🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

975. ذِكْرُ أَفْضَلِ الْجِهَادِ
سب سے افضل جہاد کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6773
أخبرنا أبو جعفر البغدادي، حدثنا أبو عُلَاثة، حدثني أبي، حدثنا محمد ابن سَلَمةَ الحَرَّاني، عن بكر بن خُنيس (1) [عن أبي بَدر] (2) عن عبد الله بن عُبيد بن عُمير، عن أبيه، عن جدِّه قال: كانت في نفسي مسألةٌ قد أحزنَني أنِّي لم أسألْ رسولَ الله ﷺ عنها، ولم أسمع أحدًا يسألُه عنها، فكنتُ أتحيَّنُه، فدخلتُ عليه ذاتَ يوم وهو يتوضأ، فوافقتُه على حالتين كنتُ أحبُّ أن أوافقَه عليهما، وجدتُه فارغًا طيِّبَ النفس، فقلتُ: يا رسول الله، ائذَنْ لي فأسألَكَ؟ قال:"نعم، سَلْ عَمَّا بَدَا لك"، قلتُ: يا رسول الله، ما الإيمان؟ قال:"السماحةُ والصبرُ"، قلتُ: فأيُّ المؤمنين أفضلُ إيمانًا؟ قال:"أحسنهم خُلقًا"، قلتُ: فأيُّ المسلمين أفضلُ إسلامًا؟ قال:"من سَلِمَ المسلمون من لسانِه ويدِه"، قلتُ: فأيُّ الجهاد أفضلُ؟ فطأطأ رأسَه، فصمتَ طويلًا حتى خفتُ أن أكونَ قد شققتُ عليه، وتمنَّيتُ أن لم أكن سألتُه، وقد سمعتُه بالأمس يقول:"إنَّ أعظمَ المسلمين في المسلمين جُرمًا لَمَن سألَ عن شيءٍ لم يُحرَّمْ عليهم (3) ، فحُرِّمَ عليهم من أجلِ مسألتِه"، فقلتُ: أعوذُ بالله من غضبِ الله وغضبِ رسولِه، فرفع رأسَه، فقال:"كيف قلتَ؟" قلتُ: أيُّ الجهاد أفضلُ؟ فقال:"كلمةُ عدلٍ عندَ إمامٍ جائرٍ" (4) أبو بَدْرٍ (1) الراوي عن عبد الله بن عبيد بن عمير اسمُه بشّار بنُ الحَكَم، شيخٌ من البصرة، قد روى عن ثابت البُناني غيرَ حديث. ذكرُ شدَّاد بن الهادِ اللَّيثي ﵁-
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6628 - أورد له الحاكم حديثا ضعيفا يعني هذا الحديث
سیدنا عمیر بن قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میرے دل میں ایک مسئلہ (سوال) تھا جس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ پوچھ سکنے کی وجہ سے میں غمگین تھا، اور نہ ہی میں نے کسی اور کو اس بارے میں سوال کرتے سنا تھا، چنانچہ میں (مناسب) وقت کا انتظار کرنے لگا، ایک دن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو فرما رہے تھے، مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دو ایسی حالتیں میسر آ گئیں جن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنا مجھے پسند تھا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فارغ اور خوش مزاج پایا، تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ مجھے اجازت دیتے ہیں کہ میں آپ سے کچھ دریافت کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «نَعَمْ، سَلْ عَمَّا بَدَا لَكَ» ہاں، جو تمہارے جی میں آئے پوچھو۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ایمان کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «السَّمَاحَةُ وَالصَّبْرُ» سخاوت اور صبر۔ میں نے عرض کیا: کون سے مؤمنین ایمان میں سب سے بہتر ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا» وہ جن کے اخلاق سب سے اچھے ہوں۔ میں نے عرض کیا: کون سے مسلمان اسلام میں سب سے بہتر ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ جس کی زبان اور ہاتھ (کی تکلیف) سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ میں نے عرض کیا: کون سا جہاد سب سے افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر مبارک جھکا لیا اور اتنی دیر خاموش رہے کہ مجھے ڈر لگنے لگا کہ کہیں میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر مشقت نہ ڈال دی ہو، اور میں تمنا کرنے لگا کہ کاش میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال نہ کیا ہوتا، کیونکہ میں نے گزشتہ روز ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا تھا: مسلمانوں میں سب سے بڑا مجرم وہ مسلمان ہے جس نے کسی ایسی چیز کے بارے میں سوال کیا جو ان پر حرام نہیں کی گئی تھی، پھر اس کے سوال کی وجہ سے وہ ان پر حرام کر دی گئی۔ تو میں نے کہا: میں اللہ کے غصے اور اس کے رسول کے غصے سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں، تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر مبارک اٹھایا اور فرمایا: تم نے کیا پوچھا تھا؟ میں نے عرض کیا: کون سا جہاد سب سے افضل ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «كَلِمَةُ عَدْلٍ عِنْدَ إِمَامٍ جَائِرٍ» ظالم حکمران کے سامنے حق بات کہنا۔
عبداللہ بن عبید بن عمیر سے روایت کرنے والے راوی ابو بدر کا نام بشار بن حکم ہے، وہ بصرہ کے ایک شیخ ہیں، انہوں نے ثابت بنانی سے کئی احادیث روایت کی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6773]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، بكر بن خنيس ضعيف، وأبو بدر -وهو بشار بن الحكم- قال أبو زرعة: منكر الحديث، وقال ابن حبان: ينفرد عن ثابت بأشياء ليست من حديثه، وقال ابن عدي: منكر الحديث عن ثابت البناني وغيره، ثم قال: يروي عن ثابت وغيره ممّا لا يرويه غيره، وأحاديثه ...» [ترقيم الرساله 6773] [ترقيم الشركة 6693] [ترقيم العلميه 6628]

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں