🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

977. ذِكْرُ الْحَارِثِ بْنِ مَالِكٍ ابْنِ الْبَرْصَاءِ اللَّيْثِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا حارث بن مالک ابن البرصاء لیثی رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6776
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا جَرير بن حازم، قال: سمعتُ محمد بن عبد الله بن أبي يعقوب يُحدِّث عن عبد الله بن شدَّاد بن الهاد، عن أبيه قال: خرجَ علينا رسولُ الله ﷺ في إحدى صلاتَي النهار الظُّهرِ أو العصر، وهو حاملٌ الحسن أو الحسين، فتقدَّم فوضعه عند قدمه اليمنى، فسجد رسولُ الله ﷺ سجدةً أطالها، فرفعتُ رأسي بين الناس، فإذا رسولُ الله ﷺ ساجدٌ، وإذا الغلامُ راكبٌ ظهرَه، فعُدْتُ فسجدت، فلما انصرف رسولُ الله ﷺ، قال ناسٌ: يا رسولَ الله، لقد سجدتَ في صلاتك هذه سجدةً ما كنتَ تسجدُها، أشيءٌ أُمرتَ به أو كان يُوحَى إليك؟ فقال:"كلٌّ لم يكن، ولكنَّ ابني ارتحَلَني، فكرهتُ أن أُعجِلَه حتى يقضيَ حاجتَه" (1) . ذكرُ الحارث بن مالك ابنِ البَرْصاء اللَّيثي ﵁-
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6631 - إسناده جيد
سیدنا شداد بن الہاد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دن کی نمازوں ظہر یا عصر میں سے کسی ایک نماز میں تشریف لائے، آپ نے سیدنا حسن یا (شاید) سیدنا حسین کو اٹھایا ہوا تھا، آپ آگے تشریف لے گئے، اور اپنی دائیں جانب ان کو کھڑا کر لیا، اس نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سجدہ کیا تو بہت لمبا کر دیا، میں نے سجدے سے سر اٹھا کر دیکھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں تھے اور وہ بچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت پر سوار تھا، میں کچھ دیر بیٹھا رہا، پھر سجدے میں چلا گیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے آج اس نماز میں اتنا طویل سجدہ کیا ہے کہ اس سے پہلے آپ نے کبھی اتنا لمبا سجدہ نہیں کیا، آپ کو کوئی خاص حکم دیا گیا ہے؟ یا آپ پر کوئی وحی نازل ہو رہی تھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں نہیں۔ میرا یہ بیٹا مجھ پر سوار ہو گیا تھا، مجھے اچھا نہیں لگا کہ اس کی مرضی کے بغیر اس کو نیچے اتار دوں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6776]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6777
أخبرنا أبو محمد المُزَني، حدثنا أبو خليفة، حدثنا محمد بن سلَّام، حدثنا أبو عُبيدة قال: الحارثُ ابن البَرْصاء هو الحارث بن مالك بن قيس بن عُوَيذ (2) ابن عبد الله بن جابر بن عبد مَنَاف بن شِجْع بن عامر بن ليث، وأمُّه البَرْصاء بنتُ عبد الله بن رَبيعة الهِلاليَّة، أقام بمكةَ ثم نزل الكوفةَ.
ابوعبیدہ فرماتے ہیں: حارث بن برصاء، یہی حارث بن مالک ہیں، ان کا نسب یوں ہے حارث بن مالک بن قیس بن عویذ بن عبداللہ بن جابر بن عبد مناف بن اشجع بن عامر بن لیث ان کی والدہ برصاء بنت عبداللہ بن ربیعہ ہلالیہ ہیں۔ آپ مکہ میں رہے، پھر کوفہ میں رہائش پذیر ہو گئے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6777]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں