عساکر کے بقول اس میں اشعار کے الفاظ میں اختلاف پایا جاتا ہے۔
وأخرجه ابن عساكر 16/ 348 - 349 من طريق أبي علي بن الصواف، عن محمد بن عثمان، عن المنجاب بن الحارث، عن أبي عامر الأسدي، عن ابن سمعان المديني، قال: قد أسنده. قال المنجاب: وأخبرني أيضا بعض أصحابنا -وهو خلاد الأحول- عن قيس بن الربيع الأسدي قال: قال خريم بن الفاتك الأسدي. وفي إسناده من لم نعرفه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن عساکر نے منجاب بن حارث کے طریق سے روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس سند میں بھی ایسے راوی موجود ہیں جنہیں ہم نہیں جانتے (مجہول ہیں)۔
وأخرجه ابن عساكر أيضًا 52/ 376 - 377 من طريق جعفر بن هذيل العنزي ومحمد بن تسنيم الوراق، كلاهما عن محمد بن خليفة بن إسحاق الأسدي، عن محمد بن أبي حيي من أهل أذرعات، عن أبيه قال: قال عمر بن الخطاب ذات يوم أو ذات ليلة لأبن عبّاس، فذكره. وقال: هذا حديث غريب.
⚖️ درجۂ حدیث: ابن عساکر نے اسے "حدیث غریب" قرار دیا ہے۔ 🧾 تفصیلِ روایت: راوی کہتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کسی دن یا رات ابن عباس رضی اللہ عنہما سے (ایک واقعہ) ذکر فرمایا۔
وفي الباب عن أبي هريرة عند الطبراني (4165)، وأبي نعيم في "المعرفة" (2517)، وابن عساكر 16/ 346 - 348، وإسناده لا يفرح به، فيه محمد بن إبراهيم بن العلاء الشامي متهم بالكذب.
🧩 متابعات و شواہد: اس باب میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مروی ہے (طبرانی: 4165)۔ ⚖️ درجۂ حدیث: یہ سند "نا قابلِ اطمینان" ہے، کیونکہ اس میں محمد بن ابراہیم بن العلاء الشامی موجود ہے جس پر کذب (جھوٹ) کی تہمت ہے۔
وروي نحوه بإسناد آخر مظلم في "دلائل النبوة" لأبي نعيم الأصبهاني (61) حدثنا أبو أحمد بن محمد بن أحمد، قال: ثنا إسحاق بن عبد الله بن سلمة الكوفي، قال: ثنا أحمد بن داود الأيلي، قال: ثنا أبو عمر اللخمي، قال: ثنا محمد بن إسحاق، عن سعيد بن أبي سعيد المقبري، عن أبي هريرة، قال: قال خريم بن فاتك لعمر بن الخطاب: ألا أخبرك ببدء إسلامي، فذكره.
📖 حوالہ / مصدر: اسی طرح کی ایک روایت ابو نعیم کی "دلائل النبوہ" (61) میں ایک اور "مظلم" (مشکوک) سند کے ساتھ مروی ہے۔ 🧾 تفصیلِ روایت: خریم بن فاتک نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا میں آپ کو اپنے اسلام لانے کے آغاز کا قصہ نہ سناؤں؟ پھر انہوں نے پورا واقعہ ذکر کیا۔