🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

976. ذِكْرُ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ اللَّيْثِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا شداد بن الہاد لیثی رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6774
أخبرني أحمد بن يعقوب الثَّقفي، حدثنا موسى بن زكريا التُّستَري، حدثنا خليفة بن خيَّاط قال: شدَّادُ بن الهاد بن عمرو بن عبد الله بن جابر بن نَمِر بن عامر بن ليث بن بكر، واسمُ الهادِ أسامةُ، وهو أبو عبد الله بن شدَّاد بن الهاد، تحوَّل إلى الكوفة.
خلیفہ بن خیاط سے روایت ہے کہ شداد بن ہاد بن عمرو بن عبداللہ بن جابر بن نمر بن عامر بن لیث بن بکر ہیں، اور ہاد کا اصل نام اسامہ تھا، وہ ابو عبداللہ بن شداد بن ہاد کے والد ہیں اور وہ کوفہ منتقل ہو گئے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6774]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 6774] [ترقيم الشركة 6694]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6775
أخبرناه أبو محمد المُزَني، حدثنا أبو خليفة، حدثنا محمد بن سلَّام، حدثنا أبو عبيدة؛ فذكر هذا النسب، وقال: إنما سُمِّي الهاد؛ لأنه كان يَهدي الطريق.
ابو عبیدہ سے مروی ہے، انہوں نے مذکورہ بالا نسب ہی بیان کیا اور کہا کہ ان کا لقب ہاد اس لیے پڑا کیونکہ وہ راستے کی رہنمائی کیا کرتے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6775]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 6775] [ترقيم الشركة 6695]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6776
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا جَرير بن حازم، قال: سمعتُ محمد بن عبد الله بن أبي يعقوب يُحدِّث عن عبد الله بن شدَّاد بن الهاد، عن أبيه قال: خرجَ علينا رسولُ الله ﷺ في إحدى صلاتَي النهار الظُّهرِ أو العصر، وهو حاملٌ الحسن أو الحسين، فتقدَّم فوضعه عند قدمه اليمنى، فسجد رسولُ الله ﷺ سجدةً أطالها، فرفعتُ رأسي بين الناس، فإذا رسولُ الله ﷺ ساجدٌ، وإذا الغلامُ راكبٌ ظهرَه، فعُدْتُ فسجدت، فلما انصرف رسولُ الله ﷺ، قال ناسٌ: يا رسولَ الله، لقد سجدتَ في صلاتك هذه سجدةً ما كنتَ تسجدُها، أشيءٌ أُمرتَ به أو كان يُوحَى إليك؟ فقال:"كلٌّ لم يكن، ولكنَّ ابني ارتحَلَني، فكرهتُ أن أُعجِلَه حتى يقضيَ حاجتَه" (1) . ذكرُ الحارث بن مالك ابنِ البَرْصاء اللَّيثي ﵁-
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6631 - إسناده جيد
سیدنا شداد بن ہاد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دن کی دو نمازوں یعنی ظہر یا عصر میں سے کسی ایک کے لیے ہمارے پاس تشریف لائے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن یا حسین رضی اللہ عنہما میں سے کسی کو اٹھایا ہوا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے اور انہیں اپنے دائیں قدم کے پاس بٹھا دیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک طویل سجدہ کیا، میں نے لوگوں کے درمیان سے اپنا سر اٹھا کر دیکھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے کی حالت میں تھے اور بچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت پر سوار تھا، چنانچہ میں دوبارہ سجدے میں چلا گیا، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ نے اس نماز میں ایسا طویل سجدہ کیا جو آپ پہلے نہیں کیا کرتے تھے، کیا آپ کو کسی کام کا حکم دیا گیا تھا یا آپ پر وحی نازل ہو رہی تھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان میں سے کوئی بات نہ تھی، بلکہ میرا یہ بیٹا مجھ پر سوار ہو گیا تھا، تو میں نے اسے جلدی اتار کر پریشان کرنا پسند نہ کیا جب تک کہ وہ اپنی ضرورت پوری نہ کر لے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6776]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،وجوَّد إسنادَه الذهبي في "التلخيص".» [ترقيم الرساله 6776] [ترقيم الشركة 6696] [ترقيم العلميه 6631]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں