المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
1020. تَعْظِيمُ عُمَرَ لِعَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا -
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا ادب و احترام کرنا
حدیث نمبر: 6874
أخبرنا أبو الفضل الحسن بن يعقوب بن يوسف العَدْل، حَدَّثَنَا يحيى بن أبي طالب، حَدَّثَنَا زيد بن الحُباب، أخبرنا عمر بن سعيد بن أبي حُسين المكي، حدثني عبد الله بن أبي مُليكة، حدثني ذَكْوان أبو عمرو مولى عائشة: أنَّ دُرْجًا قَدِمَ إلى عمر من العِراق وفيه جوهرٌ، فقال لأصحابه: تدرون ما ثمنُه؟ قالوا: لا، ولم يدروا كيف يَقسِمونَه، فقال: تأذنونَ أن أبعثَ به إلى عائشةَ لحبِّ رسولِ الله ﷺ إياها؟ قالوا: نعم، فبعثَ به (1) إليها، ففتحته فقالت: ماذا فُتِحَ على ابن الخطاب بعدَ رسولِ الله ﷺ؟! اللهم لا تُبقِني لعطيَّتِه لقابلٍ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين إذا صحَّ سماعُ ذكوان أبي عمرو، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6725 - فيه إرسال
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين إذا صحَّ سماعُ ذكوان أبي عمرو، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6725 - فيه إرسال
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام ذکوان ابو عمرو سے روایت ہے کہ عراق سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک صندوقچہ لایا گیا جس میں جواہرات تھے، انہوں نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا: ”کیا تم جانتے ہو کہ اس کی قیمت کیا ہے؟“ انہوں نے کہا: نہیں، اور وہ نہیں جانتے تھے کہ اسے کیسے تقسیم کریں، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”کیا تم مجھے اس بات کی اجازت دیتے ہو کہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان سے محبت کی وجہ سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بھیج دوں؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں، چنانچہ انہوں نے وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بھیج دیا، جب انہوں نے اسے کھولا تو فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ابن خطاب پر کیسی کیسی فتوحات کے دروازے کھول دیے گئے ہیں! اے اللہ! مجھے اگلے سال کے لیے ان کے عطیے کے واسطے زندہ نہ رکھنا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے بشرطیکہ ذکوان ابو عمرو کا سماع ثابت ہو جائے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6874]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے بشرطیکہ ذکوان ابو عمرو کا سماع ثابت ہو جائے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6874]
تخریج الحدیث: «إسناده جيد،كما قال ابن كثير في "مسند الفاروق" 2/ 324، وقد اختلف على زيد بن الحباب في وصله بذكر عائشة وإرساله بعدم ذكرها.» [ترقيم الرساله 6874] [ترقيم الشركة 6794] [ترقيم العلميه 6725]
الحكم على الحديث: إسناده جيد