المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
1042. نِكَاحُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِزَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ
نبی کریم ﷺ کا (سیدہ) زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے نکاح کا تذکرہ
حدیث نمبر: 6933M
حدَّثني عمر بن عثمان الجَحْشيّ، عن أبيه قال: قَدِمَ النبيُّ ﷺ المدينة، وكانت زينبُ بنت جحش ممَّن هاجرَ معَ رسولِ الله ﷺ، وكانت امرأةً جميلة، فخطبَها رسولُ الله ﷺ على زيد بن حارثة، فقالت: يا رسولَ الله، لا أَرضاه لنفسيّ، وأنا أيِّمُ قريش، قال:"فإني قد رَضِيتُه لكِ"، فتزوجها زيد بن حارثة (2) .
عمر بن عثمان جحشی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا ان لوگوں میں شامل تھیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ہجرت کی تھی، وہ ایک حسین و جمیل خاتون تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کا رشتہ مانگا تو انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میں انہیں اپنے لیے پسند نہیں کرتی جبکہ میں قریش کی معزز بیوہ ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اسے تمہارے لیے پسند کر لیا ہے“، چنانچہ سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے ان سے نکاح کر لیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6933M]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 6933M] [ترقيم الشركة 6853/1]
حدیث نمبر: 6934
قال ابن عمر: فحدثني عبد الله بن عامر الأسلميّ، عن محمد بن يحيى بن حَبَّان قال: جاء رسولُ الله ﷺ بيتَ زيد بن حارثة يطلبُه، وكان زيد إنما يُقال له: زيدُ بن محمد، فربما فَقَدَه رسولُ الله ﷺ الساعةَ، فيقول:"أينَ زيد؟" فجاء منزلَه يطلبُه، فلم يَجِدْه، فتقوم إليه زينبُ [بنت جحش زوجته فُضُلًا، فأعرض رسولُ الله ﷺ عنها، فقالت: ليس هو هاهنا] (3) يا رسولَ الله، فولَّى يُهمهِم بشيء لا يكاد يُفهَم عنه إلَّا"سبحانَ الله العظيم سبحانَ الله مصرِّفِ القلوب"، فجاء زيدٌ إلى منزله، فأخبرته امرأتُه أنَّ رسول الله ﷺ أتى منزلَه، فقال زيد: ألا قلتِ له: يدخُل؟ قالت: قد عرضتُ ذلك عليه وأَبى، قال: فسمعتيه يقول شيئًا؟ قالت: سمعتُه حين ولَّى تكلَّم بكلام لا أفهمُه وسمعتُه يقول:"سبحانَ الله العظيم، سبحان مصرِّفِ القلوب"، قال: فخرج زيدٌ حتى أتى رسولَ الله ﷺ، فقال: يا رسولَ الله، بلغني أنَّك جئتَ منزليّ، فهلَّا دخلتَ بأبي أنت وأمي يا رسولَ الله، لعلَّ زينب أعجبتك فأفارقها؟ فيقولُ رسولُ الله ﷺ:"أمسِكْ عليك زوجَك"، فما استطاع زيدٌ إليها سبيلًا بعد ذلك، ويأتي رسولَ الله ﷺ فيخبره، فيقول:"أمسك عليك زوجَك"، فيقول: يا رسولَ الله، أفارقها؟ فيقولُ رسول الله ﷺ:"احبِسْ عليك زوجَك"، ففارقها زيدٌ واعتزلها، وحلَّت. قالت: فبينما رسولُ الله ﷺ جالسٌ يتحدَّث مع عائشة إذ (1) أَخَذَت رسول الله ﷺ غَمْيةٌ، ثم سُرِّيَ عنه وهو يتبسمُ وهو يقول:"مَن يذهب إلى زينب يُبشِّرُها أَنَّ الله ﷿ زوَّجَنيها من السماء؟"، وتلا رسول الله ﷺ: ﴿وَإِذْ تَقُولُ لِلَّذِي أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَأَنْعَمْتَ عَلَيْهِ﴾ [الأحزاب: 37] القصةَ كلَّها، قالت عائشة: فأخذني ما قَرُب وما بَعُدَ لِما كان بلغني من جمالها، وأخرى هي أعظمُ الأمور وأشرفُها، ما صنعَ اللهُ لها، زوَّجها الله ﷿ من السماء، وقالت عائشة: هي تَفخَرُ علينا بهذا، قالت عائشة: فخرجت سلمي خادمُ رسول الله ﷺ تشتدُّ فحدَّثَتها بذلك وأعطتها أَوضاحًا لها (2) .
محمد بن یحییٰ بن حبان سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے گھر تشریف لے گئے جنہیں ان دنوں ”زید بن محمد“ کہا جاتا تھا، بسا اوقات آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں یاد فرماتے اور پوچھتے: ”زید کہاں ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں تلاش کرتے ہوئے ان کے گھر پہنچے تو وہ وہاں نہ تھے، سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا گھریلو لباس میں اٹھ کر سامنے آئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نظریں پھیر لیں، انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! وہ یہاں نہیں ہیں“، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ گنگناتے ہوئے وہاں سے پلٹ گئے جس میں سے صرف یہ سنا گیا: «سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ، سُبْحَانَ اللَّهِ مُصَرِّفِ الْقُلُوبِ» عظیم ہے وہ اللہ جو دلوں کو پھیرنے والا ہے۔ جب زید گھر آئے تو ان کی اہلیہ نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تھے، زید نے پوچھا: ”تم نے انہیں اندر آنے کا کیوں نہیں کہا؟“ انہوں نے عرض کی: ”میں نے عرض کی تھی مگر انہوں نے انکار کر دیا“، زید نے پوچھا: ”کیا تم نے انہیں کچھ کہتے سنا؟“ انہوں نے بتایا: ”واپس جاتے ہوئے وہ کچھ ایسی بات کہہ رہے تھے جو میں سمجھ نہ سکی، البتہ یہ سنا کہ وہ فرما رہے تھے: «سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ، سُبْحَانَ اللَّهِ مُصَرِّفِ الْقُلُوبِ» ۔ چنانچہ زید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: ”یا رسول اللہ! مجھے معلوم ہوا کہ آپ میرے گھر تشریف لائے تھے، میرے ماں باپ آپ پر قربان! آپ اندر کیوں نہیں تشریف لے گئے؟ شاید زینب آپ کو پسند آئی ہوں تو میں انہیں طلاق دے دوں؟“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی بیوی کو اپنے پاس رکھو“۔ اس کے بعد زید کا ان کے ساتھ نباہ ناممکن ہو گیا، وہ دوبارہ حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: ”اپنی بیوی کو اپنے پاس رکھو“۔ زید نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! کیا میں انہیں جدا کر دوں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: ”اپنی بیوی کو اپنے پاس رکھو“۔ آخر کار زید نے انہیں طلاق دے دی اور وہ عدت سے فارغ ہو گئیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس بیٹھے گفتگو فرما رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کی کیفیت طاری ہوئی، پھر جب وہ کیفیت ختم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکراتے ہوئے فرما رہے تھے: ”کون ہے جو زینب کے پاس جا کر اسے یہ خوشخبری دے کہ اللہ عزوجل نے آسمان سے میرا نکاح اس کے ساتھ کر دیا ہے؟“ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ پوری آیت تلاوت فرمائی: ﴿وَإِذْ تَقُولُ لِلَّذِي أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَأَنْعَمْتَ عَلَيْهِ﴾ [الأحزاب: 37] ۔ سیدہ عائشہ فرماتی ہیں کہ ان کی خوبصورتی کے چرچے اور اس عظیم شرف کی وجہ سے جو اللہ نے انہیں عطا فرمایا کہ آسمان سے ان کا نکاح کر دیا، مجھ پر رشک کی ایک شدید کیفیت طاری ہو گئی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ وہ ہم پر اس بات سے فخر کیا کرتی تھیں، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خادمہ سلمیٰ تیزی سے نکلیں اور سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کو یہ خبر دی، جس پر انہوں نے خوش ہو کر انہیں اپنے چاندی کے زیورات انعام میں دے دیے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6934]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، عبد الله بن عامر الأسلمي ضعيف، والخبر مرسل، وفي متنه نكارة.» [ترقيم الرساله 6934] [ترقيم الشركة 6854]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 6935
قال ابنُ عمر: وحدثني أبو بكر بن عبد الله بن أبي سَبْرة، عن يزيد بن عبد الله بن الهاد، عن محمد بن إبراهيم بن الحارث التّيمي قال: أوصَتْ زينبُ بنت جَحْش أن تُحمَلَ على سريرِ رسولِ الله ﷺ ويُجعَل عليه نعشٌ. وقَبلَ ذلك حُمِل عليه أبو بكر الصدِّيق. ومرَّ عمر بن الخطاب على حَفَّارين يَحفِرون قبرَ زينب في يومٍ صائف، فقال: لو أني ضربتُ عليهم فُسطاطًا، وكان أولَ فُسطاطٍ ضُرِب على قبرٍ بالبقيع (1) .
محمد بن ابراہیم بن حارث تیمی سے روایت ہے کہ سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا نے یہ وصیت فرمائی تھی کہ انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چارپائی پر اٹھایا جائے اور اس پر جنازہ کا پردہ (نعش) ڈالا جائے، اور ان سے پہلے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا جنازہ بھی اسی پر اٹھایا گیا تھا۔ ایک سخت گرم دن میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا گزر قبر کھودنے والوں کے پاس سے ہوا جو سیدہ زینب کی قبر تیار کر رہے تھے، تو انہوں نے (ان کی سہولت کے لیے) فرمایا: ”اگر میں ان پر خیمہ تان دوں (تو بہتر ہو گا)“، اور یہ البقیع میں کسی قبر پر لگایا جانے والا پہلا خیمہ تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6935]
تخریج الحدیث: «إسناده تالف، ابن أبي سبرة متهم، لكنه متابع، والخبر مرسل أيضًا.» [ترقيم الرساله 6935] [ترقيم الشركة 6855]
الحكم على الحديث: إسناده تالف
حدیث نمبر: 6936
قال ابن عمر: وحدثني أبو بكر بن عبد الله بن أبي سَبْرة، عن أبي موسى، عن محمد بن كعب، عن عبد الله بن أبي سَلِيط قال: رأيتُ أبا أحمد بن جَحش يحملُ سريرَ زينب وهو مكفوفٌ وهو يبكي، وأسمعُ عمرَ يقول: يا أبا أحمد، تنحَّ عن السَّرير لا يُعنِتْك الناسُ، وازدحمَ الناسُ على سريرِها، فقال أبو أحمد: هذه التي نِلنا بها كلَّ خير، وإنَّ هذا يَبْرُدُ حرَّ ما أَجِدُ، فقال عمر: الزَمْ الزَمْ (1) .
عبداللہ بن ابی سلیط سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے ابو احمد بن جحش کو دیکھا کہ وہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کا جنازہ اٹھائے ہوئے تھے جبکہ وہ نابینا تھے اور رو رہے تھے، میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا: ”اے ابو احمد! جنازے سے ہٹ جاؤ تاکہ لوگ تمہیں تکلیف نہ دیں“، کیونکہ ان کے جنازے پر لوگوں کا بہت ہجوم تھا، تو ابو احمد نے کہا: ”یہ وہی ہستی ہیں جن کے ذریعے ہم نے ہر بھلائی پائی، اور یہ عمل اس تپش کو ٹھنڈا کر رہا ہے جو میں (جدائی کے غم میں) محسوس کر رہا ہوں“، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”لگے رہو، لگے رہو (یعنی ساتھ ہی رہو)۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6936]
تخریج الحدیث: «إسناده تالف كسابقه، أبو موسى: هو أيوب بن موسى بن عمرو الأموي.» [ترقيم الرساله 6936] [ترقيم الشركة 6856]
الحكم على الحديث: إسناده تالف كسابقه