🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1087. ذِكْرُ شَجَاعَةِ صَفِيَّةَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ
غزوۂ خندق کے دن سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کی شجاعت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7039
أخبرنا أبو جعفر أحمد بن عُبيد بن إبراهيم بن محمد بن عبيد بن عبد الملك الأسدي الحافظ بهمذان، حدثنا إبراهيم بن الحسين بن ديزيل، حدثنا إسحاق بن محمد الفَرْوي (2) ، حدثتنا أم عُرْوة (3) بنت جعفر بن الزبير، عن أبيها، عن جدها الزبير، عن أمه صفية بنت عبد المطلب: أنَّ رسول الله ﷺ لَمَّا خرج إلى أحد جعل نساءه في أُطُمٍ يقال له: فارع (4) ، وجعل معهنَّ حسان بن ثابت، فجاء اليهود إلى الأُطم يلتمسون غِرَّةَ نساء النَّبيِّ ﷺ، فترقَّى إنسانٌ من الأُطم علينا، فقلتُ له: يا حسان، قُمْ إليه فاقتله، فقال: والله ما كان ذلك في، ولو كان ذلك فيَّ كنتُ مع النَّبيِّ ﷺ، فقلتُ له: اربط هذا السيف على ذراعي، فربطه، فقمتُ إليه فضربتُ رأسه حتى قطعته، فقلتُ له: خُذ بأذنيه فارم به عليهم، فقال: والله ما ذلك فيَّ، فأخذتُ برأسه فرميتُ به عليهم، فتضعْضَعُوا وهم يقولون: قد علمنا أن محمدًا لم يكن ليترك أهله خُلوفًا ليس معهن أحدٌ. قالت: وكان رسول الله ﷺ إذا اشتدَّ على المشركين شدَّ حسانُ مع رسول الله صلى الله عليه وهو معنا في الحصْن، فإذا رجع رجع وراءه كما يرجع رسول الله ﷺ، وهو ثَمَّ، فمرَّ بنا سعد بن معاذ وقد أخذ صُفْرةً وهو بعُرس قبل ذلك بأيام، وهو يرتجز: مهلًا قليلًا يَلحقِ الهَيْجا حَمَلْ … لا بأس بالموت إذا حلَّ الأَجَلْ قالت عائشة: فما رأيتُ رجلًا أحمل منه في ذلك اليوم (1) .
هذا حديث كبير غريب بهذا الإسناد، وقد روي بإسناد صحيح:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6866 - غريب وقد روي بإسناد صحيح
سیدہ صفیہ بنت عبدالمطلب رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (غزوہ) احد کے لیے تشریف لے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کو فارع نامی قلعے میں ٹھہرایا اور ان کے ساتھ سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کو چھوڑا، پھر کچھ یہودی قلعے کے پاس اس غرض سے آئے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کو تنہا پا کر کوئی شرارت کریں، ان میں سے ایک شخص قلعے کی دیوار پر چڑھ کر ہمارے اوپر آگیا، میں نے حسان سے کہا: اٹھو اور اسے قتل کر دو، انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! مجھ میں اس کی ہمت نہیں ہے، اگر مجھ میں یہ ہمت ہوتی تو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (میدانِ جنگ میں) ہوتا، میں نے ان سے کہا: یہ تلوار میرے بازو پر باندھ دو، انہوں نے اسے باندھ دیا، پھر میں اٹھی اور اس کے سر پر وار کر کے اسے قلم کر دیا، میں نے حسان سے کہا: اس کے کانوں سے پکڑ کر اسے نیچے ان (یہودیوں) کی طرف پھینک دو، انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! مجھ میں اس کی بھی ہمت نہیں ہے، چنانچہ میں نے خود اس کا سر پکڑا اور ان کی طرف پھینک دیا، جس سے وہ بدحواس ہو کر پیچھے ہٹ گئے اور کہنے لگے: ہمیں معلوم تھا کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اپنی خواتین کو کبھی تنہا نہیں چھوڑ سکتے کہ ان کے ساتھ کوئی (محافظ) نہ ہو۔ وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مشرکین پر حملہ آور ہوتے تو حسان بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (اشعار کے ذریعے) حملہ آور ہوتے جبکہ وہ ہمارے ساتھ قلعے میں ہی ہوتے تھے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس ہوتے تو وہ بھی آپ کے ساتھ ویسے ہی ہوتے (یعنی اشعار کی صورت میں ساتھ دیتے)۔ اسی دوران سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ ہمارے پاس سے گزرے، ان کی رنگت زرد ہو رہی تھی اور اس واقعے سے چند دن پہلے ہی ان کی شادی ہوئی تھی، وہ یہ رجزیہ اشعار پڑھ رہے تھے: تھوڑا انتظار کرو کہ بہادر جنگ سے جا ملے... موت میں کوئی حرج نہیں جب موت کا وقت آ جائے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے اس دن ان سے بڑھ کر ہمت والا اور بوجھ اٹھانے والا کوئی مرد نہیں دیکھا۔
یہ اس سند کے ساتھ ایک بڑی اور غریب (نادر) حدیث ہے، اور اسے ایک صحیح سند کے ساتھ بھی روایت کیا گیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 7039]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، وهذا إسناده ضعيف، إسحاق بن محمد الفروي لين الحديث، وأم عروة بنت جعفر لا تُعرَف، وجعفر روى عنه جمع - كما ذكر ابن حجر في "تهذيب التهذيب" - وذكره ابن حبان في "ثقاته". وذكر أحد في هذه الرواية، وهم، والصواب أنَّ ذلك كان في غزوة الخندق كما نبه ...» [ترقيم الرساله 7039] [ترقيم الشركة 6960] [ترقيم العلميه 6866]

الحكم على الحديث: حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں