المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
30. لِلَّهِ عِبَادٌ يَغْبِطُهُمُ النَّبِيُّونَ وَالصِّدِّيقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
اللہ کے کچھ ایسے بندے ہیں جن پر قیامت کے دن انبیاء اور صدیقین بھی رشک کریں گے
حدیث نمبر: 7503
حدّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا العباس بن الوليد بن مَزْيَد، أخبرني أَبي، حدَّثني الأوزاعيّ، عن ابن حَلْبس، عن أبي إدريس عائذِ الله، قال: مرَّ رجلٌ فقمتُ إليه، فقلتُ: إِنَّ هذا حدَّثني بحديثِ رسول الله ﷺ، فهل سمعته؛ يعني معاذًا؟ قال: ما كان يُحدِّثُك إلا حقًّا، فأخبرتُه، فقال: قد سمعت هذا من رسول الله ﷺ؛ يعنيّ:"المتحابِّين في الله يُظلُّهم الله في ظِلِّ عرشِه يوم لا ظِلَّ إلَّا ظِلُّه"، وما هو أفضلَ منه، قلتُ: أَيْ رَحِمَك الله، وما هو أفضل منه؟ قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يَأْثُر عن الله ﷿ قال:"حَقَّتْ محبَّتي للمتحابِّين فيّ، وحَقَّت محبَّتي للمتواصِلين فيَّ، وحَقَّت محبَّتي للمتزاوِرين فيَّ، وحَقَّت محبتي للمتباذِلِين فيّ"، ولا أدري بأيَّتِهما بدأَ، قلتُ: مَن أنت رَحِمَك الله؟ قال: أنا عُبادة بن الصامت (1) . وهذا إسناد صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7315 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7315 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
ابوادریس عائذ اللہ فرماتے ہیں: ایک آدمی میرے قریب سے گزرا، میں اس کے لئے کھڑا ہو گیا، میں نے کہا: اس شخص نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث سنائی ہے، کیا تم نے وہ سنی ہے؟ اس نے کہا: وہ جو کچھ بھی تمہیں سناتا تھا سب حق ہوتا تھا، میں نے ان کو بتایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث اس سے سنی ہے (وہ حدیث یہ ہے) ” جو لوگ اللہ کی رضا کی خاطر ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں اللہ تعالیٰ قیامت کے دن جب اس کو اپنے عرش کے سائے میں جگہ عطا فرمائے گا جس دن اس کے سائے کے علاوہ دوسرا کوئی سایہ نہ ہو گا “۔ اور ایک حدیث اس سے بھی زیادہ فضیلت والی سنی ہے، میں نے کہا: اللہ تعالیٰ تجھ پر رحمت فرمائے، اس سے بھی زیادہ فضیلت والی بات کیا ہے؟ اس نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ” وہ دو آدمی میری محبت کے حقدار ہیں جو میری رضا کے لئے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں، اور میری محبت کے حقدار ہیں وہ لوگ جو میری رضا کی خاطر ایک دوسرے سے ملتے ہیں، اور میری محبت کے حقدار ہیں وہ لوگ جو میری رضا کے لئے ایک دوسرے سے ملنے جاتے ہیں، اور میری محبت کے حقدار ہیں وہ لوگ جو مجھے خوش کرنے کے لئے ایک دوسرے پر خرچ کرتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں: مجھے یہ یاد نہیں ہے کہ ان جملوں میں سے کس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گفتگو کا آغاز فرمایا تھا۔ میں نے پوچھا: اللہ تعالیٰ تم پر رحمت فرمائے، تم کون ہو؟ انہوں نے کہا: میں عبادہ بن صامت ہوں۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ/حدیث: 7503]
حدیث نمبر: 7504
حدّثنا أحمد بن كامل القاضي، حدّثنا محمد بن سعد العَوْفيّ، حدّثنا سعيد بن عامر، حدّثنا شُعبة. أخبرَناه أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدّثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدَّثني أبي، حدّثنا محمد بن جعفر، حدّثنا شُعبة، عن يعلى بن عطاء، عن الوليد بن عبد الرحمن، عن أبي إدريس الخولانيّ، قال: جلستُ مجلسًا فيه عِشرون من أصحاب محمد ﷺ، فإذا فيهم شابٌّ حسنُ الوجه، حسنُ السِّنّ، أدعج العينين، أغَرُّ الثَّنايا، فإذا اختُلفوا في شيء فقالوا قولًا، انتهَوْا إلى قوله، فإذا هو معاذُ بن جبل، فلمّا كان من الغدِ جئتُ، فإذا هو يُصلِّي عند ساريةٍ، فحَذَفَ صلاته ثم احتَبَى فسكتَ، فقلتُ: إِنِّي لأُحبُّك من جَلال الله، فقال: اللهِ؟ فقلت: الله، فقال: فإنَّ المتحابِّين في الله - قال: أحسبُ أنه قال: في ظِلِّ الله يومَ لا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّه، ثم ليس في بقيّته شك - يُوضَع لهم كراسيُّ من نور، يَغبِطُهم بمجلسِهم من الربِّ ﵎ النبيُّون والصِّدِّيقون والشهداءُ. قال: فحدَّثتُ به عُبادةَ بن الصامت فقال: لا أُحدِّثك إِلَّا ما سمعتُ على لسان رسول الله ﷺ، إنه قال:"حَقَّتْ محبّتي للمتحابِّين فيَّ، وحَفَّت محبَّتي للمتباذِلين فيَّ، وحَقَّت محبَّتي للمتصافِينَ فيَّ، وحَقَّت محبَّتي للمتزاوِرين فيَّ، وحَقَّتْ محبَّتي للمتواصلين فيَّ"؛ شكّ شعبةُ في المتواصلين والمتزاورين (1) . و
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وقد رواه عطاء الخُراساني عن أبي إدريس الخولانيّ:
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وقد رواه عطاء الخُراساني عن أبي إدريس الخولانيّ:
ابوادریس خولانی فرماتے ہیں: میں ایک مجلس میں بیٹھا تھا، اس مجلس میں بیس کے قریب اصحاب رسول موجود تھے، ان میں ایک نوجوان حسین و جمیل شخص بھی موجود تھا، جس کے دانت بھی خوبصورت اور چمکیلے تھے، آنکھیں بڑی بڑی اور کالی تھیں، سامنے کے دانت چمکدار تھے۔ جب ان لوگوں کا کسی سلسلہ میں اختلاف ہوتا یا کوئی بات کرتے تو اس کی انتہاء اسی نوجوان کی بات پر ہوتی، وہ نوجوان سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ تھے، جب اگلا دن ہوا تو میں وہاں آیا، وہ مجھ سے بھی پہلے وہاں پر ایک ستون کے قریب محو نماز تھے، انہوں نے نماز مختصر کی، اور چادر لپیٹ کر خاموش ہو کر بیٹھ گئے، میں نے ان سے کہا: میں اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے تم سے محبت کرتا ہوں، انہوں نے کہا: کیا تم اللہ کی قسم کھا کر یہ کہتے ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں، میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں۔ انہوں نے کہا: جو لوگ اللہ کی رضا کے لئے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں (راوی کہتے ہیں میرا خیال ہے کہ انہوں نے اس موقع پر یہ لفظ کہے تھے) وہ لوگ قیامت کے دن اللہ کے (عرش کے) سائے میں ہوں گے جبکہ اس کے (عرش کے) سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہو گا۔ (اس کے آگے جو حدیث بیان کی ہے اس میں ان کو کوئی شک نہیں ہے وہ یہ ہے) ان کے لئے نور کی کرسیاں رکھی جائیں گی، اللہ تبارک و تعالیٰ کی بارگاہ میں ان کو جو مقام ملے گا اس پر نبی، صدیقین اور شہداء بھی رشک کریں گے۔ پھر میں نے سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کو حدیث سنائی۔ انہوں نے کہا: میں تمہیں صرف وہ چیز سنا رہا ہوں جو میں نے زبان مصطفی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو لوگ میری رضا کے لئے آپس میں محبت کرتے ہیں، وہ میری محبت کے حقدار ہو گئے، اور جو لوگ میری خوشی کے لئے ایک دوسرے پر مال خرچ کرتے ہیں وہ میری محبت کے حقدار ہو گئے، اور جو لوگ میری رضا کے لئے ایک دوسرے کو تحائف دیتے ہیں، وہ میری محبت کے حقدار ہو گئے، اور جو لوگ مجھے خوش کرنے کے لئے ایک دوسرے سے ملنے جاتے ہیں، وہ میری محبت کے حقدار ہو گئے، اور جو لوگ میری رضا کی خاطر ایک دوسرے سے ملتے ہیں وہ میری محبت کے حقدار ہو گئے، سیدنا شعبہ کو متواصلین اور متزاورین کے الفاظ میں شک ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اسی حدیث کو عطاء خراسانی نے بھی ابوادریس خولانی سے روایت کیا ہے (جیسا کہ درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ/حدیث: 7504]
حدیث نمبر: 7505
حدثناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدّثنا الربيع بن سليمان، حدّثنا بشر بن بكر، حدَّثني ابن جابر، حدّثنا عطاء الخُراسانيّ، قال: سمعتُ أبا إدريس الخَوْلاني يقول: دخلتُ مسجد حِمص، فجلستُ في حَلْقة كلُّهم يُحدِّث عن رسول الله ﷺ، وفيهم فتًى شاب إذا تكلَّم أنصت القومُ، وإذا حدث رجلًا منهم أنصتَ له، فتفرَّقوا ولم أعلم مَن ذلك الفتى، ثم ذكر الحديثَ بطوله (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7316 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7316 - على شرط البخاري ومسلم
عطاء خراسانی کہتے ہیں: میں نے ابوادریس خولانی کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے ” میں حمص کی مسجد میں داخل ہوا، میں ایک حلقے میں بیٹھا، اس حلقے میں سب لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث بیان کر رہے تھے، ان میں ایک نوجوان بھی موجود تھا، جب وہ بولتا تو سب خاموش ہو جاتے، اور اگر مجلس میں سے کوئی اور شخص بولتا تو اس کو اس نوجوان کی خاطر خاموش کروا دیا جاتا، یہ حلقہ ختم ہو گیا لیکن مجھے ابھی تک یہ پتا نہ چل سکا تھا کہ وہ نوجوان کون ہے، اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث بیان کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ/حدیث: 7505]