المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
1041. ذِكْرُ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا -
سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے مناقب کا ذکر
حدیث نمبر: 6932
حدّثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدّثنا إبراهيم بن إسحاق الحَرْبيّ، حدّثنا مصعب بن عبد الله الزُّبيري قال: كانت زينبُ بنت جحش بن رِئاب بن يَعمَر بن صَبِرة بن مُرَّة بن كَبير (3) بن غَنْم بن دُودان بن أسد بن خُزيمة، وأمُّها أُميمة بنت عبد المطَّلب بن هاشم، واسمُه بن عمرو بن عبد مَناف، وكانت زينبُ عند زيد بن حارثة ففارقَها، فتزوَّجها رسولُ الله ﷺ، وفيها نزلت: ﴿فَلَمَّا قَضَى زَيدٌ مِنْهَا وَطَرًا زَوَحْتَكَهَا﴾ [الأحزاب: 37] ، قال: فكانت تفخَرُ على أزواج النبيِّ ﷺ تقولُ: زوَّجني اللهُ مِن رسولِه، وزوجَكُنُّ آباؤكنَّ وأقاربُكنَّ (1) . وحَمْنةُ بنت جَحْش هي المُستَحاضة، كانت تحتَ عبد الرحمن بن عَوف، وهي أختُ زينب بنت جَحْش.
سیدنا مصعب بن عبداللہ زبیری سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ سیدہ زینب بنت جحش بن رئاب (قبیلہ اسد سے) تھیں اور ان کی والدہ امیمہ بنت عبدالمطلب بن ہاشم (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی) تھیں۔ سیدہ زینب پہلے سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں، پھر ان سے علیحدگی ہو گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح فرمایا، اور انہی کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: ﴿فَلَمَّا قَضَى زَيْدٌ مِّنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنَاكَهَا﴾ ”پھر جب زید نے ان سے اپنی غرض پوری کر لی تو ہم نے ان کا نکاح آپ سے کر دیا۔“ [سورة الأحزاب: 37] وہ دیگر ازواج مطہرات کے سامنے فخر سے فرماتی تھیں: ”تمہارا نکاح تمہارے گھر والوں نے کیا جبکہ میرا نکاح اللہ تعالیٰ نے سات آسمانوں کے اوپر سے اپنے رسول سے فرمایا۔“ اور حمنہ بنت جحش سیدہ زینب کی بہن تھیں جو سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں اور انہیں استحاضہ کا عارضہ تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6932]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف بمرَّة، من فوق الواقديّ لم نتبيَّنهما، وهو مرسل أو معضل أيضًا.» [ترقيم الرساله 6932] [ترقيم الشركة 6852]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف بمرَّة
حدیث نمبر: 6933
فحدَّثنا بشرح هذه القصص أبو عبد الله الأصبهانيّ، حدّثنا الحسن بن الجَهْم، حدّثنا الحسين بن الفَرَج، حدّثنا محمد بن عمر قال: وزينبُ بنت جَحْش بن رِئاب أختُ عبد الرحمن بن جحش.
محمد بن عمر اور عمر بن عثمان جحشی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت کرنے والوں میں شامل تھیں، وہ ایک انتہائی حسین و جمیل خاتون تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کی جانب سے نکاح کا پیغام دیا تو انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! میں ان (زید) کے لیے خود کو پسند نہیں کرتی، جبکہ میں قریش کی ایک معزز خاتون ہوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لیکن میں نے انہیں تمہارے لیے پسند کر لیا ہے“، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے ان سے نکاح کر لیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6933]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 6933] [ترقيم الشركة 6853]