المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
1112. ذِكْرُ فَاطِمَةَ بِنْتِ أَبِي حُبَيْشٍ وَهِيَ مِنْ بَنِي أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى، وَهِيَ خَالَةُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ الْمَكِّيِّ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - .
سیدہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا کا بیان، جو بنی اسد بن عبدالعزیٰ سے تھیں اور سیدنا عبداللہ بن ابی ملیکہ مکی رضی اللہ عنہ کی خالہ تھیں
حدیث نمبر: 7082
أخبرني عبد العزيز بن عبد الرحمن الدبَّاس بمكة، حدَّثنا محمد بن علي بن زيد الصائغ، حدَّثنا إبراهيم بن المنذر الحِزامي، حدَّثنا عمر بن عثمان التَّيْمي (2) ، عن أبيه، عن ابن شِهاب، أخبرني عُرْوة، أنَّ عائشة أخبرته: أَنَّ أَمَّ حَبيبةَ بنت جَحْش - وهي امرأةُ عبد الرحمن بن عوف، وهي أختُ زينبَ بنتِ جَحْش زوج النبيِّ ﷺ - جاءت رسولَ الله ﷺ، فحدَّثته: أنها استُحيضت سبعَ سنين، فاستفتَته في ذلك، فقال النبي ﷺ:"إنَّ هذه ليست بالحَيْضة، لكن هذا عِرْقُ، فاغتسِلي ثم صلِّي"، فكانت تغتسلُ في مِرْكَنٍ حتى تعلوَ الماءَ حُمْرةُ الدَّم، ثم تقومُ فتُصلِّي (1) . ذكرُ فاطمةَ بنت أبي حُبيش وهي من بني أَسَد (2) بن عبد العُزَّى، وهي خالة عبد الله بن أبي مُلَيكة المكي، ﵂.
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ عنہا سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی بیوی ہیں، یہ ام المومنین سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کی بہن ہیں، یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آئیں اور عرض کی کہ ان کو گزشتہ سات سالوں سے مسلسل حیض آ رہا ہے، ان کے لئے نماز کا کیا حکم ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ حیض نہیں ہے بلکہ یہ بیماری کی وجہ سے خون آ رہا ہے، تم (ہر نماز کے وقت کے لئے) غسل کر کے نماز ادا کر لیا کرو۔ اس کے بعد وہ ایک ٹب میں نہایا کرتی تھیں، جب خون کی رنگت پر پانی غالب ہو جاتی تو ٹب سے باہر آ جاتیں اور نماز پڑھ لیتی تھیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 7082]