المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
1096. وَمِنْ نِسَاءِ قُرَيْشٍ اللَّاتِي رَوَيْنَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ - فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسِ بْنِ وَهْبِ بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ وَائِلِ بْنِ عَمْرِو بْنِ شَيْبَانَ بْنِ مُحَارِبِ بْنِ فِهْرٍ: حَدَّثَنِي بِصِحَّةِ هَذَا النَّسَبِ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَرْبِيُّ، ثَنَا مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ .
قریش کی وہ خواتین جو رسول اللہ ﷺ سے احادیث روایت کرنے والی ہیں، ان میں سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کا بیان
حدیث نمبر: 7054
حدثني بصحة هذا النسب أبو بكر محمد بن أحمد بن بالويه، حدثنا إبراهيم بن إسحاق الحرْبي، حدثنا مصعب بن عبد الله الزُّبيري.
سیدنا مصعب بن عبداللہ زبیری سے اس نسب کی صحت کے بارے میں روایت مروی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 7054]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 7054] [ترقيم الشركة 6974]
حدیث نمبر: 7055
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني ابن أبي الزناد، عن هشام بن عروة، عن أبيه قال: دخلتُ على مروان بن الحكم فقلتُ له: إنَّ امرأةً من أهلِكَ طُلِّقت فمررتُ عليها وهي تنتقِلُ فعِبتُ ذلك عليها، فقالوا: أمرتنا فاطمة ابنة قيس، وأخبرتنا: أنَّ رسول الله ﷺ أمرها أن تنتقل حينَ طلقها زوجها إلى ابن أم مكتوم، فقال مروان: أجَلْ، هي أمرتهنَّ بذلك، قال عُزوة: فقلتُ: أما والله لقد عابت ذلك عائشة أشدَّ العيب، وقالت: إنَّ فاطمة كانت مع زوجها في مكانٍ وَحْش، فخيف على ناحيتها، ولذلك أرخص لها رسول الله ﷺ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه بهذه السياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6881 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه بهذه السياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6881 - صحيح
ہشام بن عروہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: میں مروان بن حکم کے پاس گیا اور اسے کہا: تمہارے خاندان کی ایک خاتون کو طلاق ہو گئی ہے، میں اس کے پاس سے گزرا تو وہ (عدت کے دوران گھر سے) منتقل ہو رہی تھی، میں نے اس پر اعتراض کیا، تو لوگوں نے کہا: ہمیں فاطمہ بنت قیس نے یہ حکم دیا ہے اور ہمیں بتایا ہے کہ جب ان کے شوہر نے انہیں طلاق دی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ابن ام مکتوم کے ہاں منتقل ہونے کا حکم دیا تھا۔ مروان نے کہا: ”ہاں، انہوں نے (فاطمہ نے) انہیں اسی بات کا حکم دیا ہے۔“ عروہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: ”اللہ کی قسم! سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس پر سخت ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور فرمایا: فاطمہ (بنت قیس) اپنے شوہر کے ساتھ ایک ایسی جگہ (گھر) میں رہتی تھیں جو بستی سے دور اور ویران تھی، وہاں ان کے معاملے میں (حفاظت کا) خطرہ محسوس کیا گیا، اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں (وہاں سے منتقل ہونے کی) رخصت عطا فرمائی تھی۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے ان الفاظ کے ساتھ روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 7055]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے ان الفاظ کے ساتھ روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 7055]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل ابن أبي الزناد: وهو عبد الرحمن.» [ترقيم الرساله 7055] [ترقيم الشركة 6975] [ترقيم العلميه 6881]
الحكم على الحديث: حديث صحيح