المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
33. حَقُّ الزَّوْجِ عَلَى الزَّوْجَةِ
بیوی پر شوہر کے حقوق کا بیان
حدیث نمبر: 7511
حدّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدّثنا محمد بن سنان القزَّاز، حدّثنا أبو عاصم، حدّثنا مبارك بن فَضَالة، عن ثابت، عن أنس قال: قال رسول الله ﷺ:"ما تحابَّ رجلان في الله تعالى، إِلَّا كان أفضلهُما أشدَّ حبًّا لصاحبِه" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7323 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7323 - صحيح
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو دو شخص ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں، ان میں جو زیادہ محبت کرتا ہے وہ دوسرے سے افضل ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ/حدیث: 7511]
حدیث نمبر: 7512
حدّثنا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدّثنا محمد بن المغيرة السُّكريّ، حدّثنا القاسم بن الحَكَم العُرَنيّ، حدّثنا سليمان بن أبي سليمان، عن يحيى بن أبي كثير، عن أبي سلمة، عن أبي هريرة قال: جاءتِ امرأةٌ إلى رسول الله ﷺ، فقالت: يا رسولَ الله، أنا فلانةُ بنت فلان، قال:"قد عرفتُكِ، فما حاجَتُكِ؟" قالت: حاجَتي أَنَّ ابن عمِّي فلانٌ العابدُ، قال رسول الله ﷺ:"قد عرفتُه" قالت: يَخطُبُنيّ، فأخبِرْني ما حقُّ الزَّوج على الزوجة، فإن كان شيءٌ أطيقُه تزوجتُه، وإن لم أُطِقْه لا أتزوَّجُ، قال:"من حقِّ الزَّوج على الزوجة أن لو سالَ دمًا وقَيحًا وصَديدًا فلَحسَتْه بلسانها، ما أدَّتْ حقَّه، ولو كان ينبغي لبشرٍ أن يَسجُدَ لبشرٍ، لأمرتُ الزوجة أن تسجُدَ لزوجها إذا دخل عليها، لِمَا فَضَّلَه الله تعالى عليها" قالت: والذي بعثك بالحقِّ لا أتزوَّجُ ما بقيتُ في الدنيا (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7324 - بل سليمان هو اليماني ضعفوه
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7324 - بل سليمان هو اليماني ضعفوه
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک خاتون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آئی، اور کہنے لگی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں فلانہ بنت فلاں ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تجھے پہچانتا ہوں، تم کس لئے آئی ہو؟ اس نے کہا: میرا کام یہ ہے کہ میرے چچا کا فلاں بیٹا عبادت گزار ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اسے بھی جانتا ہوں، اس خاتون نے کہا: اس نے مجھے پیغام نکاح بھیجا ہے، آپ مجھے بتائیے کہ بیوی پر اپنے شوہر کے کیا حقوق ہیں؟ اگر وہ میرے بس میں ہوئے تو میں نکاح کروں گی ورنہ نہیں کروں گی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیوی پر شوہر کے حقوق میں سے یہ بھی ہے کہ اگر شوہر کے جسم سے خون اور پیپ بہہ رہی ہو اور بیوی اپنی زبان کے ساتھ اسے چاٹے، تب بھی وہ اس کا حق ادا نہیں کر پائی۔ اس نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں ساری زندگی شادی نہیں کروں گی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ/حدیث: 7512]
حدیث نمبر: 7513
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدّثنا أحمد بن مَهدي بن رُستُم الأصفهانيّ، حدّثنا معاذ بن هشام الدَّسْتُوائيّ، حدَّثني أبيّ، حدَّثني القاسم بن عَوف الشَّيبانيّ، عن ابن أبي ليلى، عن أبيه، عن معاذ بن جبل: أنه أتى الشامَ، فرأى النصارى يسجدون لأساقِفَتِهم وقِسِّيسيهِم وبَطارقَتِهم، ورأى اليهودَ يسجدون لأحبارهم وربّانِيهم وعلمائِهم وفقهائِهم، فقال: لأيِّ شيء تفعلون هذا؟ قالوا: هذه تحيةُ الأنبياءِ ﵈، قلتُ: فنحن أحقُّ أن نَصنَعَ بنبيِّنا، فقال نبي الله ﷺ:"إنهم كَذَّبوا على أنبيائهم كما حرَّفوا كتابَهم، لو أمرتُ أحدًا أن يَسجُدَ لأحدٍ، لأَمرتُ المرأةَ أن تسجدَ لزوجِها من عِظَمِ حقِّه عليها، ولا تجدُ امرأةٌ حلاوةَ الإيمان حتى تؤدِّيَ حقَّ زوجِها، ولو سألها نفسَها وهي على ظهرِ قَتَبٍ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7325 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7325 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: وہ ملک شام میں گئے تو انہوں نے دیکھا وہاں پر نصاریٰ اپنے اساقفہ، قسیسین اور بطارق کو سجدے کرتے ہیں، اور یہودیوں کو دیکھا کہ وہ اپنے احبار، رہبان، ربانیین، علما اور فقہاء کو سجدے کرتے ہیں، آپ نے پوچھا کہ وہ لوگ ان کو سجدے کیوں کرتے ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ انبیاء کی عبادت کا طریقہ ہے میں نے کہا: تب تو ہم زیادہ حق رکھتے ہیں کہ ہم اپنے نبی کے ساتھ ایسا کریں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہوں نے اپنے نبیوں کے بارے میں جھوٹ بولا ہے جیسا کہ انہوں نے ان کی کتابوں میں تحریف کی ہے۔ اگر میں کسی غیراللہ کو سجدہ کرنے کی اجازت دیتا تو بیوی کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے کیونکہ اس پر شوہر کا بہت زیادہ حق ہے۔ اور کوئی عورت عبادت کی حلاوت نہیں پا سکتی جب تک کہ وہ اپنے شوہر کا حق ادا نہ کرے، اگرچہ شوہر اپنی بیوی کی خواہش اس حال میں کرے جب کہ وہ عورت کجاوہ میں بیٹھی ہو۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ/حدیث: 7513]