المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
31. الْمَرْءُ عَلَى دِينِ خَلِيلِهِ فَلْيَنْظُرْ مَنْ يُخَالِلُ
انسان اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے، لہذا دیکھو کہ تم کس سے دوستی کر رہے ہو
حدیث نمبر: 7506
حدّثنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهد الأصبهانيّ، حدّثنا أحمد بن يونس الضبيِّ بأصبهان، حدّثنا أبو بدر شُجَاع بن الوليد، قال: سمعتُ زياد بن خيثمة يُحدِّث عن أبيه، عن ابن عمر قال: قال رسول الله ﷺ:"إِنَّ الله عبادًا ليسوا بأنبياءَ ولا شهداءَ، يَغبِطُهم [النبيُّون والشهداء] (1) يوم القيامة بقربهم ومجلسهم منه"، فجَثَا أعرابيٌّ على رُكبتيه، فقال: يا رسولَ الله، قوم ليسوا بأنبياءَ ولا شهداءَ، يَغبِطُهم الأنبياءُ والشهداءُ بقُربِهم من الله تعالى ومجلسِهم منه! صفهم لنا وجَلِّهم لنا، قال:"قومٌ من أفناءِ الناس من نُزَّاع القبائل تَصَافَوا في الله، وتَحابُّوا فيه، يضعُ اللَّهُ ﷿ لهم يوم القيامة منابرَ من نور، يَخافُ الناسُ ولا يَخافُون، هم أولياء الله ﷿ الذين لا خوفٌ عليهم ولا هم يَحزَنون" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7318 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7318 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ کے کچھ ایسے بندے بھی ہیں، جو نہ تو نبی ہیں اور نہ ہی شہید ہیں، لیکن قیامت کے دن ان کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں جو قرب کا مقام ملے گا، اس پر نبی اور شہید رشک کریں گے۔ ایک دیہاتی شخص اپنے گھٹنوں اور پاؤں کی انگلیوں کے بل دو زانوں ہو کر کہنے لگا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، آپ ان لوگوں کی نشانیاں بھی ہمیں بتا دیجئے، اور ان کا حلیہ بھی ہمیں بتا دیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ لوگ قبائل کے جھگڑوں میں اللہ کی رضا پر راضی رہنے والے ہوں گے، وہ اللہ کی رضا کی خاطر ایک دوسرے کو تحائف دیں گے، اللہ کی رضا کی خاطر ایک دوسرے سے محبت کریں گے، قیامت کے دن ان کے لئے نور کے منبر بچھائے گا، لوگ اس دن خوفزدہ ہوں گے لیکن یہ لوگ نہیں گھبرائیں گے۔ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے وہ دوست ہوں گے جن کو نہ اس دنیا میں کوئی خوف ہے اور نہ وہ قیامت میں پریشان ہوں گے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ/حدیث: 7506]
حدیث نمبر: 7507
حدّثنا أبو عمرو عثمان بن أحمد الدَّقّاق ببغداد، حدّثنا جعفر بن الزِّبرِقان، حدّثنا أبو عامر العَقَديّ، حدّثنا زهير بن محمد العَنَبريّ، حدَّثني موسى بن وَرْدان، أنه سمع أبا هريرة يقول: قال رسول الله ﷺ:"المرءُ على دينِ خَليلِه، فليَنظُرْ أحدُكم من يُخالُّ" (1) . وقد رُوي عن أبي الحُباب سعيد بن يسار عن أبي هريرة:
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے، اس لئے دوست بناتے وقت اس کے دینی معاملات دیکھ لینے چاہئیں۔ یہی حدیث ابوحباب سعید بن یسار نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ/حدیث: 7507]