🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. رغبته - صلى الله عليه وآله وسلم - إلى اللحم
نبی کریم ﷺ کی گوشت کی طرف رغبت و پسندیدگی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7271
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مسدَّد، حدثنا يحيى بن سُليم المكي، حدثنا إسماعيل بن كثير، عن عاصم بن لَقِيط بن صَبِرة، عن أبيه، قال: كنتُ وافدَ بني المُنتِفق إلى رسول الله ﷺ، فقدِمْنا على رسول الله ﷺ فلم نصادِفْه في منزله وصادفنا عائشةَ أمَّ المؤمنين، فأمرت لنا بخَزِيرة فصُنعت لنا، وأتتنا بقِناع - والقِناعُ الطَّبَقُ فيه تمرٌ - ثم جاء رسولُ الله ﷺ فقال:"هل أصبتُم شيئًا، أو أُمِرَ لكم بشيء؟" فقلنا: نعم يا رسولَ الله. قال: فبينما نحن معَ رسولِ الله ﷺ جلوسٌ، قال: فرفع الراعي غنمَه إلى المُرَاح ومعه سَخْلةٌ تَيْعرُ، فقال رسول الله ﷺ:"ما وَلَّدْتَ يا فلانُ؟" قال: بَهْمةً، قال:"فاذبَحْ لنا مكانَها شاةً" ثم مالَ (1) عليَّ فقال:"لا تَحْسِبَنَّ - ولم يقل: لا تَحْسَبَنَّ - أنَّا من أجلِكم ذبحناها، لنا غَنَمٌ مئةٌ، ولا نريدُ أن تزيدَ، فإذا ولَّد الراعي بَهْمةً ذبَحْنا مكانَها شاةً". قال: قلتُ: يا رسولَ الله، إنَّ لي امرأَةً؛ [فذَكَرَ من طُول لسانِها وبَذَائِها، فقال:"طَلِّقها" فقلت] (2) : إنَّ لي منها ولدًا، قال:"فمُرْها - يقول: عِظُها - فإِنْ يَكُ فيها خيرٌ، فستفعلُ، ولا تَضرِبْ ظَعِينتَك كضربِك أَمَتَك". قال: قلتُ: يا رسولَ الله، أخبِرْني عن الوضوء، قال:"أَسبِغِ الوضوءَ، وخلِّلِ الأصابعَ، وبالغ في الاستنشاقِ إلَّا أن تكون صائمًا" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7094 - صحيح
لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں بنی منتفق کے وفد کے ہمراہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں گھر میں نہ ملے، البتہ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا موجود تھیں، آپ نے ہمارے لئے حریرہ (دودھ گھی اور آٹے سے بنا ہوا کھانا) بنوایا، اور کھجوروں والے تھال میں ڈال کر ہمیں عطا کیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے پوچھا: تمہیں (کھانے کے لئے) کوئی چیز مل گئی ہے یا میں تمہارے لئے کچھ تیار کرواؤں؟ ہم نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں مل گیا ہے۔ (لقیط بن صبرہ) فرماتے ہیں: ہم لوگ ابھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک چرواہا اپنی بکریوں کو غلہ کی جانب لے جا رہا تھا، اس کے پاس ایک بکری کا بچہ بھی تھا جو کہ ادھر ادھر اچھل رہا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: اے فلاں، اس نے کیا جنا؟ اس نے کہا: بچہ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ہمارے لئے اس کی بجائے کوئی بکری ذبح کر لو، پھر وہ شخص ہمارے پاس آیا اور اس نے کہا: لا تحسبن۔ (اس نے لا یحسبن نہیں کہا) یہ نہ سمجھنا کہ میں نے خاص طور پر یہ آپ کے لئے ذبح کی ہے۔ بلکہ اصل بات یہ ہے کہ ہمارے پاس 100 بکریاں ہیں اور ہم اس سے بڑھانا نہیں چاہتے۔ (اس لئے جو زائد ہے وہ میں نے ذبح کر کے آپ کو پیش کر دی ہے) چرواہا بھیڑ کے بچے کو پالنے کے لئے لے گیا، اور ہم نے اس کی بجائے بکری ذبح کر لی۔ آپ فرماتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، میری ایک بیوی ہے، پھر اس کی زبان درازی، اور بدخلقی کا ذکر کیا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو طلاق دے دے۔ میں نے کہا: اس سے میری اولاد بھی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو کہو: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: اس کو نصیحت کرو، اگر اس میں کوئی بھلائی ہوئی تو وہ سدھر جائے گی اور تم اپنی بیوی کو لونڈی کی طرح مت مارا کرو۔ آپ فرماتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ مجھے وضو کے بارے میں کچھ بتایئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وضو اچھے طریقے سے کرو، انگلیوں کے درمیان خلال کرو، ناک جھاڑنے میں مبالغہ کرو، سوائے اس کے کہ تم روزے سے ہو (یعنی اگر روزہ رکھا ہوا ہو تو ناک میں پانی چڑھانے میں مبالغہ نہ کرو۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأطعمة/حدیث: 7271]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7271 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: قال.
📌 اہم نکتہ: قلمی نسخوں میں یہاں تحریف ہو کر لفظ "قال" لکھا گیا ہے۔
(2) ما بين المعقوفين لم يرد في نسخنا الخطية، وأثبتناه من المطبوع، وبنحوه في مصادر التخريج.
📌 اہم نکتہ: بریکٹ [ ] کے درمیان موجود الفاظ ہمارے قلمی نسخوں میں نہیں تھے، ہم نے انہیں مطبوعہ نسخوں اور دیگر مصادرِ تخریج کی روشنی میں شامل کیا ہے۔
(3) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل يحيى بن سليم.
⚖️ درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے، اور یحییٰ بن سلیم کی وجہ سے یہ سند "حسن" ہے۔
وأخرجه أبو داود (142)، وابن حبان (1054) من طرق عن يحيى بن سليم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام ابو داؤد (142) اور ابن حبان (1054) نے یحییٰ بن سلیم کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وانظر من سنف برقم (532) و (1950).
📖 حوالہ / مصدر: مزید تفصیل کے لیے سابقہ احادیث رقم (532) اور (1950) ملاحظہ فرمائیں۔
الخَزيرة: لحم يقطَع صغارًا ويُصبّ عليه ماء كثير، فإذا نضج وضع عليه الدقيق.
📌 اہم نکتہ: "الخزیرہ" اس کھانے کو کہتے ہیں جس میں گوشت کے چھوٹے ٹکڑے کر کے زیادہ پانی میں پکایا جاتا ہے اور پکنے کے بعد اس میں آٹا شامل کر دیا جاتا ہے۔
والبَهْمة: ولد الضأن. وتَيعَرَ: أي: تصيح.
📝 نوٹ / توضیح: "البہمہ" بھیڑ کے بچے کو کہتے ہیں، اور "تیعر" کا مطلب ہے "آواز نکالنا یا ممیا نا"۔