المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
7. ذِكْرُ وَفْدِ بَنِي الْمُنْتَفِقِ
بنو منتفق کے وفد کا تذکرہ
حدیث نمبر: 7271
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مسدَّد، حدثنا يحيى بن سُليم المكي، حدثنا إسماعيل بن كثير، عن عاصم بن لَقِيط بن صَبِرة، عن أبيه، قال: كنتُ وافدَ بني المُنتِفق إلى رسول الله ﷺ، فقدِمْنا على رسول الله ﷺ فلم نصادِفْه في منزله وصادفنا عائشةَ أمَّ المؤمنين، فأمرت لنا بخَزِيرة فصُنعت لنا، وأتتنا بقِناع - والقِناعُ الطَّبَقُ فيه تمرٌ - ثم جاء رسولُ الله ﷺ فقال:"هل أصبتُم شيئًا، أو أُمِرَ لكم بشيء؟" فقلنا: نعم يا رسولَ الله. قال: فبينما نحن معَ رسولِ الله ﷺ جلوسٌ، قال: فرفع الراعي غنمَه إلى المُرَاح ومعه سَخْلةٌ تَيْعرُ، فقال رسول الله ﷺ:"ما وَلَّدْتَ يا فلانُ؟" قال: بَهْمةً، قال:"فاذبَحْ لنا مكانَها شاةً" ثم مالَ (1) عليَّ فقال:"لا تَحْسِبَنَّ - ولم يقل: لا تَحْسَبَنَّ - أنَّا من أجلِكم ذبحناها، لنا غَنَمٌ مئةٌ، ولا نريدُ أن تزيدَ، فإذا ولَّد الراعي بَهْمةً ذبَحْنا مكانَها شاةً". قال: قلتُ: يا رسولَ الله، إنَّ لي امرأَةً؛ [فذَكَرَ من طُول لسانِها وبَذَائِها، فقال:"طَلِّقها" فقلت] (2) : إنَّ لي منها ولدًا، قال:"فمُرْها - يقول: عِظُها - فإِنْ يَكُ فيها خيرٌ، فستفعلُ، ولا تَضرِبْ ظَعِينتَك كضربِك أَمَتَك". قال: قلتُ: يا رسولَ الله، أخبِرْني عن الوضوء، قال:"أَسبِغِ الوضوءَ، وخلِّلِ الأصابعَ، وبالغ في الاستنشاقِ إلَّا أن تكون صائمًا" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7094 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7094 - صحيح
عاصم بن لقیط بن صَبِرہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: میں بنو منتق کے وفد کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں روانہ ہوا، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے تو آپ کو گھر پر موجود نہ پایا البتہ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ملاقات ہوئی، انہوں نے ہمارے لیے ”خزِیرہ“ (گوشت کے ٹکڑوں اور آٹے سے تیار کردہ کھانا) تیار کرنے کا حکم دیا، پھر وہ ہمارے پاس ایک بڑا تھال لے کر آئیں جس میں کھجوریں تھیں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو دریافت فرمایا: ”کیا تم نے کچھ کھایا ہے؟ یا کیا تمہارے لیے (کھانے کا) حکم دیا گیا تھا؟“ ہم نے عرض کی: جی ہاں یا رسول اللہ، راوی کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں چرواہا اپنی بکریاں باڑے کی طرف لے آیا اور اس کے ساتھ بکری کا ایک بچہ (میمنا) منمنا رہا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”اے فلاں! (بکری نے) کیا جنا ہے؟“ اس نے عرض کی: ایک بچہ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی جگہ ہمارے لیے ایک (بڑی) بکری ذبح کرو“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”یہ ہرگز خیال نہ کرنا کہ ہم نے یہ بکری خاص تمہاری (آمد کی) وجہ سے ذبح کی ہے، بلکہ ہمارے پاس سو بکریاں ہیں اور ہم نہیں چاہتے کہ ان کی تعداد اس سے بڑھے، چنانچہ جب چرواہا کسی نئے بچے کی ولادت کی خبر لاتا ہے تو ہم اس کی جگہ (تعداد برابر رکھنے کے لیے) ایک بکری ذبح کر دیتے ہیں۔“ راوی کہتے ہیں کہ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میری ایک بیوی ہے (اور اس کی زبان درازی اور بدکلامی کا تذکرہ کیا) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے طلاق دے دو“، میں نے عرض کی: اس سے میری اولاد ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو پھر اسے حکم دو (یعنی اسے نصیحت کرو) پس اگر اس میں کچھ خیر ہوئی تو وہ ضرور (تمہاری بات) مانے گی، اور اپنی بیوی کو اس طرح نہ مارنا جیسے تم اپنی لونڈی کو مارتے ہو۔“ پھر میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! مجھے وضو کے متعلق بتائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وضو کے اعضاء کو اچھی طرح (کامل طریقے سے) دھوؤ، انگلیوں کے درمیان خلال کرو اور ناک میں پانی ڈالنے میں مبالغہ کیا کرو (یعنی اچھی طرح اوپر تک پانی پہنچاؤ) سوائے اس کے کہ تم روزے سے ہو (تو مبالغہ نہ کرو)۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 7271]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 7271]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل يحيى بن سليم.» [ترقيم الرساله 7271] [ترقيم الشركة 7189] [ترقيم العلميه 7094]
الحكم على الحديث: حديث صحيح