🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1054. الِاخْتِلَافُ فِي نِكَاحِ النَّبِيِّ بِمَيْمُونَةَ هَلْ وَقَعَ حَلَالًا أَوْ مُحْرِمًا
اس بات میں اختلاف کہ نبی کریم ﷺ کا سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح احلال کی حالت میں ہوا یا احرام میں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6964
حدثنا بصحة ما ذكرتُه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا وهب بن جرير بن حازم، حدثنا أبي، قال: سمعت أبا فَزَارة يُحدِّث عن يزيد بن الأصم، عن ميمونة: أن رسول الله ﷺ تزوجها حلالًا، وبَنَى بها حلالًا بنى بها بسَرِفَ. وماتت بسَرِفَ في الليلة التي بَنَى بها فيها، وكانت خالتي، فنزلتُ في قبرها أنا وابن عبّاس، فلما وضعناها في اللحد مال رأسها، فأخذتُ رِدائي فجمعته فوضعته عند رأسها، فأخذه ابن عباس فرمى به، ووضع عند رأسها كَذَّانَةٌ، قال: وكانت حَلَقَت في الحج، وكان رأسُها مُجمَّمًا، وبين سَرِفَ ومكةَ اثنا عشر ميلًا (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم ولم يخرجاه. وقد نَطَقَ هذا الإسناد الصحيح بأن رسول الله ﷺ تزوجها حلالًا، فأما أخبار عكرمة عن ابن عبّاس فإنها ناطقةٌ أنه ﷺ تزوجها وهو مُحرِمٌ.
یزید بن اصم سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اس حال میں نکاح فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم احرام میں نہیں تھے اور جب سرف کے مقام پر رخصتی ہوئی تب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم حلال تھے، اور ان کی وفات بھی مقامِ سرف پر اسی رات میں ہوئی جس رات برسوں پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پہلی شب گزاری تھی، وہ میمونہ رضی اللہ عنہا میری خالہ تھیں، میں اور ابن عباس رضی اللہ عنہما ان کی قبر میں اترے، جب ہم نے انہیں لحد میں رکھا تو ان کا سر ایک طرف ڈھلک گیا، میں نے اپنی چادر تہہ کر کے ان کے سر کے نیچے رکھنا چاہی تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اسے لے کر پھینک دیا اور ان کے سر کے نیچے ایک پتھر «كذانه» رکھ دیا اور فرمایا: انہوں نے حج کے موقع پر سر منڈوایا تھا اس لیے ان کا سر چھوٹے بالوں والا تھا، مقامِ سرف اور مکہ کے درمیان بارہ میل کا فاصلہ ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور یہ صحیح سند اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے حالتِ حلال میں نکاح فرمایا تھا، جہاں تک ابن عباس سے عکرمہ کی روایات کا تعلق ہے وہ کہتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حالتِ احرام میں نکاح فرمایا تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6964]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح أبو فزارة: هو راشد بن كيسان العبسي.» [ترقيم الرساله 6964] [ترقيم الشركة 6885]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6965
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه وعلي بن حَمْشَاذ العدل، قالا: أخبرنا بشر بن موسى، حدثنا الحميدي، حدثنا سفيان، عن عمرو بن دينار، أخبرني أبو الشعثاء، عن ابن عباس: أنَّ النبيَّ ﷺ نَكَحَ وهو مُحرم. قال عمرو: قد ذكرتُه للزهري، ثم قال: يا عمرو، مَن تُراها؟ قلتُ: يقولون: ميمونة، فقال ابن شهاب: أخبرني يزيد بن الأصم: أنَّ النبيَّ ﷺ تزوجها وهو حلال، فقال عمرٌو لابن شهاب: تجعل أعرابيًّا يبولُ على عَقِبه مثل ابن عبّاس؟ فقال ابن شهاب: هي خالته، فقال عمرو: هي خالة ابن عباس أيضًا (1)
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6798 - صحيح على شرط البخاري ومسلم
ابوالشعثاء سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے) نکاح فرمایا جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حالتِ احرام میں تھے۔ عمرو بن دینار کہتے ہیں: میں نے اس کا ذکر امام زہری سے کیا تو انہوں نے پوچھا: اے عمرو! تم کیا سمجھتے ہو وہ کون خاتون تھیں؟ میں نے کہا: لوگ کہتے ہیں کہ وہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا تھیں۔ ابن شہاب زہری نے کہا: مجھے یزید بن اصم نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اس حال میں نکاح فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حلال (احرام کے بغیر) تھے۔ عمرو نے ابن شہاب زہری سے کہا: کیا تم ایک دیہاتی شخص کو، جو اپنی ایڑیوں پر پیشاب کر لیتا ہو، ابن عباس جیسے (عظیم فقیہ) کے برابر قرار دیتے ہو؟ ابن شہاب زہری نے جواب دیا: وہ (میمونہ) ان کی (یزید بن اصم کی) خالہ تھیں، تو عمرو نے کہا: وہ ابن عباس کی بھی تو خالہ تھیں۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6965]
تخریج الحدیث: «إسناده الأول صحيح، وإسناده الثاني لم يذكر يزيد بن الأصم من حدثه بالخبر، فهو مرسل، لكن تقدم في الرواية أنه رواه عن ميمونة صاحبة القصة، وهي خالته، وصرّح عند مسلم وغيره بتحديثها إياه. سفيان: هو ابن عيينة، وأبو الشعثاء: اسمه جابر بن زيد اليحمدي.» [ترقيم الرساله 6965] [ترقيم الشركة 6886] [ترقيم العلميه 6798]

الحكم على الحديث:
إسناده الأول صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں