المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
44. ما من مسلم تدرك له ابنتان إلا أدخلتاه الجنة
جس مسلمان کی دو بیٹیاں جوان ہو جائیں (اور وہ ان سے بھلائی کرے)، وہ اسے جنت میں لے جائیں گی
حدیث نمبر: 7538
أخبرنا أبو الطيِّب محمد بن علي بن الحسن (1) الحِيريّ، حدّثنا محمد بن عبد الوهاب بن حَبيب، حدّثنا يعلى بن عُبيد، حدّثنا فِطر بن خَليفة، قال: كنتُ جالسًا عند زيد بن علي بالمدينة، فمرَّ عليه شيخٌ يقال له: شُرَحبيل أبو سعد، فقال له زيد: من أين جئتَ يا أبا سعد؟ قال: من عند أميرِ المدينة، حدّثتُه بحديث، قال: فحدِّثْ به القومَ، قال: سمعتُ ابن عباس يقول: قال رسول الله ﷺ:"ما مِن مسلمٍ تُدرِكُ له ابنتانِ فيُحسِنُ إليهما ما صَحِبَتاه أو صَحِبَهما، إِلَّا أَدخَلَتاه الجنَّةَ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
فطر بن خلیفہ بیان کرتے ہیں: میں مدینہ منورہ میں امام زید رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، ان کے پاس سے شرحبیل ابوسعد نامی ایک بزرگ کا گزر ہوا، سیدنا زید نے ان سے پوچھا: اے ابوسعد تم کہاں سے آ رہے ہو؟ انہوں نے بتایا کہ میں امیر مدینہ کے پاس سے آ رہا ہوں، میں نے ان کو ایک حدیث سنائی ہے، انہوں نے کہا: تو وہ حدیث آپ دیگر لوگوں کو بھی سنا دیجئے، انہوں نے کہا: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس مسلمان کی دو بیٹیاں ہوں، وہ ان کی اچھی کفالت کرے، ان کے ساتھ حسن سلوک کرے، وہ لڑکیاں اس کو جنت میں لے جائیں گی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب البر والصلة/حدیث: 7538]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7538 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تحرّف في النسخ الخطية إلى: الحسين، وجاء على الصواب في "إتحاف المهرة" (7722).
📝 نوٹ / توضیح: (1) قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف ہو کر "الحسین" بن گیا ہے، جبکہ درست نام "إتحاف المهرة" (7722) میں آیا ہے۔
(2) صحيح بما قبله، وهذا إسناد ضعيف من أجل شرحبيل أبي سعد: وهو ابن سعد الخطمي.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) یہ روایت ماقبل کی بنا پر صحیح ہے، البتہ یہ سند شرحبیل ابو سعد (ابن سعد خطمی) کی وجہ سے ضعیف ہے۔
وأخرجه أحمد 4/ (2104)، وابن ماجه (3670)، وابن حبان (2945) من طرق عن فطر بن خليفة، بهذا الإسناد. واقتصروا فيه على المرفوع دون القصة.
📖 حوالہ / مصدر: اس کی تخریج احمد (4/ 2104)، ابن ماجہ (3670) اور ابن حبان (2945) نے فطر بن خلیفہ کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ کی ہے، اور انہوں نے قصہ ذکر کرنے کے بجائے صرف مرفوع حصے پر اکتفا کیا ہے۔
وأخرجه أحمد (5/ 3424) من طريق عكرمة، عن شرحبيل، به.
📖 حوالہ / مصدر: اور اسے امام احمد (5/ 3424) نے عکرمہ کے طریق سے، انہوں نے شرحبیل سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔