🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

20. مَنْ هَجَرَ أَخَاهُ سَنَةً فَهُوَ كَسَفْكِ دَمِهِ
جس نے اپنے بھائی سے سال بھر قطع تعلقی رکھی، یہ ایسا ہی ہے جیسے اس کا خون بہایا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7478
حدّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدّثنا الربيع بن سليمان، حدّثنا أَسد بن موسى، حدّثنا سعيد بن سالم، عن ابن جُريج، عن شُرَحبيل (2) - يعني ابن مسلم - أنه سمع ابن عباس يقول: قال رسول الله ﷺ:"لا تَحِلُّ الهجرةُ فوقَ ثلاثة أيام، فإن الْتَقَيا فسلَّم أحدُهما على الآخر، فرَدَّ عليه الآخرُ السلامَ، اشتَرَكا في الأجر، وإن أبى الآخرُ أن يرُدَّ السلامَ، بَرِئَ هذا من الإثم وباءَ به الآخر"، وأحسبه قال: وإن ماتا وهما مُتهاجِرانِ، لا يَجتمِعانِ في الجنَّة" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7291 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تین دن سے زیادہ قطع تعلقی جائز نہیں ہے۔ اگر (روٹھے ہوئے) دونوں افراد کا آمنا سامنا ہو، اور ان میں سے ایک فرد سلام میں پہل کرے اور دوسرا جواب دے، تو دونوں کو برابر ثواب ملے گا، اور اگر سامنے والا سلام کا جواب نہ دے تو یہ پہل کرنے والا گناہ سے بری ہو گیا اور دوسرا گنہگار ٹھہرا۔ راوی کہتے ہیں میرا خیال ہے کہ اس کے بعد یہ بھی فرمایا کہ: اگر وہ دونوں ناراضگی کے عالم میں فوت ہو جائیں تو وہ دونوں جنت میں جمع نہیں ہو سکتے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ/حدیث: 7478]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7479
أخبرنا الحسين بن الحسن بن أيوب، حدّثنا أبو يحيى بن أبي مَسَرَّة، حدّثنا عبد الله بن يزيد المُقرئ، حدّثنا حَيْوة، حدَّثني أبو عثمان بن أبي الوليد، أنَّ عِمران بن أبي أنس حدَّثه عن أبي خِراش السُّلمي، أنه سمع رسولَ الله ﷺ يقول:"مَن هَجَرَ أخاه سَنةً، فهو كسَفكِ دِمه" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7292 - صحيح
سیدنا ابوخراش رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے اپنے بھائی سے ایک سال تک قطع تعلقی رکھی، گویا کہ اس نے اس کو قتل کر دیا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ/حدیث: 7479]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں