المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
44. مَا مِنْ مُسْلِمٍ تُدْرِكُ لَهُ ابْنَتَانِ إِلَّا أَدْخَلَتَاهُ الْجَنَّةَ
جس مسلمان کی دو بیٹیاں جوان ہو جائیں (اور وہ ان سے بھلائی کرے)، وہ اسے جنت میں لے جائیں گی
حدیث نمبر: 7537
أخبرنا علي بن محمد بن عُقبة الشَّيباني بالكوفة، حدّثنا إبراهيم بن إسحاق القاضيّ، حدّثنا محمد بن عُبيد الطنافسي، حدَّثني محمد بن عبد العزيز الراسِبيّ، عن أبي بكر بن عبيد الله بن أنس، عن أنس قال: قال رسول الله ﷺ:"مَن عالَ جاريتَينِ حتى تُدرِكا، دخلت الجنةَ أنا وهو كهاتَينِ - وأشار بإصبعيه السَّبّابةِ والوُسطى - وبابانِ مُعجَّلانِ عقوبتهما في الدنيا: البَغْيُ والعُقوقُ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7350 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7350 - صحيح
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے دو بیٹیوں کی کفالت کی حتیٰ کہ ان کی شادی کر دی، اور وہ جنت میں یوں داخل ہوں گے (یہ فرماتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی درمیانی اور شہادت کی انگلی ملا کر اشارہ فرمایا) اور دو گناہ ایسے ہیں جن کی سزا دنیا میں بھی ملتی ہے۔ اور وہ ہے ” بغاوت اور ماں باپ کی نافرمانی “۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ/حدیث: 7537]
حدیث نمبر: 7538
أخبرنا أبو الطيِّب محمد بن علي بن الحسن (1) الحِيريّ، حدّثنا محمد بن عبد الوهاب بن حَبيب، حدّثنا يعلى بن عُبيد، حدّثنا فِطر بن خَليفة، قال: كنتُ جالسًا عند زيد بن علي بالمدينة، فمرَّ عليه شيخٌ يقال له: شُرَحبيل أبو سعد، فقال له زيد: من أين جئتَ يا أبا سعد؟ قال: من عند أميرِ المدينة، حدّثتُه بحديث، قال: فحدِّثْ به القومَ، قال: سمعتُ ابن عباس يقول: قال رسول الله ﷺ:"ما مِن مسلمٍ تُدرِكُ له ابنتانِ فيُحسِنُ إليهما ما صَحِبَتاه أو صَحِبَهما، إِلَّا أَدخَلَتاه الجنَّةَ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
فطر بن خلیفہ بیان کرتے ہیں: میں مدینہ منورہ میں امام زید رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، ان کے پاس سے شرحبیل ابوسعد نامی ایک بزرگ کا گزر ہوا، سیدنا زید نے ان سے پوچھا: اے ابوسعد تم کہاں سے آ رہے ہو؟ انہوں نے بتایا کہ میں امیر مدینہ کے پاس سے آ رہا ہوں، میں نے ان کو ایک حدیث سنائی ہے، انہوں نے کہا: تو وہ حدیث آپ دیگر لوگوں کو بھی سنا دیجئے، انہوں نے کہا: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس مسلمان کی دو بیٹیاں ہوں، وہ ان کی اچھی کفالت کرے، ان کے ساتھ حسن سلوک کرے، وہ لڑکیاں اس کو جنت میں لے جائیں گی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ/حدیث: 7538]