🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

964. ذِكْرُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ آبِي اللَّحْمِ، وَذِكْرُ مَوَالِيهِ الَّذِينَ أَسْلَمُوا مَعَهُ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ
سیدنا عبد اللہ بن عبد الملک ابو اللحم رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر اور ان کے ان غلاموں کا بیان جو ان کے ساتھ اسلام لائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6755
أخبرنا الحسن بن محمد الأزهري، حدثنا إسحاق بن داود الصوَّاف بتُستَر، حدثنا إبراهيم بن المُستمِر العُروقي، حدثنا عبد الوهاب بن عيسى الواسطي، حدثنا يحيى بن أبي زكريا الغسَّاني [حدثني عبَّاد بن سعيد] (1) حدثني مبشِّر (2) بن أبي المَليح بن أسامة، عن أبيه، عن جدِّه أسامةَ بن عُمير: أنَّه صلَّى مع النبيِّ ﷺ ركعتي الفجر، فصلَّى قريبًا منه، فصلَّى النبيُّ ﷺ ركعتينِ خفيفتينِ، فسمعه يقول:"اللهم ربَّ جبريلَ وميكائيلَ وإسرافيلَ ومحمدٍ أعوذُ بكَ من النارِ"، ثلاثَ مرات (3) . ذكرُ عبد الله بن عبد الملك آبي اللَّحْم وذكرُ مواليه الذين أسلموا معه ﵃-
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6610 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا اسامہ بن عمیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نماز فجر ادا کی، آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بہت قریب کھڑے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مختصر رکعتیں پڑھائیں پھر یوں دعا مانگی اے اللہ! اے جبرائیل، میکائیل، اسرافیل اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رب، میں آگ سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ یہ دعا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ مانگی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6755]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6756
أخبرنا أبو محمد المُزَني، حدثنا أبو خليفة القاضي، حدثنا محمد بن سلَّام الجُمَحي (1) ، حدثنا أبو عُبيدة مَعمَر بن المثنَّى، قال: آبي اللَّحم اسمُه عبدُ الله ابن عبد الملك بن عبد الله بن عفَّان، وكان شريفًا شاعرًا، وشهدَ فتح خيبر ومعه عُميرٌ مولاه. قال أبو عبيدة: وإنما سُمِّي آبيَ اللَّحم لأنه كان يأبى أن يأكلَ اللَّحم.
ابوعبیدہ معمر بن مثنی فرماتے ہیں آبی اللحم کا نام عبداللہ بن عبدالملک بن عبداللہ بن عفان ہے۔ آپ شریف تھے شاعر تھے، جنگ حنین میں شریک ہوئے تھے، اس موقع پر ان کے ہمراہ ان کا آزاد کردہ غلام عمیر بھی تھا۔ ابوعبیدہ کہتے ہیں: ان کو آبی اللحم اس لئے کہا جاتا تھا کہ یہ گوشت کھانے سے انکار کیا کرتے تھے، (اور آبی کا معنی ہے انکار کرنے والا [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6756]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6757
أخبرني أحمد بن يعقوب، حدثنا موسى بن زكريا، حدثنا شَبَابٌ، فذكر هذا النَّسب. وقال محمد بن عمر: كان آبي اللَّحم ينزلُ الصفراءَ (2) على ثلاثٍ من المدينة، وعُميرٌ مولاه كان ينزلُ معه.
شباب نے بھی ان کا مذکورہ بالا نسب بیان کیا ہے، اور پھر فرمایا: محمد بن عمر گوشت کھانے سے انکار کر دیا کرتے تھے، آپ مقام صفراء میں ٹھہرے تھے، یہ مقام مدینہ منورہ سے تین میل کی مسافت پر واقع ہے، اور ان کا آزاد کردہ غلام عمیر بھی ان کے ہمراہ مقام صفراء میں ٹھہرا تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6757]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6758
حدثنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو مُسلم، حدثنا القَعْنَبي، حدثنا حاتم بن إسماعيل، عن يزيد بن أبي عبيد، قال: سمعتُ عميرًا مولى آبي اللَّحم يقول: أمرني مولاي أن أُقدِّدَ (3) له لحمًا، فجاءني مسكينٌ فأطعمتُه منه، فضربني مولاي، فأتيتُ رسولَ الله ﷺ فذكرتُ ذلك له، فدعاه فقال:"لِمَ ضربتَه؟" فقال: يُطعِمُ طعامي من غير أن آمرَه، فقال رسولُ الله ﷺ:"الأجرُ بينَكما" (4) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6613 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
آبی اللحم رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام عمیر کہتے ہیں: میرے آقا نے مجھے حکم دیا کہ میں ان کے لئے گوشت بھونوں، میں گوشت بھون رہا تھا کہ ایک مسکین آ گیا، میں نے وہ گوشت مسکین کو کھلا دیا، اس پر میرے آقا نے مجھے بہت مارا، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آیا اور اس کی شکایت کر دی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بلوایا، اور ان سے ان کو مارنے کی وجہ پوچھی، انہوں نے کہا: اس نے میری اجازت کے بغیر میرا کھانا کسی اور کو کھلا دیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس پر جو ثواب ملے گا وہ تم دونوں کو ملے گا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6758]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں