المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
8. رَغْبَتُهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ - إِلَى اللَّحْمِ
نبی کریم ﷺ کی گوشت کی طرف رغبت و پسندیدگی
حدیث نمبر: 7272
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الربيع بن سليمان، حدثنا أسد بن موسى، حدثنا أبو هلال محمد بن سُليم، حدثنا إسحاق بن عبد الله بن أبي طلحة، عن جابر قال: جعَلْنا للنبيِّ ﷺ فَخّارةً، فأتيتُه بها، فاطَّلع في جوفها فقال:"حَسِبتُه لحمًا" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد إن كان إسحاق بن أبي طلحة سمع من جابر، ولم يخرجاه. وفيه البيانُ الواضح لمحبَّة رسولِ الله ﷺ اللحمَ. وشاهدُه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7095 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد إن كان إسحاق بن أبي طلحة سمع من جابر، ولم يخرجاه. وفيه البيانُ الواضح لمحبَّة رسولِ الله ﷺ اللحمَ. وشاهدُه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7095 - صحيح
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مٹی کی ایک ہانڈی تیار کی، میں اسے لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے اندر جھانک کر دیکھا اور فرمایا: ”میرا خیال تھا کہ یہ گوشت ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے بشرطیکہ اسحاق بن ابی طلحہ کا سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت ہو، اور شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گوشت سے رغبت اور محبت کا واضح بیان موجود ہے، اور اس کی شاہد روایت درج ذیل ہے: [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 7272]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے بشرطیکہ اسحاق بن ابی طلحہ کا سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت ہو، اور شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گوشت سے رغبت اور محبت کا واضح بیان موجود ہے، اور اس کی شاہد روایت درج ذیل ہے: [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 7272]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل أبي هلال محمد بن سليم: وهو الراسبي.» [ترقيم الرساله 7272] [ترقيم الشركة 7190] [ترقيم العلميه 7095]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
حدیث نمبر: 7273
ما حدَّثَنيهِ أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا إسحاق بن الحسن بن ميمون و محمد بن غالب بن حرب، قالا: حدثنا عفّان بن مسلم، حدثنا أبو عَوَانة، عن الأسود بن قيس، عن نُبيح العَنَزي، عن جابر بن عبد الله قال: لما قُتل أبي ترك عليَّ دينًا، فذكر الحديثَ بطوله، وقال فيه: قلتُ لامرأتي: إنَّ رسول الله ﷺ يَجيئُنا اليومَ نصفَ النهار، فلا تؤذي رسولَ الله ﷺ ولا تُكلِّميه، قال: فدخل وفرشتُ له فراشًا ووسادة، فوضع رأسَه ونامَ (2) ، فقلتُ لمولًى لي: اذبَحْ هذه العَنَاق - وهي داجنٌ سمينة - والوَحَا والعَجَلَ، افرُغْ قبل أن يستيقظَ رسولُ الله ﷺ وأنا معك. فلم نَزَلْ فيها حتى فَرَغْنا منها وهو نائم، فقلتُ له: إنَّ رسول الله ﷺ إذا استيقظ يدعو بالطَّهور، وإني أخافُ إذا فَرَغَ أن يقومَ، فلا يَفرُغَنَّ من وُضوئه حتى تضع العَنَاقَ بين يديه. فلما قام قال:"يا جابرُ، ائتني بطَهور" فلم يَفرُغ من طُهوره حتى وضعتُ العَنَاقَ بين يديه، فنظر إليَّ فقال:"كأنَّك علمتَ حُبَّنا اللحمَ، ادعُ لي أبا بكر"، ثم دعا حواريِّيهِ الذينَ معه فدخَلُوا، فضربَ رسولُ الله ﷺ بيدِه، وقال:"باسمِ الله، كُلُوا" فأكلوا حتى شَبِعُوا، وفَضَلَ منها لحمٌ كثيرٌ، وذكر باقي الحديث (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7096 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7096 - صحيح
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب میرے والد (غزوہ احد میں) شہید ہوئے تو انہوں نے مجھ پر قرض چھوڑا، پھر انہوں نے طویل حدیث ذکر کی جس میں یہ ہے کہ (جابر رضی اللہ عنہ نے کہا:) میں نے اپنی اہلیہ سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آج دوپہر کے وقت ہمارے ہاں تشریف لائیں گے، خبردار! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی قسم کی تکلیف نہ دینا اور نہ ہی (ان کی مصروفیت یا آرام کے دوران) ان سے بات کرنا، راوی کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بستر اور تکیہ بچھا دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سرِ مبارک رکھا اور آرام فرمایا، میں نے اپنے ایک غلام سے کہا: اس میمنے (بکری کے بچے) کو ذبح کرو جو کہ گھر کا پلا ہوا اور خوب موٹا تازہ ہے، اور جلدی کرو، اس سے پہلے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوں کام سے فارغ ہو جاؤ، میں بھی تمہارے ساتھ ہوں، چنانچہ ہم اس کام میں لگے رہے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نیند سے بیدار ہونے سے پہلے ہم فارغ ہو گئے، میں نے غلام سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بیدار ہوں گے تو وضو کا پانی طلب فرمائیں گے، اور مجھے اندیشہ ہے کہ وہ وضو سے فارغ ہو کر کہیں تشریف نہ لے جائیں، لہٰذا ان کے وضو سے فارغ ہونے سے پہلے ہی یہ گوشت ان کے سامنے رکھ دینا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو فرمایا: ”اے جابر! میرے پاس وضو کا پانی لاؤ“، ابھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو سے فارغ نہیں ہوئے تھے کہ میں نے وہ گوشت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف دیکھ کر فرمایا: ”ایسا لگتا ہے کہ تمہیں گوشت سے ہماری رغبت اور محبت کا علم ہو گیا ہے، میرے پاس ابوبکر کو بلا لاؤ“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ان ساتھیوں (حواریین) کو بھی بلایا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے، وہ سب داخل ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دستِ مبارک بڑھایا اور فرمایا: ”اللہ کے نام سے (بسم اللہ کہہ کر) کھاؤ“، پس سب نے کھایا یہاں تک کہ وہ سیر ہو گئے اور اس میں سے کافی گوشت بچ بھی گیا، پھر راوی نے بقیہ حدیث ذکر کی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 7273]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 7273]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،أبو عوانة: هو الوضاح بن عبد الله اليشكري.» [ترقيم الرساله 7273] [ترقيم الشركة 7191] [ترقيم العلميه 7096]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح