المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
2. حِكَايَةُ إِسْلَامِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ
سیدنا رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کا قصہ
حدیث نمبر: 7426
أخبرنا أبو محمد عبد الله بن جعفر بن دَرَستوَيهِ الفارسي، حدثنا أبو يوسف يعقوب بن سفيان، حدثنا أبو توبة الربيع بن نافع الحلبي، حدثنا محمد بن المهاجر، عن العباس بن سالم، عن أبي سلَّام (1) ، عن أبي أُمامة، عن عمرو بن عَبَسة قال: أتيتُ رسولَ الله ﷺ في أول ما بُعِث وهو بمكة، وهو حينئذٍ مُستخفٍ، فقلتُ: ما أنت؟ قال:"أنا نبيٌّ" قلت: وما النبيُّ؟ قال:"رسولُ الله" قلتُ: بما أرسلَك؟ قال:"بأن يُعبَدَ اللهُ، وتُكسَرَ الأوثانُ، وتُوصَلَ الأرحامُ بالبِرِّ والصِّلَة" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7240 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7240 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلان نبوت کے بالکل اوائل میں جب آپ مکہ مکرمہ میں تھے، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، ان دنوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم خفیہ تبلیغ فرماتے تھے، میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: آپ کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نبی ہوں، میں نے کہا: نبی کیا ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کا رسول ہوتا ہے، میں نے پوچھا: اللہ تعالیٰ نے آپ کو کیا پیغام دے کر بھیجا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کہ اللہ کی عبادت کی جائے، بتوں کو توڑ دیا جائے، رشتہ داروں کے ساتھ نیکی اور صلہ رحمی کا سلوک کیا جائے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ/حدیث: 7426]