🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

20. لَا يَمْسَحْ أَحَدُكُمْ يَدَهُ بِالْمِنْدِيلِ حَتَّى يَلْعَقَ يَدَهُ
تم میں سے کوئی اپنے ہاتھ رومال سے نہ پونچھے جب تک انہیں چاٹ نہ لے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7303
أخبرَناه أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن حاتم الفقيه البخاري بنَيسابور، حدثنا صالح بن محمد بن حَبيب البغدادي، حدثنا عبّاد بن يعقوب الرَّوَاجِني، حدثنا عبد الرحمن بن محمد بن عبيد الله الفَزَاري، حدثني أبي، عن عطاء، عن جابر قال: قال رسول الله ﷺ:"أَبرِدُوا الطعامَ الحارَّ، فإنَّ الطعامَ الحارَّ غيرُ ذي بَرَكَةٍ" (1) .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کھانے کو ٹھنڈا کر لیا کرو، اس لئے کہ (بہت زیادہ) گرم کھانے میں برکت نہیں ہوتی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 7303]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7304
أخبرنا محمد بن أحمد بن تَميم القَنطَري، حدثنا أبو قِلابة، حدثنا أبو عاصم، أخبرنا ابن جُريج، أخبرني أبو الزُّبير، عن جابر بن عبد الله، أنه سمع النبيَّ ﷺ يقول:"لا يَمْسَحْ أحدُكم يدَه بالمِنْديل حتى يَلعَقَ يدَه، فإنَّ الرجلَ لا يدري في أيِّ طعامِه يُبارَكُ له، وإنَّ الشيطان يَرصُدُ النَّاسَ - أو الإنسانَ - على كلِّ شيء حتى عند طعامِه" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذه السياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7126 - على شرط مسلم
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اپنے ہاتھوں کو رومال کے ساتھ صاف کرنے سے پہلے چاٹ لیا کرو، کیونکہ انسان کو نہیں پتا کہ کھانے کے کون سے حصے میں برکت ہے اور شیطان تو انسان کے لئے ہر وقت ہر چیز میں حتیٰ کہ کھانے کے وقت بھی گھات میں رہتا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 7304]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7305
أخبرنا أبو زكريا يحيى بن محمد العنبري، حدثنا أبو بكر محمد بن النَّضْر الجارودي (1) ، حدثنا أحمد بن مَنِيع، حدثنا يعقوب بن الوليد، حدثنا ابن أبي ذِئب، عن سعيد بن أبي سعيد المَقُبري، قال: سمعتُ أبا هريرة يقول: قال رسولُ الله ﷺ:"إِنَّ الشيطان حسَّاسٌ لحَّاسٌ، فاحذَروه على أنفسِكم، من باتَ وفي يده رِيحٌ فأصابه شيءٌ، فلا يَلُومنَّ إلَّا نفسَه" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه الألفاظ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7127 - بل موضوع
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: شیطان حساس ہے (بہت جلد محسوس کرنے والا) لحاس (چاٹنے والا) ہے، اس لئے خود کو اس سے بچایا کرو، جس شخص کے ہاتھ پر رات کے وقت (کھانے کی کسی چیز کی) خوشبو رہ گئی ہو اور اسے کوئی نقصان پہنچ جائے (کیڑا وغیرہ کاٹ جائے) تو وہ اپنے سوا کسی کو ملامت نہ کرے۔ (کیونکہ اس کا ذمہ دار وہ خود ہے) ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کو ان الفاظ کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 7305]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں