🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

33. حَقُّ الزَّوْجِ عَلَى الزَّوْجَةِ
بیوی پر شوہر کے حقوق کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7512
حدّثنا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدّثنا محمد بن المغيرة السُّكريّ، حدّثنا القاسم بن الحَكَم العُرَنيّ، حدّثنا سليمان بن أبي سليمان، عن يحيى بن أبي كثير، عن أبي سلمة، عن أبي هريرة قال: جاءتِ امرأةٌ إلى رسول الله ﷺ، فقالت: يا رسولَ الله، أنا فلانةُ بنت فلان، قال:"قد عرفتُكِ، فما حاجَتُكِ؟" قالت: حاجَتي أَنَّ ابن عمِّي فلانٌ العابدُ، قال رسول الله ﷺ:"قد عرفتُه" قالت: يَخطُبُنيّ، فأخبِرْني ما حقُّ الزَّوج على الزوجة، فإن كان شيءٌ أطيقُه تزوجتُه، وإن لم أُطِقْه لا أتزوَّجُ، قال:"من حقِّ الزَّوج على الزوجة أن لو سالَ دمًا وقَيحًا وصَديدًا فلَحسَتْه بلسانها، ما أدَّتْ حقَّه، ولو كان ينبغي لبشرٍ أن يَسجُدَ لبشرٍ، لأمرتُ الزوجة أن تسجُدَ لزوجها إذا دخل عليها، لِمَا فَضَّلَه الله تعالى عليها" قالت: والذي بعثك بالحقِّ لا أتزوَّجُ ما بقيتُ في الدنيا (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7324 - بل سليمان هو اليماني ضعفوه
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں فلاں بن فلاں کی بیٹی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تجھے پہچان لیا ہے، بتا تیری کیا حاجت ہے؟ اس نے عرض کیا: میری حاجت یہ ہے کہ میرا چچا زاد فلاں بڑا عبادت گزار ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے اسے بھی پہچان لیا۔ اس نے کہا: وہ مجھے نکاح کا پیغام دے رہا ہے، پس آپ مجھے بتائیے کہ بیوی پر شوہر کا کیا حق ہے؟ اگر وہ ایسا حق ہوا جس کی میں طاقت رکھتی ہوں تو میں اس سے نکاح کر لوں گی، اور اگر مجھے طاقت نہ ہوئی تو نکاح نہیں کروں گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیوی پر شوہر کا حق یہ ہے کہ اگر اس کے جسم سے خون، پیپ اور کچ لہو بہہ رہا ہو اور بیوی اسے اپنی زبان سے چاٹ لے، تب بھی اس نے اس کا حق ادا نہیں کیا۔ اور اگر کسی انسان کے لیے روا ہوتا کہ وہ کسی دوسرے انسان کو سجدہ کرے، تو میں عورت کو حکم دیتا کہ جب اس کا شوہر اس کے پاس آئے تو وہ اسے سجدہ کرے، اس فضیلت کی وجہ سے جو اللہ تعالیٰ نے اسے (شوہر کو) بیوی پر عطا کی ہے۔ عورت نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے! میں جب تک دنیا میں زندہ رہوں گی، کبھی نکاح نہیں کروں گی۔
امام حاکم نے فرمایا کہ اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن امام بخاری اور امام مسلم نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ/حدیث: 7512]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًّا، من أجل سليمان بن أبي سليمان: وهو ابن داود اليماميّ، وهو ما رجَّحه الخطيب البغدادي في "موضح الأوهام" 1/ 119، ووهَّم من جعله اثنين كالبخاري» [ترقيم الرساله 7512] [ترقيم الشركة 7420] [ترقيم العلميه 7324]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدًّا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7513
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدّثنا أحمد بن مَهدي بن رُستُم الأصفهانيّ، حدّثنا معاذ بن هشام الدَّسْتُوائيّ، حدَّثني أبيّ، حدَّثني القاسم بن عَوف الشَّيبانيّ، عن ابن أبي ليلى، عن أبيه، عن معاذ بن جبل: أنه أتى الشامَ، فرأى النصارى يسجدون لأساقِفَتِهم وقِسِّيسيهِم وبَطارقَتِهم، ورأى اليهودَ يسجدون لأحبارهم وربّانِيهم وعلمائِهم وفقهائِهم، فقال: لأيِّ شيء تفعلون هذا؟ قالوا: هذه تحيةُ الأنبياءِ ﵈، قلتُ: فنحن أحقُّ أن نَصنَعَ بنبيِّنا، فقال نبي الله ﷺ:"إنهم كَذَّبوا على أنبيائهم كما حرَّفوا كتابَهم، لو أمرتُ أحدًا أن يَسجُدَ لأحدٍ، لأَمرتُ المرأةَ أن تسجدَ لزوجِها من عِظَمِ حقِّه عليها، ولا تجدُ امرأةٌ حلاوةَ الإيمان حتى تؤدِّيَ حقَّ زوجِها، ولو سألها نفسَها وهي على ظهرِ قَتَبٍ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7325 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ ملکِ شام گئے تو انہوں نے دیکھا کہ عیسائی اپنے پادریوں، راہبوں اور سرداروں کو سجدہ کرتے ہیں، اور یہودیوں کو دیکھا کہ وہ اپنے احبار، ربانیوں، علماء اور فقہاء کو سجدہ کرتے ہیں۔ تو انہوں نے (ان سے) کہا: تم یہ کس لیے کرتے ہو؟ انہوں نے جواب دیا: یہ انبیاء علیہم السلام کا سلام (طریقہ تحیت) ہے۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: تو ہم اس بات کے زیادہ حقدار ہیں کہ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایسا کریں۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہوں نے اپنے انبیاء پر جھوٹ باندھا ہے جیسا کہ انہوں نے اپنی کتاب میں تحریف کی ہے، اگر میں کسی کو حکم دینے والا ہوتا کہ وہ کسی کو سجدہ کرے، تو میں عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے، کیونکہ اس کا بیوی پر بہت بڑا حق ہے۔ اور کوئی بھی عورت اس وقت تک ایمان کی مٹھاس نہیں پا سکتی جب تک کہ وہ اپنے شوہر کا حق ادا نہ کر دے، یہاں تک کہ اگر شوہر اس سے اس کے نفس کا مطالبہ کرے اور وہ اونٹ کے کجاوے پر ہو تب بھی اسے انکار نہیں کرنا چاہیے۔
امام حاکم نے فرمایا کہ یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ/حدیث: 7513]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لاضطرابه، فقد اضطرب فيه القاسم بن عوف الشيباني» [ترقيم الرساله 7513] [ترقيم الشركة 7421] [ترقيم العلميه 7325]

الحكم على الحديث: حديث حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7514
حدَّثني محمد بن صالح بن هانئ، حدّثنا السَّري بن خُزَيمة، حدّثنا عبد العزيز بن الخطّاب، حدّثنا حِبَّان (2) بن عليّ، عن صالح بن حَيَّان، عن عبد الله ابن بريدة، عن أبيه: أنَّ رجلًا أتى النبيّ ﷺ فقال: يا رسولَ الله، علِّمني شيئًا أزدادُ به يقينًا، قال: فقال:"ادْعُ تلك الشجرةَ"، فدعا بها فجاءت حتى سلَّمت على النبيِّ ﷺ، قال لها:"ارجِعيّ"، فرجعت، قال: ثم أَذِنَ له فقبَّل رأسَه ورِجلَيه، وقال:"لو كنتُ آمرًا أحدًا أن يسجُدَ لأحدٍ، لأَمرتُ المرأةَ أن تسجُدَ لزوجِها" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7326 - بل واه
سیدنا عبداللہ بن بریدہ اپنے والد (سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسی نشانی دکھائیے جس سے میرے یقین میں اضافہ ہو جائے۔ راوی کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس درخت کو بلاؤ۔ اس نے اسے بلایا تو وہ درخت چل کر آ گیا یہاں تک کہ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: واپس لوٹ جاؤ۔ تو وہ واپس چلا گیا۔ راوی کہتے ہیں: پھر اس شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگی اور آپ کے سر اور قدموں کو بوسہ دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں کسی کو حکم دینے والا ہوتا کہ وہ کسی کو سجدہ کرے، تو میں عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔
امام حاکم نے فرمایا کہ اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن امام بخاری اور امام مسلم نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ/حدیث: 7514]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، بمرّة لضعف حبان بن عليّ: وهو العنزي ولضعف صالح بن حيان: وهو القرشي الكوفيّ، ووهّاه الذهبي في "التلخيص"» [ترقيم الرساله 7514] [ترقيم الشركة 7422] [ترقيم العلميه 7326]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں