المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
1093. نِعْمَ الْإِدَامُ الْخَلُّ
سرکہ بہترین سالن ہے
حدیث نمبر: 7048
حدَّثَناه أبو العبّاس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني عياض بن عبد الله، عن مَخْرَمة بن سليمان، عن كريب مولي ابن عباس، عن عبد الله بن عبّاس، أنَّ أم هانئ بنت أبي طالب حدثته، أنها قالت: يا رسول الله، يزعُمُ ابن أمِّي عليٌّ أنه قاتلٌ مَن أجَرتُ، فقال رسول الله ﷺ:"قد أجرنا من أجرت" (1) . حديث ثالث لعبد الله بن عباس عن أم هانئ:
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدہ ام ہانی بنت ابی طالب بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرا بھائی علی رضی اللہ عنہ اس آدمی کو قتل کرنا چاہتا ہے جس کو میں نے پناہ دی ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کو تم نے پناہ دی، وہ ہماری طرف سے بھی پناہ یافتہ ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 7048]
حدیث نمبر: 7049
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا العباس بن محمد الدوري، حدثنا الحسن بن بشر الهَمْداني، حدثنا سَعْدان بن الوليد بيَّاع السَّابِري، عن عطاء، عن ابن عباس، عن أم هانئ بنت أبي طالب قالت: قال لي رسول الله ﷺ:"هل عندكِ طعامٌ آكلُه؟" وكان جائعًا، فقلتُ: إنَّ عندي لكسرًا يابسةً، وإِنِّي لأستحيي أن أُقرِّبَها إليك، فقال:"هلُمِّيها"، فكسرتها ونشرت عليها الملح، فقال:"هل من إدام؟" فقلتُ: يا رسول الله، ما عندي إلا شيءٌ من خَلٍّ، قال:"هلُمِّيه"، فلما جئته به صبه على طعامه فأكل منه، ثم حَمِدَ الله تعالى، ثم قال:"نِعمَ الإدام الخلُّ يا أم هانئ، لا يُقفِرُ بيتٌ فيه خل" (1) . وقد روى عبد الله بن عمر بن الخطاب عن أمِّ هانئ:
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سیدہ ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں۔ (وہ فرماتی ہیں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فریایا: تمہارے پاس کوئی کھانے کی چیز ہے، (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت بھوک لگی ہوئی تھی) میں نے کہا: میرے پاس خشک گوشت ہے، اور یہ آپ کو پیش کرتے ہوئے مجھے تو شرم آتی ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لے آؤ، میں نے اس کو توڑا، اس پر نمک چھڑکا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کوئی سالن وغیرہ نہیں ہے؟ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس اس وقت سرکہ کے سوا کوئی چیز نہیں ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہی لے آؤ، میں نے سرکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش کر دیا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ سرکہ کھانے پر انڈیلا، اس کو کھایا اور اللہ کا شکر ادا کیا، پھر فرمایا: اے ام ہانی، سرکہ بہت اچھا سالن ہوتا ہے، وہ گھر کبھی برباد نہیں ہوتا جس گھر میں سرکہ موجود ہو۔ سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا سے سیدنا عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما نے بھی روایت کی ہے۔ (جیسا کہ درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 7049]