المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
1043. كَانَتْ زَيْنَبُ مَأْوَى الْمَسَاكِينِ لِكَثْرَةِ صَدَقَاتِهَا
سیدہ زینب رضی اللہ عنہا اپنی کثرتِ صدقات کی وجہ سے مسکینوں کا ٹھکانہ (مأویٰ) تھیں
حدیث نمبر: 6936
قال ابن عمر: وحدثني أبو بكر بن عبد الله بن أبي سَبْرة، عن أبي موسى، عن محمد بن كعب، عن عبد الله بن أبي سَلِيط قال: رأيتُ أبا أحمد بن جَحش يحملُ سريرَ زينب وهو مكفوفٌ وهو يبكي، وأسمعُ عمرَ يقول: يا أبا أحمد، تنحَّ عن السَّرير لا يُعنِتْك الناسُ، وازدحمَ الناسُ على سريرِها، فقال أبو أحمد: هذه التي نِلنا بها كلَّ خير، وإنَّ هذا يَبْرُدُ حرَّ ما أَجِدُ، فقال عمر: الزَمْ الزَمْ (1) .
عبداللہ ابن ابی سلیط فرماتے ہیں: میں نے ابواحمد بن جحش کو دیکھا وہ سیدہ زینب کے جنازے کو کندھا دیئے ہوئے تھے، اور رو رہے تھے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اے ابواحمد! آپ جنازہ سے ہٹ جائیے، لوگ آپ کو جنازے کی چارپائی پر تھکا دیں گے۔ ابواحمد نے کہا: ہم نے اس خاتون سے ہر بھلائی پائی، اور بے شک یہ اس چیز کی گرمی کو ختم کرے گی جو گری میں پاتا ہوں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ (درمیان سے ہٹ گئے اور) بولے: پکڑ لو، پکڑ لو۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6936]
حدیث نمبر: 6937
قال: وحدثني عمر بن عثمان الجَحْشي، عن أبيه قال: ما تركَتْ زينبُ بنتُ جَحْش دينارًا ولا درهمًا، كانت تتصدَّقُ بكلِّ ما قَدَرَت عليه، وكانت مأوى المساكين، وتركت منزلَها، فباعوه من الوليد بن عبد الملك حين هَدَمَ المسجدَ بخمسين ألفَ درهم (2) .
عمر بن عثمان جحشی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں (آپ فرماتے ہیں) سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا نے کوئی درہم اور دینار وغیرہ وراثت نہیں چھوڑی، بلکہ جو چیز ان کے ہاتھ آتی، آپ وہ سب خیرات کر دیا کرتی تھیں۔ آپ مساکین کا ماویٰ و ملجا تھیں۔ انہوں نے اپنا ایک مکان چھوڑا تھا، جب مسجد کی توسیع کا کام شروع ہوا تو اس کو ولید بن عبدالملک کے ہاتھوں 50000 پچاس ہزار دراہم کے عوض بیچ دیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6937]