المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
1075. أَشْعَارُ أَبِي الْعَاصِ فِي مَدْحِ زَيْنَبَ
سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی مدح و تعریف میں ابو العاص (بن ربیع) کے اشعار
حدیث نمبر: 7010
قال محمد بن عمر: وأخبرني هشام بن محمد الكَلْبي، قال: أخبرني أبي، عن أبي صالح (1) ، عن ابن عبّاس قال: كان أسنَّ ولدِ رسول الله ﷺ القاسم، ثم زينبُ، فتزوّج زينب أبو العاص بن الربيع، فولدت له عليًا وأمامة، وفيها يقول أبو العاص: ذكرتُ زينب لمَّا وَرَّكَتْ (2) إِرَمَا … فقلتُ: سَقْيًا لشخصٍ يسكنُ الحَرَما بنتُ الأمين جزاها الله صالحة … وكلُّ بَعْلٍ سيُثْني بالذي عَلِما (3)
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد میں سب سے بڑے قاسم تھے اور ان کے بعد زینب تھیں، سیدہ زینب کا نکاح ابوالعاص بن ربیع سے ہوا جن سے ان کے ہاں علی اور امامہ پیدا ہوئے، اور ابوالعاص نے سیدہ زینب کی شان میں یہ اشعار کہے: ”جب ارم کے مقام پر زینب کو کجاوے پر سوار دیکھا تو مجھے وہ یاد آگئیں، میں نے دعا کی کہ اللہ اس ہستی کو سیراب رکھے جو حرم میں مقیم ہے، وہ امین ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی بیٹی ہیں اللہ انہیں بہترین جزا دے، اور ہر شوہر اپنی بیوی کی انہی خوبیوں کی تعریف کرتا ہے جو اس کے علم میں ہوتی ہیں۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 7010]
تخریج الحدیث: «إسناده تالف، مسلسل بالهلكي. أبو صالح: هو باذام مولى أم هانئ، وهو ضعيف.» [ترقيم الرساله 7010] [ترقيم الشركة 6931]
الحكم على الحديث: إسناده تالف